آپ آف لائن ہیں
پیر10؍صفر المظفّر 1442ھ 28؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سندھ ہائیکورٹ، شوگر ملز مالکان کی درخواست پر سماعت

سندھ ہائیکورٹ میں شوگر انکوائری کمیشن کی سماعت کے دوران جسٹس کے کے آغا نے استفسار کیا کہ وزیر اعظم نے کس قانون نے تحت انکوائری کمیشن کی تشکیل کا حکم دیا؟ وزیر اعظم کس قانون کے تحت مشیروں کا تقرر کرتے ہیں؟

سندھ ہائیکورٹ میں شوگر انکوائری کمیشن کے خلاف شوگر ملز مالکان کی درخواست کی سماعت ہوئی ۔

سندھ ہائیکورٹ میں شوگر انکوائری کمیشن کے خلاف شوگر ملز مالکان کی دائر درخواست پر جسٹس کے کے آغا اور جسٹس عمر سیال پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے سماعت کی، اس دوران شوگر ملز مالکان کے وکیل مخدوم علی خان اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے دلائل مکمل کیے جس کے بعد عدالت کی جانب سے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا ۔

دوران سماعت جسٹس کے کے آغا نے استفسار کیا کہ وزیر اعظم نے کس قانون نے تحت انکوائری کمیشن کی تشکیل کا حکم دیا؟ قانون سے کوئی بالا تر نہیں ہے ۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل پاکستان کاشف پراچہ کی جانب سے کہا گیا کہ ملک میں چینی کی قلت اور قیمتوں میں اضافے سے ہر پاکستانی متاثر ہوا، وزیر اعظم نے سارے کام قانون کے مطابق کیے، وزیراعظم بھی عدالتوں کی طرح قانون کی عملدآری پر یقین رکھتے ہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل کاشف پراچہ کا مزید کہنا تھا کہ اگر شوگر ملز مالکان کے حقوق متاثر ہوئے ہیں تو ان کو بعد میں دیکھنا ہوگا۔

جسٹس عمر سیال کا کہنا تھا کہ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ انکوائری کمیشن ہی کیوں تشکیل دینا پڑا، اگر کام نہیں ہوتا تو سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن اور ایف آئی اے کو ختم کردیں۔

جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل کاشف پراچہ کا کہنا تھا کہ تحقیقات شوگر ملز مالکان کے خلاف نہیں تھی، تحقیقات چینی کی قلت کی وجوہات جاننے کے لیے کی گئی، کمیشن کی رپورٹ میں چینی کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کا پتا لگایا گیا، شوگر ملز مالکان کے خلاف کوئی الزام نہیں ہے اور ہی نہ ان کو کام سے روکا گیا ہے۔

جس پر جسٹس کے کے آغا کا کہنا تھا کہ کس طرح احتساب کیا جارہا ہے؟ ایسے جیسے اپوزیشن جماعتیں بتاتی ہیں؟ کیا احتساب کرنے کے لیے وزارت بھی ہے؟ 

دوران سماعت کاشف پراچہ نے کہا کہ وزیراعظم نے احتساب کمیشن بنایا اور معاون خصوصی مقرر کیا ہے، مشیر کرپشن کے معاملے کی تحقیقات کے لیے معاونت کرتے ہیں۔

جس پر جسٹس عمر سیال نے کہا کہ مشیر برائے احتساب کمیشن معاونت پر نیب کو حکم جاری کر رہے ہوتے ہیں۔

جسٹس کے کے آغا نے استفسار کیا کہ وزیر اعظم کس قانون کے تحت مشیروں کا تقرر کرتے ہیں؟

جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل پاکستان کاشف پراچہ کا جواب دیتے ہوئے کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو قانون نے جو اتھارٹی دی ہے اس کے مطابق کام کرتے ہیں، ملک میں احتساب کا طریقہ کار موجود ہے۔

شوگر ملز مالکان کے وکیل مخدوم علی خان کے جوابی دلائل میں کہنا تھا کہ رپورٹ میں کہا گیا کہ دن دیہاڑے عوام کی جیب پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے، شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے بعد حکومت نے اداروں کو ٹھیک نہیں کیا۔

شوگر ملز مالکان کے وکیل نے مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن کی 253 صفحات کی رپورٹ پڑھ کر کابینہ کو بریفنگ بھی دی اور ایکشن کا کہا، اس کا مطالب ہے وزیر اعظم کے مشیر شہزاد اکبر رپورٹ سے پہلے واقف تھے۔

قومی خبریں سے مزید