آپ آف لائن ہیں
ہفتہ8؍ صفر المظفّر 1442ھ 26؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ذاتی معاملے کو سیاسی بنا کر میر شکیل الرحمان کو گرفتار کیا گیا، مقررین

ذاتی معاملے کو سیاسی بنا کر میر شکیل الرحمان کو گرفتار کیا گیا، مقررین 


کراچی ، لاہور ، پشاور ، ملتان (اسٹاف رپورٹر ، نمائندگان جنگ )ایڈیٹر انچیف جنگ وجیو گروپ میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کیخلاف کراچی ، لاہور اور پشاور سمیت ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہروں اور احتجاجی کیمپوں کا سلسلہ بدھ کے روز بھی جاری رہا ، اس موقع پرسیاسی رہنمائوں ، صحافتی تنظیموں کے عہدیداران ، سینئر صحافیوں اور مختلف طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی شرکت ، جنگ اور جیو کے کارکنوں سے اظہار یکجہتی ، میر شکیل الرحمان کی رہائی کا مطالبہ ، احتجاجی کیمپوں اور مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ذاتی معاملے کو سیاسی بنا کر میر شکیل الرحمان کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا ،پاکستان میں صحافت حکومتی ظلم کا شکار ہے، میڈیا کی زبان بندی ، سچ بولنے پر پابندی اور صحافیوں کا معاشی قتل عام جاری ہے، مقررین نے مطالبہ کیا کہ میر شکیل الرحمان کو فوری طور پر رہا کرکے جھوٹا مقدمہ اور صحافت پر پابندی ختم کی جائے ،مسلم لیگ (ن)کے سینئر رہنما مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ صحافیوں کے قلم کوباندھ دیا گیا ہے، کسی صحافی کو آزادی سے سچ لکھنے کی اجازت نہیں، سیاست میں ہی نہیں صحافت سے بھی یہ حکومت بدلہ لے رہی ہے۔ میر شکیل الرحمان کو بھی بلا جواز گرفتار رکھا ہوا ہے۔ جنگ جیو جیسے ادارے کے مالک کو گرفتار رکھنا زیادتی ہے، اس زیادتی کے خلاف ان کے اپنے ادارہ کو بھی بات نہیں کرنے دی جارہی۔نیب کی حراست میں میر شکیل الرحمان کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے ، نیب کے اپنے ٹارچر سیل ہیں جہاں لوگوں کی وفاداریاں تبدیل کرائی جاتی ہیں ، دوسری جانب کراچی میں صحافتی تنظیموں، جنگ جیو ایکشن کمیٹی کے زیراہتمام میرشکیل الرحمان رہائی احتجاجی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن سندھ کے نائب صدر اقبال خاکسار نے کہا کہ ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے، میر شکیل الرحمان کو حق اور سچ لکھنے پر سزا دی جارہی ہے ، اس موقع پر ایپنک کے سیکرٹری جنرل شکیل یامین کانگا، ایپنک کے سیکرٹری اطلاعات فواد محمود، دی نیوز کے جنرل سیکرٹری دارا ظفر، ایپنک کراچی کے وائس چیئرمین رانا محمد یوسف نے بھی خطاب کیا۔ اقبال خاکسار نے کہا کہ میڈیا کے ساتھیوں کو یکجا ہوکر حکومت کے خلاف لڑائی لڑنا ہوگی، آج جنگ اور جیو پر اگر برا وقت ہے تو یہ وقت کل ان پر بھی آئے گا ، شکیل یامین کانگا نے کہا کہ ہم اپنے احتجاج کے سلسلے کو بڑھانے پر غور کررہے ہیں،اب یہ احتجاج صرف جنگ جیو بلڈنگ کے سامنے نہیں ہوگا بلکہ آئی آئی چندریگر روڈ پر ہم اپنا کیمپ لگائیں گے اور اس روڈ کو بند کریں گے۔ ہمارے جنگ کے ساتھی گزشتہ کئی ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے پر مایوس ہیں میں انتظامیہ سے درخواست کروں گا کہ تنخواہوں کی ہر آدائیگی ممکن بنائی جائے۔ فواد محمود نے کہا کہ ایپنک صحافیوں اور کارکنوں ملک گیر تنظیم ہے ، میرشکیل پر جھوٹا مقدمہ بنا کر انہیں پابند سلاسل کیا گیا ہے اس کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں، حکومت کو متنبہ کرتے ہیں کہ اگر انہوں نے میڈیا ورکرز کے روزگار پر حملہ کیا تو ہم تمہارا جینا دوبھر کردیں گے، رانا یوسف نے کہا کہ ہم نے ورکرز کے حقوق کیلئے مالکان سے لڑائی لڑی اور حقوق حاصل کئے لیکن آج ہم جنگ گروپ کے مالک کیلئے رہائی کیلئے احتجاج کررہے ہیں، جس جس کے ساتھ ظلم اور ناانصافی ہوگی ہم اس کے ساتھ ہوں گے، چیف جسٹس سپریم کورٹ سے اپیل کرتا ہوں کہ میرشکیل کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا نوٹس لیں اور انہیں ضمانت پر رہائی دلوائیں۔ 

اہم خبریں سے مزید