آپ آف لائن ہیں
ہفتہ17؍ذی الحج 1441ھ8؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

باعث ندامت اورقابل فخرتاریخ

روزِآشنائی
تنویرزمان خان:لندن
گزشتہ دنوں 5 جولائی کو دو ایسے واقعات منائے گئے جن میں ایک کو دیکھ اورسوچ کر گردان ندامت سے جھک گئی دوسرے کو دیکھا اور سوچا توا نسانیت نے فخر سے سر اٹھالیا۔شرم اور ندامت والی 5 جولائی پاکستان کے 1977میں میںتھی جب عوام کی آزادی اور جمہوری حقوق پر کالا کپڑا ڈالا گیا اور رسی کھینچ دی گئی۔ یہ جنرل ضیاء کی آمد تھی، جس نے منافقت کا وہ چہرہ دکھایاکہ ملک آج تک اپنے اوپر تنی جھوٹ کی چادر اتارہی نہیں سکا ۔اس کا اور کیا ذکر کروں کہ میرے تو قلم کی سیاہی بھی احتجاج کررہی ہے کہ مجھ سے منحوس الفاظ کیوں لکھے جارہے ہو۔ کوئی فخر والی اور انسان دوست بات لکھو ۔ اس دوسری بات کا تعلق پاکستان سے نہیں غیر برطانیہ سے ہے۔ جہاں 1948 میںنیشنل ہیلتھ سروس کی بنیاد رکھی گئی جس کی آج کل برطانیہ میں 72ویں سالگرہ منائی جارہی ہے۔ نیشنل ہیلتھ سروس NSHکے عظیم آدرش کو تین بنیادی اصولوں پر عملی شکل میں کھڑا کیا گیا۔1۔ ہر شہری کی صحت کی ضروریات پوری ہوں۔ 2۔یہ سروس سب کیلئے مفت دستیاب ہو۔3۔یہ سروس ہر ضرورت مند کے گھر تک خود پہنچے۔ کیا عظیم خیال تھا کہ جس پر اتنی بڑی انسانیت دوست پیشرفت کی گئی۔ یہ اس وقت کے انگلینڈ کے وزیر صحت اینیورن بیون Aneurin Bevanنے مانچسٹر کے پارک ہسپتال سے شروع کیا۔ اسی مناسبت سے اس ہسپتال کو NHSکی جائے پیدائش یا جنم بھومی بھی کہا جاتا ہے۔ اس سے پہلے انگلینڈ میںغریب اور امیر کیلئے ناہموار نظام صحت موجود تھا۔ امیروں کو گھر میں یا نرسنگ ہوم میں علاج ملتا تھا جبکہ غریب کو خیراتی اداروں پر انحصار کرنا پڑتا ۔1911 میںفلائیڈ جارج چانسلر نے نیشنل ہیلتھ انشورنس کا آغاز کیا تھا۔ جس کے تحت بعدازاں پر ایک کی انکم میںسے سالانہ ٹیکس کے طور پر کٹوتی ہوا کرتی تھی۔ یہ کٹوتی کا سلسلہ 1919 میں ورلڈ وار کے بعد شروع ہوا لیکن یہ ہیلتھ انشورنس کی سہولت صرف انہی کو ملتی تھی جو ہیلتھ انشورنس کٹواتے تھے۔NHSکا سہرا دوسری جنگ عظیم کے بعد لیبر پارٹی آف یوکے نے اقتدار میںآنے کے بعد اپنے ماتھے پر سجایا۔ وگرنہ پہلے خیراتی ادارے جنہیں پرائیوٹ سیکٹر چلانا تھا وہ اپنے صوابدیدی طریقے سے غریب کی مدد کرتے تھےکیونکہ HNSکا بنیادی خیال صرف ٹیکس دینے والوں کیلئے نہیں تھا۔ بلکہ یہ مفت ہیلتھ سروس پرخاص و عام کیلئے بلاکسی تفریق اور طبقے کے تھی اس لئے ٹو ری پارٹی کےاندر اس نیشنل ہیلتھ کے بل کے خلاف بھاری رائے پائی جاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی کنزرویٹوز اس مفتNHSکےخلاف ہیں۔ وہ آج بھی یہی سمجھتے ہیں کہ یہ نیشنل ہیلتھ کی سروس صرف انہی کو ملنا چاہیے جو سسٹم کو ٹیکس کی شکل ہی کچھ نہ کچھ ادا بھی کرتے ہیں۔ بہر حال اس وقت چار علیحدہ علیحدہ ہیلتھ کئیر سسٹم قائم کئے گئے۔ انگلینڈ، ویلز،سکاٹ لینڈ اور آئرلینڈ کے علیحدہ ہیلتھ سسٹم بنے۔ جب اس سسٹم کی بنیادی رکھی جارہی تھی تو 1946میں ڈاکٹروں کی بڑی تعداد نے اس ہیلتھ کئیر سسٹم کی مخالفت کی۔ چرچل ذاتی طور پر تو اس بل کے حق میں تھا کہ کنزرویٹوز نے اکیس بار اس بل کی مخالفت کی ۔ بہت سے خیراتی ادارے ، چرچ اور لوکل اتھارٹیز کو یہ NHSقطعی طور پر قابل قبول نہیں تھی۔ وہ نہیںچاہتے تھے کہ ہسپتالوں پر گورنمنٹ کا کنٹرول ہووہ اسے سوشلسٹ پالیسی سمجھتے تھے۔ اس وقت کی لندن کاؤنٹی کونسل نے بھی اس کی بھرپور مخالفت کی تھی۔ ڈاکٹر حضرات حکومت کے ملازمین بننے سے سخت نالاں تھے۔ یہ ایک بہت اہم بات تھی، کیونکہ ڈاکٹروں کی شمولیت کے بغیرتو نیشنل ہیلتھ سروس کا نظام چل ہی نہیں سکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت حکومت کو بہت سے نکات پر ڈاکٹروں کےساتھ مصالحت کرنی پڑی جس میںجی پی کی سرجری سروس پرائیوٹ بزنس ہی رہی جسے خریدا اور بیچا جاسکتا تھا۔ کنسلٹنٹ کو پرائیوٹ پریکٹس کی اجازت تھی۔ دانتوں کے ڈاکٹروں کیلئے بھی اسی طرح کے قوانین وضع کئے گئے۔ اس وقت کے وزیر صحت اور بانیNHSکو یہ تمام مصالحتی اقدامات پسند تو نہیں تھے لیکن اس نےنیشنل ہیلتھ سروس کو چالو کرنے کیلئے اتنے بڑے بڑے Compromisesکئے۔جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ NHSکانظام ایسے ہی اعلان کرنے سے چالو نہیںہوگیا بلکہ اس نے اتنا عوام دوست اور انسان دوست ہونے کے باوجودبڑی بڑی مخالفتوں کے بعد قبولیت کی جگہ بنائی۔ عوام کیلئے تو یہ ایک انمول آسمانی من و سلویٰ تھاجو کہ دراصل مزدور جدوجہد کی دین تھا، کنزرویٹو اور ڈاکٹرز نے تو اس کی یہاں تک مخالفت کی کہ 1948میںجب اس کی مجوزہ قانون سازی کیلئے برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن میںووٹ ڈالے گئے تو پنتالیس ہزار ڈاکٹروں میں سے صرف ساڑھے چار ہزار نے NHSکے حق میں ووٹ ڈالے۔جس کا مطلب ہے کہ NHSکوکئی سا ل تک پرائیوٹ سیکٹرکے ساتھ لڑنا پڑااور پرائیوٹ سیکٹر اس کی راہ میںروڑے اٹکاتا رہا لیکن وقت نے ثابت کیا کہ نیشنل ہیلتھ سروس ایک ایسی نعمت ہے جس کے عوام دل و جان سے شکرگزار ہیں۔ آج اس کے 72 سال پورے ہونے پر لیبر ہویا کنزرویٹو ۔ لیکن NHSکی سالگرہ کی تقریبات کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔بورس جانسن جو کہ NHSکی پرائیویٹائزیشن کے حق میںتھا۔ اب کورونا کے مرض میںمبتلا ہونے کے بعد اس کی عملی طور پر سالگرہ منانے میںپیش پیش ہے۔ آج برطانیہ کے لوگNHS کیلئے اور اسے مضبوط کرنے کےلئے ترانے اور نغمے گاتے پھرتے ہیں۔ تالیں بجاتے اور ڈانس کرتے پھرتےہیں۔ کووڈ19نے NHSکو زندگی اور انسان کا مسیحا بناکے سامنے لاکھڑا کیا ہے۔
یورپ سے سے مزید