آپ آف لائن ہیں
منگل4؍صفر المظفّر 1442ھ 22؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کھلا تضاد…آصف محمودبراہٹلوی


بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جارحانہ اقدام اٹھاتے ہوئے گزشتہ برس آج کے دن یعنی کہ 5اگست کو مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی یعنی کہ اقوام متحدہ میں مقبوضہ جموں وکشمیر کو متنازع حیثیت کا درجہ حاصل تھا کہ جب تک مقبوضہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ نہیں ہوجاتا، وہاں پر کوئی غیر ریاستی باشندہ مستقل رہائش نہیں رکھ سکتا یعنی کہ جائیداد نہیں خرید سکتا۔ گزشتہ سات د ہایوں سے کشمیر کی خصوصی حیثیت چلتی آرہی تھی لیکن بی جے پی کے انتہا پسند نریندری مووی کو جب 2018ء میں مقبوضہ کشمیر میں انتخاب میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے وہاں گورنر راج نافذ کردیا تھا اس کے بعد ان کی سوچ مسلمانوں کے خلاف مزید سخت ہوتی گئی اور کرفیو لگا دیا لیکن دوسری طرف مقبوضہ جموں وکشمیر کے غیور اور معصوم عوام بھی یہ ٹھان چکے ہیں کہ آزادی سے کم کوئی آپشن قبول نہیں نریندر مودی کی شاید یہ سوچ تھی کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں مکمل کرفیو لگا کر آرٹیکل 35A اور 370 کا خاتمہ کرکے مکمل بلیک آئوٹ کے ذریعے مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام کے حوصلے پست کرکے انہیں بھارت کیساتھ جبراً رہنے پر مجبور کردیں گے لیکن ایسانہ ہوسکا۔ مزید تازہ دم بھارتی فوج بڑھا کر وادی میں مسلح افواج کی تعداد دس لاکھ تک ہوگئی لیکن مقبوضہ جموں وکشمیر کی تحریک وہاں سے نکل کر آزاد کشمیر لا ئن آف کنٹرول، پاکستان، یورپ، امریکا و برطانیہ تک پھیل گئی۔برطانیہ میں گزشتہ برس سے لے کر آج تک احتجاجی مظاہروں کا نہ رکنے والا تسلسل قائم ہے بلکہ گزشتہ سال بھارتی ہائی کمیشن لند ن 10ڈائوننگ سٹریٹ اور یونائیٹڈ آفس کے باہر ہزاروں افراد سراپا احتجاج رہے۔احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں مارچ ہوئے، یاداشتیں پیش کی جاتی رہیں۔ بھارت عالمی سطح پر دفاعی پوزیشن پر چلا گیا یہ کشمیریوں اور ان کی آزادی کے ساتھ محبت کرنے والوں کے احتجاج ہی تھے کہ اتنے ظلم جبراور استحصال کے باوجود آج بھی کشمیری اپنے موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے۔اس سال کے آغاز پر مقبوضہ جموں وکشمیر کی عوام کی مشکلات میں کورونا وائرس لاک ڈائون کی وجہ سے مزید بڑھ گئی، انہیں دہرے کرفیو کا سامنا کرنا پڑا۔ مقبوضہ وادی میں ہر گھرکشمیری مصنوعات سوغات وغیرہ کی ایک فیکٹری ہے، وہ بھی اس مشکل وقت میں بند ہوگئیں، ان کا معاشی قتل کیا گیا لیکن ان کے موقف میں مزید استحکام آیا اور ایک سال کے بعد بالخصوص برطانیہ کے دوسرے بڑے شہر برمنگھم میں تحریک آزادی کشمیر سے محبت کرنے والوں نے ایک بار پھر سے سر جوڑ لئےاور ٹھان لیا ہے کہ 5اگست کو جب کرفیو کا ایک سال مکمل ہوگا وہاں پورا برطانیہ، یورپ بھی سراپا احتجاج ہوگااور سلسلہ آگے بڑھتا رہے گا، اب عالمی سطح پر اور بالخصوص برطانیہ میں برٹش ممبران آف پارلیمنٹ نے مقبوضہ جموں وکشمیر کے حق میں کھل کر حمایت کی اور برطانیہ اور یورپ کی تجارت کو بھارت کیساتھ مقبوضہ کشمیر سے کرفیو ہٹانے سے مشروط کیاہے، آہستہ آہستہ حالات و واقعات کشمیریو ںکے حق میں جا رہے ہیں لیکن ہمیں منزل کے حصول تک سفر کی طوالت سے گھبرانا نہیں بلکہ آج تحریک کو نئے جذبہ سے آگے بڑھانا ہوگا۔