آپ آف لائن ہیں
بدھ5؍ صفر المظفّر 1442ھ23؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ہماری سپریم کورٹ نے ایک مقدمے میں بحث کے دوران یہ سوال اٹھایا ہے کہ بیوی کے قاتل کو رعایت کیوں دیں؟ نوشہرو فیروز کے حاجی ثناء اللہ نے 2010میں اپنی اہلیہ کو قتل کر دیا تھا اور اب مقتولہ کے وارثوں سے مل کر عدالت میں صلح نامہ پیش کر رہا تھا جس پر عدالتِ عظمیٰ نے کہا کہ ”ہم قتل کے فریقین کی صلح پر ٹھپے لگانے کیلئے نہیں بیٹھے ہیں، گھریلو ناچاقی اور غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اہلیہ کے قاتل کو معاف کیا تو فساد فی الارض کا خدشہ ہے“۔ عدالتِ عظمیٰ کے یہ ریمارکس یقیناً قابلِ ستائش ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ جس معافی سے معاشرے میں مجرم کی حوصلہ افزائی ہو یا قتل جیسے گھناؤنے جرم کا خوف ختم ہونے کا خدشہ پیدا ہو جائے، ایسی صورتحال معاشرے میں احساسِ عدم تحفظ اور انارکی کے پھیلاؤ کا ذریعہ بنتی ہے جو مزید تشدد، شدت پسندی، عدم برداشت اور فتنے کو جنم دیتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں غیرت یا عزت کے نام پر قتل جیسی گھناؤنی وارداتیں اس لئے تھمنے کا نام نہیں لے ر ہیں کہ معاشرہ کسی نہ کسی تقدس یا تعلق کو بنیاد بنا کر قاتلوں کیلئے نرم گوشہ پیدا کرتا ہے حالانکہ اگر کوئی ملزم قانون کو ہاتھ میں لے کر ماورائے عدالت کسی گنہگار کو بھی قتل کرتا ہے تو یہ کسی بھی مہذب معاشرے میں بہرحال ناجائز قتل قرار پائے گا جس کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ ”اگر کسی نے کسی ایک انسان کو ناحق قتل کیا تو اس نے گویا پوری انسانیت کو قتل کر دیا“۔ اس کی نفسیاتی وجہ قطعی واضح ہے کہ جب بھی آپ کسی ایسے قاتل کی حوصلہ افزائی کریں گے تو گویا آپ بنیاد رکھ رہے ہیں کہ آئندہ بھی اس نوع کی وارداتیں ہوتی رہیں۔

قانون کو ہاتھ میں لینے کی سوچ کو جواز بخشنے کا نتیجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب غیرت یا عزت و ناموس کے نام پر کہیں نہ کہیں کوئی ایسا سانحہ نہ ہوتا ہو۔ ہمارے معاشرے میں انہی وجوہات سے عدم برداشت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ کل ہی کی خبر ہے کہ موضع کامونکی میں سگے بیٹے نے چھریوں کے وار کر کے اپنی ماں کو قتل کر دیا۔ شیخوپورہ میں زمین کے تنازعہ پر بڑے بھائی نے چھوٹے بھائی اور بھابھی کو قتل کر ڈالا۔ ایک خبر ہے کہ بیوی کا قاتل پاکستانی 11سال بعد اسپین سے گرفتار ہوا۔ چند روز پہلے کی خبر ہے کہ بھری عدالت میں جج کے سامنے ایک شخص کو قتل کر دیا گیا۔ قاتل کی عمر تھوڑی ہے اس لئے اسے کوئی بڑی سزا بھی نہیں دی جا سکے گی۔ اس نوع کی انفرادی سوچیں ارتقائی منازل طے کرتے ہوئے جتھوں کی صورت اختیار کرتی ہیں تو نہ صرف ایسے افراد کو پشت پناہی کیلئے مضبوط فصیلیں میسر آ جاتی ہیں۔ ایسے زخم اٹھانے کے بعدردِ عمل میں آخر کار دوسری قوم کے اندر بھی اس نفرت کے خلاف منافرت کیوں نہیں پھوٹے گی؟ اور پھر یہ بدمعاشی بڑھتے بڑھتے ریاستی دہشت گردی کی شکل کیوں اختیار نہیں کرے گی؟ہماری آج کی ترقی یافتہ دنیا کو عالمی سطح پر دہشت گردی کا جو خوفناک عفریت تباہ و برباد کر رہا ہے، غور کیا جائے تو اس کی شروعات اس نظریہ جبر، عدم رواداری و عدم برداشت سے ہوئی ۔ ایسا ہر قاتل بظاہر یہی سمجھتا ہے کہ وہ کوئی برائی نہیں کر رہا بلکہ برائی کو ختم کرنے کے لئے نیکی کا جہادی جذبہ لے کر اٹھا ہے۔ وہ سچا ہے اور جسے وہ قتل کر رہا ہے وہ سراسر جھوٹااور بےایمان انسان ہے جو ہماری عزت، وقار، آن اور تقدس کو پامال کر رہا تھا۔

مسئلے کا حل سوائے اس کے کچھ نہیں کہ اول ایسے تمام منافرتوں کے بیوپاریوں اور قاتلوں کو قانون وآئین کے مطابق سزائیں دینے میں کوئی رو رعایت نہ برتی جائے۔ منافرت اور عدم برداشت پر مبنی ہر حرکت اور ہر آواز کو قوانین و ضوابط سے روکا جائے۔ ان کے بالمقابل اٹھنے والی انسان دوستی و محبت کی آوازوں کو پروموٹ کرنے کا اہتمام کیا جائے۔ دوئم ہمارے ذرائع ابلاغ اور تعلیمی ادارے بالخصوص تعلیمی نصاب میں اپنی نئی نسلوں کو انسانیت سکھانے کا اہتمام کریں اور یہ سبق ذہن نشین کروائیں کہ انسانیت سے بڑھ کر اس کائنات میں کوئی تقدس نہیں۔