آپ آف لائن ہیں
منگل11؍صفر المظفّر 1442ھ 29؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بیگناہ قید میرشکیل پر کوئی الزام نہیں، رہا کیا جائے، مقررین

بیگناہ قید میرشکیل پر کوئی الزام نہیں، رہا کیا جائے، مقررین


لاہور(نمائندہ جنگ) ایڈیٹر انچیف جنگ جیو گروپ میرشکیل الرحمٰن کی نیب کے ہاتھوں غیرقانونی گرفتاری کیخلاف اتوار کے روز بھی لاہوراور قصور سمیت مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا ،لاہور میں ڈیووس روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جبکہ قصور میں پیپلز پارٹی کے عہدیداروں نے پریس کلب کے ارکان کیساتھ پریس کانفرنس کی اور احتجاجی ریلی نکالی، اس موقع پر مقررین نے کہا کہ میر شکیل الرحمان بیگناہ قید ہیں، ان پر کوئی الزام نہیں ہے، ،عدالت عظمیٰ کواپنا آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے اس معاملے پر ازخود نوٹس لیکر انکی فوری رہائی کا حکم دینا چاہیے، پیپلزپارٹی قصورکے سیکرٹری اطلاعات آصف علی کھوکھر نے قصور پریس کلب کے ممبران کے ہمراہ پریس کانفرنس اور احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیب کا مشکوک رویہ اور کردار بتا رہا ہے کہ سیاسی اور صحافتی گرفتاریاں عوام کا استحصال کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ وقت آگیا کہ نیب کو ختم کرکے ایک غیر جانبدار ادارہ بنایا جائے۔ پریس کلب قصور کے صدر سلیم الرحمٰن اور پیپلز پارٹی قصور کے صدر مہر یٰسین نمبردار کی قیادت میں میر شکیل کی گرفتاری کے خلاف ریلی نکالی گئی جس میں چیئرمین یونین آف جرنلسٹ، جنرل سیکرٹری پی پی پی قصور ڈاکٹر اکرم، ڈویژنل انفرمیشن سیکرٹری محمد آصف سمیت تمام عہدے داروں اور صحافیوں نے میر شکیل کی رہائی اور صحافت پر پابندیوں کے خلاف سخت نعرے بازی کی اور میر شکیل الرحمان کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔لاہور میں احتجاجی مظاہرے میں امین حفیظ، خضر حیات گوندل،امیر تیمور،شہاب انصاری ، حاجی ابراہیم، محمد فاروق،محمد شفیق، عزیز شیخ، منورحسین،محمد واجد،محمد حبیب، وہاب خانزادہ،محمد علی، اکمل بھٹی، افضل عباس، جنگ جیو ورکرز و دیگر شعبہ زندگی سے افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر میر شکیل الرحمٰن کی رہائی کیلئے نعرہ بازی بھی کی گئی۔مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ میر شکیل الرحمان آزادی صحافت کے علمبردار ہیں اور انہیں اس جرم میں گرفتار کیا گیا ہے،میر شکیل الرحمان کی گرفتاری بغیر کسی جواز کے اور آزادی صحافت پر حملہ ہے۔

اہم خبریں سے مزید