آپ آف لائن ہیں
بدھ5؍ صفر المظفّر 1442ھ23؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مدعی نے ایف آئی آر کٹوائی، میں کھیتوں سے دھنیا کاٹ کر منڈی فروخت کرنے جارہا تھا، رستے میں افضل خرم نے روکا، اس کے ایک ہاتھ میں پستول، دوسرے میں رائفل تھی، اس نے اسلحے کے زور پر مجھ سے ایک ہزار مالیت کا دھنیا چھین لیا، افضل خرم گرفتار ہوا، کچھ عرصہ بعد اس نے ضمانت کیلئے درخواست دی، سول، سیشن کورٹ، ہائیکورٹ نے اس کی درخواست ضمانت مسترد کر دی، کیس سپریم کورٹ پہنچا۔

جسٹس گلزار، جسٹس فائز عیسیٰ پر مشتمل دورکنی بنچ، جج صاحبان حیران رہ گئے، جسٹس فائز عیسیٰ بولے’’ حیرت ہے بڑے مجرم آزاد گھوم رہے ہیں جبکہ ایک ہزار کا دھنیا چور جیل میں ہے‘‘ افضل خرم کی درخواست ضمانت منظورہوئی، یوں ایک سال جیل کے بعد ایک ہزار کے دھنیا چور کو سپریم کورٹ سے رہائی ملی، محمد زاہد، کہا جائے وہ 4مقدمات میں سزا یافتہ، 15مرغیاں اور سامان چوری کا مقدمہ، سول، سیشن کورٹ، ہائی کورٹ سے ضمانت کی درخواستیں مسترد ہوئیں، کیس سپریم کورٹ پہنچا، سپریم کورٹ نے بھی مرغی چور کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔

غلام قادر، غلام سرور دو بھائی، قتل کے مقدمے میں سزائے موت ہوئی، کیس سپریم کورٹ پہنچا، کیس چلا، سپریم کورٹ نے دونوں بھائیوں کو بری کردیا، سپریم کورٹ کا فیصلہ بہاولپور جیل پہنچا تو پتا چلا دونوں بھائیوں کو توایک سال پہلے پھانسی ہو چکی، 13سالہ رانی، شوہر کے قتل کے الزام میںماں باپ، بھائی کے ہمراہ گرفتار ہوئی، ماں کی جان تو چھ ماہ بعد چھوٹ گئی۔

والد جیل میں تپ دق کے باعث فوت ہوا، 15سالہ جیل کے بعد رہا ہونے والا بھائی ٹی بی سے مر گیا، رانی نے 19سال جیل کاٹی، سینکڑوں قیدیوں کیلئے کھانا پکانے، جیل کا فرش صاف کرنے والی رانی اتنی غریب کہ وکیل کے پیسے نہیں، سرکاری وکیل ملا نہیں، جیل سپرنٹنڈنٹ نے کئی بار ہائی کورٹ میں رانی کی اپیل دائر کرنے سے انکار کیا، 2014میں رانی کی قسمت تب جاگی جب ایک غیرسرکاری خیراتی تنظیم کی وکیل کی جیل میں رانی سے ملاقات ہو گئی، رانی کی دکھ بھری داستان سن کر وکیل نے رانی کا کیس لیا۔

3سال بعد 2017میں لاہو رہائی کورٹ نے رانی کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر رہا کر دیا اور رہا کرتے ہوئے عدالت نے غلط سزا پر رانی سے معافی مانگتے ہوئے کہا جیل حکام کے غیرسنجیدہ رویے کی وجہ سے رانی کو اتنا لمبا عرصہ جیل کی اذیت برداشت کرنا پڑی۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس صداقت علی عباسی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے قتل کے مقدمے میں سزائے موت پائے جانے والے قیدی سید رسول کی اپیل پر 2017میں اسے بےگناہ قرار دے کر رہائی کا حکم دیاتو پتا چلا سید رسول تو تین سال قبل 8نومبر 2014کو شاہ پور جیل میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر چکا، قتل کا ملزم جمیل، راولپنڈی ہائی کورٹ بنچ نے رہا کیا تو پتا چلا 19سالہ جیل کے بعد دو سال پہلے جمیل جہلم جیل میں انتقال کر چکا، اور تو اور سالہا سال جمیل کی رہائی کی کوششیں کرنے والے جمیل کے والد اور چچا بھی یہ خوش خبری سننے کیلئے دنیا میں موجود نہیں تھے۔

لاہو، نولکھا کاپان فروش جمشید اقبال، 2013میں اسے احترام رمضان آرڈیننس کی خلاف ورزی کرنے پر مجسٹریٹ نے 5دن قید کی سزا سنائی، 5دن سزا پوری ہوئی، جمشید اقبال نے رہائی کیلئے کہا تو جیل حکام نے رہائی کا عدالتی حکم نامہ اور روبکار طلب کرلی، اب ذرا دل تھام کر رکھیے، جمشید اقبال نے رہائی کے عدالتی حکم نامے اور روبکار کیلئے اپیل کی اور اس اپیل پر 6سال سماعت نہ ہوسکی،جی ہاں، جمشید اقبال نے چھ سال جیل کاٹی، آخر کار اپیل لگی، سماعت ہوئی۔

جج صاحب حیران رہ گئے، بولے، 5دن کی سزا اور چھ سال لگ گئے، آگے سنیے، فاضل جج نے کہا، ملزم جمشید اقبال کو غلط سزا دی گئی کیونکہ اسپیشل مجسٹریٹ نے جس دفعہ کے تحت 5دن کی سزاد ی وہ دفعہ تو احترام رمضان آرڈیننس میں ہے ہی نہیں، عدالت نے غلط قید اور عدالتی نظام کی سستی پر جمشید اقبال سے معافی مانگتے ہوئے کہا ’’اس طرح کا انصاف تو پتھر کے دور میں بھی نہیں کیا گیا‘‘۔

یہ چند مثالیں، ایسی سینکڑوں دکھ بھری داستانیں اور بھی، اب دکھ کی بات یہ، یہی نظام 5فیصد بڑوں، طاقتوروں، پیسے والوں کو نہ صرف بروقت انصاف دے رہا بلکہ انہیں انوکھے ریلیف، انوکھی سہولتیں پہنچا رہا، چھٹی والے دن گھر بیٹھے بٹھائے انصاف مل جانا، عدالتی حاضریوں سے استثنیٰ، گھر سب جیل قرار پائیں، یہ ذرا بیمار ہوں انہیں بھانت بھانت کی طبی سہولتیں، اور تو اور یہی نظام مجرم کو علاج کیلئے بیرون ملک بھجوائے۔

کیا خوبصورت نظام،اگر ملزم رکن اسمبلی ہو، بس پھر موجیں، اسمبلی اجلاس بلا لو، پروڈکشن آرڈر پر ملزم سیدھا اسمبلی میں، وہاں تقریریں، انٹرویو، پریس کانفرنسیں ملاقاتیں اور رات گئے سکون و اطمینان سے جیل واپسی، جیل میں وہ سہولتیں جو عام آدمی کوگھر میں بھی نہ ملیں، ابھی چند دن پہلے شہباز شریف کی غیرموجودگی میں عدالت نے انہیں ضمانت دی، کہا ضمانتی مچلکے بعد میں جمع کرادیں، یہ مدت ضمانت ختم ہوئی، وکلاء نے ضمانت میں توسیع کی درخواست دی، عدالت نے پوچھا، شہباز شریف نے تو ابھی تک ضمانتی مچلکے بھی جمع نہیں کرائے، وکیل نے کہا، وہ بیمار ہیں۔

طبیعت بہتر ہونے پر ضمانتی مچلکے جمع کرادیں گے، عدالت نے یہ سن کر ضمانت میں توسیع کردی، اب ایک طرف یہ سب کچھ جبکہ دوسری طرف 5دن سزا کاٹ کر پان فروش جمشید اقبال کو رہائی کے عدالتی حکم اور روبکار کیلئے چھ سال جیل کاٹنی پڑے،مطلب غریب کیلئے قدم قدم پر چھتر، امیر کیلئے قدم قدم پر ریلیف، یہ بھی سنتے جائیے۔

سندھ، گھوٹکی، مرغوں کی لڑائی پر جو ا ہو رہا،پولیس کا چھاپہ، ایک مرغے سمیت سب جواری گرفتار، چند دنوں میں جوا کرانے، جوا کھیلنے والوں کی تو ضمانتیں ہو گئیں مگر مرغے کی ضمانت نہ ہوئی، آخر کار پچھلے ہفتے مرغے کی قسمت جاگی اور 8ماہ بعد اسکی ضمانت ہو گئی، یہ ہے ہماری پولیس، ملزموں، مجرموں کے ساتھ مرغا بھی گرفتار، یہ ہے ہمارا نظام انصاف ملزموں، مجرموں کی دنوں میں ضمانتیں، مرغا8ماہ قیدی رہے، پیارے… یہ ہے پیارا پاکستان!