آپ آف لائن ہیں
بدھ5؍ صفر المظفّر 1442ھ23؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ایسے میں جب قومی معیشت مسلسل معاشی گرداب کی لپیٹ میں ہے، برآمدات کے حجم میں اضافے کی خبر نہایت حوصلہ افزاہےجس سے یقینی طور پر معاشی استحکام میں مدد ملے گی۔ مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے بتایاہے کہ جولائی 2020میں پاکستان کی برآمدات میں پچھلے سال کی نسبت 5.8فیصد اضافہ ہوا ہے،جس سے اس بات کی نشان دہی ہوتی ہے کہ کووڈ 19اور لاک ڈاؤن کے باوجود ’میک اِن پاکستان‘ پالیسی آگےبڑھ رہی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ چار پانچ ماہ میں کورونا کی عالمی وبا کے باعث قومی برآمداتی حجم میں مسلسل کمی دیکھی جارہی تھی۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق برآمدات میں اضافہ ایک بڑی کامیابی ہے اس میں مزید تیزی کی امید بھی کی جارہی ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات کی اعدادو شمار پر مشتمل رپورٹ سے بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ کورونا کی عالمی وباکے باعث پاکستان کی برآمدات پر چھائے کالے بادل چھٹنا شروع ہو گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جولائی 2020کے دوران ملکی برآمدات میں 5.80فیصد اضافہ ہوا، جولائی 2020کی برآمدات ایک ارب 99؍کروڑ 80لاکھ ڈالر رہیں جبکہ جولائی 2019میں ایک ارب 89؍کروڑ ڈالر کی مصنوعات برآمد کی گئی تھیں، جولائی 2020میں درآمدات میں 4.20فیصد کمی واقع ہوئی، جولائی 2020میں 3؍ارب 54؍کروڑ ڈالر کی مصنوعات درآمد کی گئیں جبکہ جولائی 2019میں 3؍ارب 70؍کروڑ ڈالر کی

مصنوعات درآمد کی گئی تھیں۔ اقتصادی اعتبار سے یہ بات اہمیت کی حامل ہےکہ جہاں قومی برآمداتی حجم میں اضافہ ہوا وہیں درآمداتی حجم میں بھی کمی آئی ہے کیونکہ درآمدات کی صورت میں قومی معیشت پر ایسا بوجھ ہے جس سے چھٹکارا حاصل کئے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ میک ان پاکستان کی پالیسی کو مزید فروغ دینے کیلئے کاروبار دوست پالیسیاں متعارف کروائی جائیں تاکہ معاشی خودمختاری کی منزل پر پہنچا جا سکے۔