آپ آف لائن ہیں
اتوار18؍ذی الحج 1441ھ 9؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

یورپی یونین بحالی فنڈ کو سرحد پار منصوبوں پر توجہ دینی چاہئے

برلسز: جم برنسن، سیم فلیمنگ

لکسمبرگ کے وزیر خزانہ نے خبردار کیا ہے کہ یورپ کو حقیقی سرحد پار قابل قدر پروجیکٹس پراپنے 750 ارب یورو مالیت کے کووڈ کے بعد بحالی کے اخراجات پر توجہ دینی ہوگی،انہوں نے کہا کہ فنڈز پر قومی مباحثے کی وجہ سے وسیع مقاصد کو پٹری سے اترنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔

یوروگروپ کے آئندہ صدر بننے کے تین امیدواروں میں سے ایک وزیرخزانہ پیئری گرامگنا نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ منصوبوں میں جانے والی رقم کی بحالی کی اہمیت جو واقعتاََ براعظم کی ہریالی اور ڈیجیٹل منتقلی کی امداد کرتے ہیں،اسے کافی حد تک انہیں اجاگر نہیں کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جیسا کہ ہم سیکڑوں اربوں یورو کے بارے میں بات کررہے ہیں،جن کی اس جڑواں منتقلی میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے،مجھے لگتا ہے کہ یہ ضروری ہے کہ ہمارے پاس اس سرمایہ کاری کے لئے ایک یورپی جہت ہو جس کی ہم مالی اعانت کرنا چاہتے ہیں۔ہمیں ان سرمایہ کاریوں کو صرف قومی بنیاد پر نہیں دیکھنا چاہئے کہ اس ملک کو کیا حاصل ہوتا ہے،اس دوسرے ملک کو کیا ملتا ہے۔ہمارے پاس بھی سرحد پار حکمت عملی ہونی چاہئے کہ اس رقم کو کیسے خرچ کیا جاتا ہے۔

اس رقم کا خرچ اور یوروزون کی بحالی کی وسیع کوششیں، آئندہ یوروگروپ کے صدر کے سب سے اہم امور ہوں گے۔یورپی یونین کے رہنما آئندہ ہفتے کے آخر میں ملاقات کریں گے تاکہ منصوبوں پر معاہدوں کی کوشش کی جاسکے ، جو بلاک کے آئندہ سات سالہ بجٹ پر بات چیت کے ساتھ طے ہوجائیں گے۔

مذاکرات میں زیادہ تر توجہ بحالی کی رقم کی تقسیم کے لئے مختص معیار پر توجہ مرکوز رہی ہے کہ یورپی یونین سرمائے کی منڈیوں سے قرض لے گی، قومی سفارت کار دستاویز پر دستاویز لگائے ہوئے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سے مخصوص ممالک کی جانب سرمائے کے بہاؤ پر بالواسطہ اثر پڑ سکتا ہے۔

ان منصوبوں کو یورپی یونین کے بجٹ میں شامل کچھ اہم شراکت داروں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا ہے، نام نہاد کفایت شعار چاروںڈنمارک، آسٹریا، نیدرلینڈ اور سویڈن، جو برسلز کے قرضوں کی بجائے گرانٹ میں وصولی کی رقم کا کافی حصے کی ادائیگی کے منصوبے کے خلاف ہیں۔

پیئری گرامگنا کے اپنے ملک کے مستحکم اقتصادی بنیادی اصولوں کا مطلب یہ ہے کہ یورپی یونین کے بحالی فنڈ کے ایک بہت بڑے وصول کنندہ ہونے کا امکان نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ اس رقم کا استعمال مؤثر ہونے کی ضرورت ہے۔

جب آپ ڈیجیٹل منتقلی کے بارے میں سوچتے ہیں تو اس کے بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں سوچتے ہیں تو یہ بیکار ہے کہ ایک ملک کچھ کرتا ہے اور دیگر متعدد ممالک ایسا نہیں کرتے ہیں۔

یوروزون میں سب سے طویل عرصے تک کام کرنے والے وزرائے خزانہ میں سے ایک پیئری گرامگنا کو بہرحال یورو گروپ مقابلے میں کمزور امیدوار کے طور پر دیکھا جاتا ہے،جو جمعرات کو وزراء کے ووٹ ڈالنے کے بعد سامنے آجائے گا۔

پرتگال کے موجودہ صدر ماریئو سینٹینو کے مقابلے سے نکلنے کے بعد ان کی جگہ لینے والے دیگر امیدواروں میں اسپین کی نادیہ کالویانو کو فرانس، جرمنی اور اٹلی کی حمایت حاصل ہے، اور آئرلینڈ کے پاسچال ڈونوہو جو یورپی یونین کے بڑے دائیں بازو کی سیاسی جماعت یورپی پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں ۔

ان میں سے جو بھی کامیاب ہوتا ہے یوروزون میں پالیسی سازی میں سب سے اہم کردار ادا کرے گا، جس میں ادارے کے ماہانہ اجلاسوں کی صدارت کرنا جو اقتصادی استحکام سے لے کر خودمختار ضمانتوں کی سیاست تک سب کچھ سنبھالتا ہے۔

پیئری گرامگنا نے یوروزون کے خودمختار قرضوں کے بحران کے تجربہ کار اور گروپ کے مختلف ارکان میں پل بنانے والے کی حیثیت سے اپنے ریکارڈ کی نشاندہی کی۔

انہوں نے بحیثیت پیشہ ور سفارت کار اپنے پس منظر کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ میں ان تینوں میں سب سے تجربہ کار وزیر خزانہ ہوں، یوروگروپ میں چھ سال سے زیادہ عرصہ رہا، یورو کے بحران، یونانی بحران سے گذرا اور تمام اہم فیصلوں کا حصہ رہا ۔

اس سوال پر کہ آیا وہ پاسچال ڈونوہوجو ایک چھوٹے، معاشی طور پر آزاد خیال ملک سے ہیں، کو بھی اس کی نگرانی پر مامور کررہے ہیں،پیئری گرامگنا نے کہا کہ اس بات کا استدلال کیا جاسکتا ہے کہ لکسمبرگ نے کچھ پالیسی امور پر زیادہ لچک دکھائی ہے، جس میں فرانسیسی حمایت حاصل ہے جس میں یورپی ڈیجیٹل ٹیکس کے بارے میں منصوبہ بندی کی گئی ہے ۔

پیئری گرامگنا نے کہا کہ آئندہ مہینوں میں یوروگروپ کے ایجنڈے پر معاشی بحالی واحد مسئلہ ہوگا۔ انہوں نے کہا معاشی مشکلات جاری ہیں، جن میں کرنسی کا شعبے کی بینکاری یونین کی تکمیل، یورپیئن کی واحد سرمایہ کار مارکیٹ بنانے اور یورو کے بین الاقوامی کردار کو فروغ دینے کے کام شامل ہیں۔

2008 کی مالیاتی تباہی کے بعد تناؤ کے برسوں کا حوالہ دیتے ہوئےانہوں نے کہا کہ یورو نے اپنے نوعمی کے بحران پر قابو پالیا ہے۔اگر ہم بین الاقوامی کشیدگی کو دیکھتے ہیں جو یورپ اور امریکا کے مایبن،امریکا اور چین کے درمیان اور چین اور یورپ کے درمیان بھی ایک خاص حد تک موجود ہے،یورو ، یورو کے علاقے اور یورپی یونین کو مستحلم بنا نا ہی ہمارے لئے اپنے براعظم کو مستحکم بنانے کا واحد راستہ ہے۔

فنانشل ٹائمز سے مزید