آپ آف لائن ہیں
جمعہ7؍صفر المظفّر 1442ھ 25؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

یورپی یونین رہنماؤں کا میراتھن اجلاس کے بعد 750ارب یورو بحالی فنڈ کا معاہدہ

برسلز: سیم فلمنگ

مہرین خان اور جم برنسڈن

یورپی یونین کے رہنماؤں نے تاریخی کورونا وائرس سے بحالی کے پیکج پر ایک معاہدہ کیا ہے جس میں یورپی یونین کا پہلی بار سرمائے کی منڈی سے بڑے پیمانے پر قرض لینا شامل ہے۔

کئی روز کے تلخ مباحثے کے بعد بلاک کے سربراہان نے 750 بلین ڈالر کے پیکیج پر اتفاق کیا جس کا مقصد یورپی یونین کو وبائی امراض کے بعد امدادی کوششوں کیلئے فنڈ فراہم کرنا ہے۔ منگل کے روز صبح 5.31 بجے (سی ای ٹی) یورپی کونسل کے صدر چارلس مشیل کے ایک ٹویٹ میں اس معاہدے کا اعلان کیا گیا تھا اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے "یوروپ کے لئے تاریخی دن" کی حیثیت سے اس کی تعریف کی تھی۔

بحالی فنڈ کے مراکز 390 ارب یورو کی گرانٹ میں سے اقتصادی طور پر کمزور رکن ممالک کو امداد دیں گے، مئی میں جرمنی اور فرانس کے پیش کردہ 500 ارب یورو کے پیکج سے نمایاں حد تک کم رقم ہے۔رہنماؤں نے یورپی یونین کے07.1 ٹریلین یورو مالیت کے آئندہ سات بجٹ پر بھی دستخط کیے۔

جرمن چانسلر انگیلا مرکل اور چارلس مشیل کے ذریعے ترتیب دیا گیا یہ معاہدہ میراتھن مذاکرات کا ثمر ہے جو جمعہ کو برسلز میں شروع ہوئے تھے۔یہ بلاک کی تاریخ کو دوسرا طویل ترین اجلاس تھا جو 2000ء میں نائس میں ہونے والے اجلاس سے کچھ دن ہی کم ہے جس نے ریکارڈ قائم کیا تھا۔

اینگلا مرکل نے اس معاہدے کو آئندہ سات برس کے لئے یورپی یونین کے لئے مالیاتی بنیاد کے قیام کے طور پر سراہا۔جرمن چانسلر نے مزید کہا کہ یورپ نے یہ واضح کردیا کہ وہ اس طرح کی مخصوص صورتحال میں کچھ بالکل نیا کرنے کے قابل ہے۔

رہنماؤں نے جزوی طور پر معاہدہ طے کرنے کے لئے کوشش کی تھی کیونکہ کفایت شعار یا محتاط طریقے اخراجات کرنے والی ریاستیں آسٹریا، ڈنمارک، ہالینڈ اور سویڈن یورپی یونین کو رقم ادھار لینے کی اجازت دینے اور پھر اسے رکن ممالک کو ان کے بجٹ اخراجات کے طور پر دینے کے خیال کے مخالف تھیں۔

یہاں تک کہ سربراہی کانفرنس شروع کے بعد بھی انہوں نے 390 ارب یورو پر تصفیہ ہونے سے قبل آخر تک کمیشن جو رقم دے گا اس کی گرانٹ کو کم کرنے پر اصرار جاری رکھا۔

اس کی قیمت بجٹ میں چھوٹ کو فروغ دے رہی تھی جو کفایت شعار ممالک برطانیہ کی یورپی یونین کی رکنیت کے ترکے کے طور پر وصول کرتے ہیں۔

سابق برطانوی وزیراعظم مارگریٹ تھیچر نے 1984ء میں مالی منافع کی ادائیگی کے طریقہ کار جیت لیا تھا، تاہم حال ہی میں فرانس کی سربراہی میں رکن ممالک نے بریگزٹ کے بعد چھوٹ کے خاتمے پر زور دیا ہے۔

اس کی بجائے یورپ کے کورونا وائرس پر بے نظیر ردعمل پر مباحثے کے دوران کفایت شعار ممالک ایک بار پھر ایک اہم سودے بازی کے آلے کے طور پربازی لے گئے۔گزشتہ تجاویز کے مقابلے میں آسٹریا کی سالانہ کمی دوگنا ہوکر 565 ملین یورو ہوجائے گی جبکہ ہالینڈ کی چھوٹ 57.1 ارب یورو سے بڑھ کر 92.1 ارب یورو ہوجائے گی۔

پہلے سے موجود حالیہ منصوبوں کے مقابلے میں ڈنمارک اور سویڈن بھی اضافہ حاصل کریں گے۔جرمنی کی چھوٹ میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی،اینگلا مرکل نے کہا کہ چھوٹ میں اضافے کا فیصلہ مشکل مگر ضروری تھا۔

فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے کہا کہ چھوٹ برقرار رکھنا ایک سودے کی قیمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان طویل مذاکرات میں کبھی کبھی اختلاف رائے سے اور یورپ کے مختلف تصورات کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے رہنماؤں نے سابقہ تجاویز کے مقابلے میں یورپی یونین کے پروگرامز کے لئے ٹاپ اپ فنڈ میں کٹوتی کرنے پر دستخط کئے، یہ ایک فیصلہ ہے جسے یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیرلیین نے افسوسناک قرار دیا۔

ادائے قرض کی صلاحیت کیلئے قابل بحث آلہ جس نے26 ارب یورو مالیت کی دوبارہ منظم ہونے کیلئے جدوجہد رنے والی کمپنیوں کی مدد ہوتی ختم کردیا گیا۔

یورپی یونین کے ہوریزون سائنس پروگرام میں شامل کیے جانے والے مجوزہ ٹاپ اپ اخراجات کو پہلے کی تجاویز کے مقابلے میں یکسر کم کردیا گیا ، اور غریب ممالک کو ان کے کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں مدد کرنے کے لئے’’جسٹ ٹرانزیشن فنڈ‘‘ کو 30 ارب یورو سے بڑھا کر 10 ارب یوروکردیا گیا تھا۔

طویل مذاکرات نے حکومتوں کی اپنی مالیاتی طاقت کو منظم کرنے کے لئے ان کی آمادگی میں گہری تقسیم پیدا کردی،سمجھوتوں کے پیچیدہ جوڑنے کے عمل کے ذریعے تقسیم پر قابو پایا گیا۔

ہالینڈ کے وزیراعظم مارک روٹے نے ایک ہنگامی وقفہ حاصل کیا جس سے کسی بھی ملک کو یہ خدشات پیدا ہوسکیں گے کہ دوسرا ملک اس کی معیشت میں اصلاح کے وعدوں کا احترام نہیں کررہا ہے ، اور برسلز کے ذریعے یورپی یونین کو بحالی کی رقم کی منتقلی عارضی طور پر روک دیں۔

تاہم دیگر حکومتوں کی حساسیت سے موافق کرنے کیلئے میکانزم کا طریقہ کار محدود ہے۔حتمی متن میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین کے رہنماؤں کو ایک قاعدے کے طور پر کسی بھی شکایت کو دور کرنے کے لئے تین ماہ سے زیادہ کا وقت نہیں لینا چاہئے۔ حتمی فیصلہ باضابطہ طور پر کمیشن کے حوالے کردیا گیا ہے۔

بات چیت کے دوران ایک اور نقطہ اشتعال یہ تھا کہ قانون کی حکمرانی کے احترام کے لئے اس رقم کو کیسے منسلک کریں۔ناقدین نے دعویٰ کیا ہے کہ پولینڈ میں عدالتی آزادی کی خلاف ورزی ہوتی رہی ہے اور انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ ہنگری میں جمہوری اصولوں کو پامال کیا گیا ہے۔تاہم سخت شرائط کے لئے دباؤ کی وجہ سے ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربان کی جانب سے بحالی کے پورے پیکج کو روکنے خطرہ پیدا ہوا۔

اس مسئلے پر لیتھویا کے وزیراعظم کرزانیس کارنس اور جرمن چانسلر اینگلا مرکل کی زیرسربراہی رہنماؤں کے ایک گروپ نے سمجھوتوں کے ایک منصوبے پر کام کیا جس کے نتیجے میں یورپی یونین کی اکثریتی حکومتوں کو قانون کی خلاف ورزی پر کسی ملک کو رقم کی ادائیگی پر پابندی کی اجازت ہوگی۔

اس سربراہی اجلاس کے بعد اینگلا مرکل نےپولینڈ اور ہنگری کے اعتراضات کہ یہ منصوبہ ان کی حکومتوں پر پابندی کے لئے بنایا گیا تھا کا حوالہ دیتے کہا کہ قانون کی حکمرانی کا طریقہ کارایک یا دو ممالک کو منتخب نہیں کرے گا۔

فنانشل ٹائمز سے مزید