آپ آف لائن ہیں
پیر19؍ذی الحج 1441ھ 10؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بلاشبہ برہان مظفر وانی نے اپنے خون سے جدوجہد آزادی کو نئی جلا اور زندگی بخشی ہے۔برہان وانی 2011 ء میں اس وقت حزب المجاہدین میں شامل ہوئے جب کہ ان کی عمر صرف پندرہ سال تھی۔جذبہ حریت سے سرشار برہان وانی کے بھائی خالد وانی کو 2015ء میں بھارتی غاصب فوجیوں نے اس وقت شہید کیا جب وہ اپنے تین دوستوں کے ساتھ برہان سے ملاقات کے لئے جا رہے تھے۔برہان وانی کشمیر کو اسرائیل فلسطین کے طرز پر بدلنے،کشمیر میں ہندوئوں کی آباد کاری اور کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ و جابرانہ قبضہ کے شدید مخالف تھے۔برہان مظفر وانی بلاشبہ فرزند کشمیر تھے۔اپنی جدوجہد اور کشمیر کی آواز دنیا تک پہنچانے کی وجہ سے ان کو حزب المجاہدین کا کمانڈر بنا دیا گیااور وہ غالباً سب سے کم عمر کمانڈر تھے۔اس سے ان کی شجاعت اور جدوجہد کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔برہان وانی نے کئی بار بھارتی سورمائوںکو نہ صرف ناکوں چنے چبوائے بلکہ متعدد بھارتی فوجیوں کو جہنم رسید بھی کیا ۔برہان وانی بھارتی فوجیوں اور پولیس کے لئے خوف کی علامت بن چکے تھے۔اس لئے بھارتی حکومت نے ان کے سر کی قیمت دس لاکھ روپے مقرر کی تھی۔

شہادت کے وقت ان کی عمر 22سال تھی۔7جولائی 2016ء کی رات کو برہان وانی ضلع اننت ناگ(اسلام آباد) کے ایک گائوں ہمدورا میں ایک ساتھی کے ساتھ ان کے ماموں کے گھر پہنچے جس نے ان کی دعوت کی تھی۔ساتھی کے بدبخت ماموں نے صرف دس لاکھ روپے کے عوض کشمیر کے اس عظیم سپوت کا سودا طے کیا تھا۔برہان وانی کے ساتھی کو بھی اس دھوکے کا کوئی علم نہیں تھا۔ورنہ شاید وہ پہلے ہی اپنے اس غدار وطن ماموں کو جہنم رسید کر دیتا۔کھانا کھانے کے بعد باہر سے شور اور اعلانات کی آوازیں بلند ہوئیں جس میں برہان وانی کو ہتھیار پھینکنے اور اپنے آپ کو فوج کے حوالے کرنے کا حکم دیا جا رہا تھا۔برہان وانی سمجھ گئے کہ بھارتی فوجی درندوں نے ان کو چاروں طرف سے گھیر لیا ہے۔لیکن اس بہادری اور شجاعت کے پیکر نوجوان مجاہد نے شکست تسلیم کرنے سے انکار کیا اور شہادت کو ترجیح دی۔بھارتی فوجیوں نے نہ صرف چاروں طرف سے گولیوں کی بوچھاڑ شروع کر دی ۔گولیوں اور بموں کی برسات بھی اس نوجوان کشمیری مجاہد کا حوصلہ اور جذبہ غیرت و حریت کو پست نہ کر سکی۔برہان وانی اور ان کا ساتھی سینکڑوں فوجیوں اور پولیس والوں کا جو جدید ہتھیاروں اور گولہ بارود سے لیس تھے کا بڑی بے جگری سے مقابلہ کرتے رہے اور یہ مقابلہ کئی گھنٹے تک جاری رہا۔اور آخر کار دونوں کشمیری مجاہد جام شہادت نوش کر گئے۔برہان مظفر وانی نے شہادت کا عظیم مرتبہ تو حاصل کر لیا لیکن ساتھ ہی ساتھ تحریک آزادی میں نئی روح پھونک گئے۔گزشتہ روز آزادی کشمیر کے اس عظیم نوجوان مجاہد کی چوتھی برسی نہایت عقیدت و احترام سے منائی گئی۔حریت رہنمائوں کی اپیل پر پوری مقبوضہ وادی میں مکمل ہڑتال رہی۔نوجوانوں نے اس موقع پر آزادی مارچ کیا اور برہان وانی کو سلام عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ غاصب بھارت سے آزادی اور پاکستان کے حق میں نعرے لگائے۔بزدل بھارتی فوجی اس موقع پر بھی سینکڑوں نوجوانوں کو گرفتار کر کے نا معلوم مقام پر لے گئے۔

مودی کو اب اپنے موذی ایجنڈے سے باز آنا چاہئے لیکن شاید وہ بھارت کی بربادی کا تہیہ کر چکے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی غاصب فوجیوں اور پولیس کے ہاتھوں قتل و غارت،غیر قانونی حراست،تشدد، اور املاک کی تباہی اور خواتین کی بے حرمتی جیسے شرمناک اور انسانیت سوز واقعات جاری ہیں۔ہزاروں کشمیری سراسر نا کردہ گناہ میں پابند سلاسل ہیں۔تحریک حریت کے اہم ترین رہنما یاسین ملک،شبیر احمد شاہ اور آسیہ اندرابی بھی طویل عرصہ سے غیر قانونی حراست میں ہیں۔ان رہنمائوں کو دوران حراست شہید کرنے کے لئے ان کی خوراک میں مضر صحت اجزاء کے استعمال کا احتمال ہے اوراسی وجہ سے ان کی صحت اور زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔پاکستان کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے کے لئے دنیا کے ہر فورم پر اپنی کوششوں میں مسلسل مصروف ہے۔پاکستان کی ان کوششوں میں چین کا بھی بہت اہم کردار ہے۔لیکن انسانی حقوق کی علمبرداری کا دعویٰ کرنے والے ممالک امریکہ،برطانیہ اور فرانس بھارت کے ساتھی بنے ہوئے ہیں۔یہ ممالک اور بعض عرب ممالک معاشی مفادات کے حصول کے لئے مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔80لاکھ انسانوں کے حقوق کی پامالی اور انسانیت سوز مظالم پر دنیا کی خاموشی نہ صرف انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہے بلکہ بھارت کی طرف سے ان مظالم کو جاری رکھنے کے سہولت کار اور انسانیت کے دامن پر بدنماداغ بھی ہیں۔