آپ آف لائن ہیں
بدھ5؍ صفر المظفّر 1442ھ23؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

تفہیم المسائل

سوال: کیا عاملینِ زکوٰۃ کی تنخواہیں اوردیگر انتظامی اخراجات زکوٰۃ فنڈ سے اداکیے جاسکتے ہیں یا نہیں ؟،( نذیر جان نعیمی ، کراچی )

جواب:عاملینِ زکوٰۃ کو زکوٰۃ کے مال میں سے اجرت یا معاوضہ دیا جاسکتاہے ، یہ واحد مصرفِ زکوٰۃ ہے ،جس کا فقیر ومسکین ہونا ضروری نہیں ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ ان کی اجر ت متوازن ہو۔لیکن’’ عاملینِ زکوٰۃ ‘‘سے مراد بیت المال کا نگراں عملہ نہیں ہے ،بلکہ وہ لوگ ہیں جو دوردراز جاکر زرعی پیداوار کا عُشر اور مویشیوں کی زکوٰۃ وصول کرتے تھے اور اسے حفاظت کے ساتھ مدینہ منورہ پہنچاتے تھے ،ظاہر ہے یہ ایک ذمے داری اور مَشقت کا عمل تھا ، لہٰذا اس پر وہ اجرت کے حق دار قرار دیے گئے اور قرآن کریم نے انہیں ’’عاملین ‘‘ سے تعبیر فرمایا۔ علامہ نظام الدینؒ لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ اوران مصارف زکوٰۃ میں ’’عامل‘‘ بھی شامل ہے، وہ ایسا شخص ہے کہ جسے امام نے صدقہ اور عُشر کی وصولی کے لیے مقرر کیاہو ، ’’کافی‘‘ میں اسی طرح ہے ۔عاملِ زکوٰۃ اور اُس کے مددگاروں کو اتنا دے کہ جو ان کے اوسط خرچ اور آنے جانے کے لیے جب تک مال باقی ہے، کافی ہو،لیکن نصف سے زیادہ نہ ہو ،جیسا کہ ’’البحرالرائق ‘‘ میں ہے ‘‘۔اوراگر عامل ہاشمی ہے تورسول اللہ ﷺکی قرابت کے سبب لوگوں کے مال کے میل کچیل سے بچنے کے لیے زکوٰۃ کے مال سے لینا جائز نہیں اورعامل اگر غنی ہے تو اس کے لیے لینا جائز ہے ،’’تبیین ‘‘ میں بھی اسی طرح ہے ،ہاشمی عامل کو زکوٰۃ کے سوا دوسرے مال میں سے کچھ دے دیاجائے تو حرج نہیں ،’’خلاصہ‘‘ میں اسی طرح ہے ،(فتاویٰ عالمگیری ،جلد1، ص:188)‘‘۔

یہ زیادہ سے زیادہ ممکنہ مقدار اس لیے بتائی گئی ہے کہ عہدِ رسالت مآب ﷺ اورعہدِ خلافت ِ راشدہؓ میں عاملینِ زکوٰۃ ، سائمہ (چرنے والے مویشیوں یعنی بھیڑ بکری ،گائے بیل ،اونٹ وغیرہ )کی زکوٰۃ کی وصولی اور زرعی پیداوارپر عُشر کی وصولی ،نقل وحمل اور حفاظت پر مامور تھے ،اب توزیادہ تر نقدرقوم کی زکوٰۃ کا سلسلہ چل رہاہے ،اس میں بہتر ہے کہ حکومت محکمۂ زکوٰۃ کے عملے کو عام ملازمین کے معیار کے مطابق اپنے خزانے سے تنخواہ دے ، جیسے ایف بی آر کے محکمے والے حکومت کے محصولات جمع کرتے ہیں اورعام معیار کے مطابق قومی خزانے سے تنخواہ پاتے ہیں ، موجودہ نظام کے مطابق زکوٰۃ کی بینکوں سے براہ راست کٹوتی ہوتی ہے ، وصولی پر حکومت کے کوئی اخراجات نہیں آتے ،بلکہ بینک اس بات کے پابند ہوتے ہیں کہ اپنے اکاؤنٹ ہولڈرز کے اکاؤنٹس سے زکوٰۃ کی کٹوتی کرکے حکومت کے خزانے میں جمع کریں اور محکمۂ زکوٰۃ کا عملہ حکومت کا ملازم ہوتاہے ،ان کا کام زکوٰۃ کی رقوم کاحساب کتاب رکھنا اورحکومت کے مجاز ادارے کی منظوری سے متعلقہ ذیلی اداروں یا افراد کووہ رقوم اداکرنا اور اس کے بعد ان کے حسابات چیک کرنا ہوتا ہے ،وہ قومی خزانے سے تنخواہ پاتاہے ، انتظامی اخراجات بھی حکومت کو اپنے ذمے لینے چاہییں ۔