آپ آف لائن ہیں
جمعرات 15؍ ذی الحج 1441ھ6؍اگست2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کیخلاف وکلاء، علماء اور تاجر یکجا ہو گئے

راولپنڈی / لاہور / پشاور /شجاع آباد / کراچی (نمائندگان جنگ ) نیب کے ہاتھوں جنگ اور جیو میڈیا گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن کی غیر قانونی گرفتاری کیخلاف وکلاء ، علماء اور تاجر یکجا ہوگئے اور احتجاج کا سلسلہ راولپنڈی ، لاہور ، پشاور ، شجاع آباد سمیت کئی شہروں میں جاری رہا اور مقررین نے عدالتی فیصلہ مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم جمہوریت اور آزادی صحافت پر حملہ کرنے والوں کوکامیاب نہیں ہونے دیں گے ،ہمیں عدالت عالیہ سے ضمانت کی بڑی امید تھی مگر وہ پوری نہیں ہوئی ہم اس کے خلاف اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کریں گے اور اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری بغیر کسی جواز کے اور آزادی صحافت پر حملہ ہے۔ ان مظاہروں میں مذہبی رہنماؤں ، سیاسی رہنماؤں ، سینئر صحافیوں ، جنگ، جیو اور دی نیوز کے کارکنوں نے شرکت کی ، مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری، میڈیا پر پابندی اور صحافیوں کے معاشی قتل عام کیخلاف نعرے درج تھے علاوہ ازیں جنگ جیو ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں شرکاء نے کہاکہ میرشکیل الرحمٰن کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہیں، انہیں فوری رہا کیا جائے۔ادھر چیئرمین کراچی ہاکی ایسو سی ایشن گلفراز احمد خان نے کہا ہے کہ میرشکیل الرحمٰن کی گرفتاری آئین اور قانون کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ تفصیلات کے مطابق جنگ راولپنڈی کے باہر مری روڈ پربدھ کو احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔ مقررین نے کہاکہ اسکرپٹ لکھنے والے ناکام ہوں گے۔ میر شکیل الرحمن کے خلاف سازش کی بو آرہی لیکن فتح میر شکیل الرحمن کی ہی ہوگی۔میر شکیل الرحمن کا کوئی جرم نہیں اور یہ ایک ذاتی انا کا مسئلہ لگ رہا ہے۔ پشاور میں جنگ گروپ کے دفاتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد کیا گیا جس میں پشاور پریس کلب، خیبر یونین آف جرنلسٹس ،جنگ، جیو اور دی نیوز کے صحافیوں نے شرکت کی ، مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر میر شکیل الرحمان کی گرفتاری، میڈیا پر پابندی اور صحافیوں کے معاشی قتل عام کیخلاف نعرے درج تھے۔لاہور میں ڈیوس روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ شجاع آباد سے نامہ نگارکےمطابق وکلاء، علماء اور تاجروں نے جنگ/جیو کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتقامی کارروائیاں کسی صورت مناسب نہیں۔ بغیر ٹھوس شواہد کسی کو اتنے روز تک قید رکھنا غیر قانونی ہے۔ علاوہ ازیں جنگ جیو ایکشن کمیٹی کاجوائنٹ اجلاس بدھ کوراولپنڈی یونین آفس میں ہوا جس میں راولپنڈی یونین سی بی کے صدر اور راولپنڈی میرشکیل الرحمانی رہائی ایکشن کمیٹی کے چیئرمین ناصر چشتی، جنرل سیکرٹری خالد محمود، جنگ پبلی کیشنز ایمپلائز یونین (سی بی اے) کے جنرل سیکرٹری اور میرشکیل الرحمان رہائی ایکشن کمیٹی کراچی کے کنونیر شکیل یامین کانگا ، دی نیوزیونین سی بی اے کراچی کے جنرل سیکرٹری دارا ظفر جاوید پریس یونین کراچی کے جنرل سیکرٹری رانا محمد یوسف ،جنگ یونین راولپنڈی کے ڈاکٹر عمران فاروق، اور دیگر نے شرکت کی۔ شرکاء نے کہا کہ ایڈیٹر انچیف جنگ جیو میرشکیل الرحمان کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہیں، دنیا بھر کی صحافتی تنظیمیں میرشکیل الرحمان کی رہائی کیلئے اپیلیں کرچکی ہیں لیکن حکومت پاکستان دنیا بھر میں اپنا مذاق اڑ وا رہی ہے۔ ادھر چیئرمین کراچی ہاکی ایسوسی ایشن گلفراز احمد خان نے کہا ہے کہ میرشکیل کی گرفتاری کی کراچی کے تمام باشعور عوام بھرپور مذمت کرتے ہیں اور اسے حکومتی بزدلی سے تعبیر کرتے ہیں۔ ہزاروں لوگوں کا روزگار اس ادارے سے وابستہ ہے ظلم بند کریں اور میرشکیل کو فوری رہا کیا جائے۔

یورپ سے سے مزید