آپ آف لائن ہیں
بدھ5؍ صفر المظفّر 1442ھ23؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

12اگست موجودہ قومی اسمبلی کے ان یادگار دنوں میں سے ہے جب حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے باہمی رضا مندی سے پانچ ترمیمی بل اتفاق رائے سے منظور کر لئے، ان میں سرفہرست انسداد دہشت گردی ترمیمی بل2000ہے اور جملہ منظوری پانے والے بل شراکت محدود ذمہ داری، کمپنیز ایکٹ، نشہ آور اشیا کی روک تھام اور علاقہ دارالحکومت ٹرسٹ سے متعلق ہیں اس کے علاوہ ایم ایم اے کے ارکان کے مطالبہ پر دارالحکومت علاقہ جات وقف املاک بل اگلے اجلاس تک موخر کر دیا گیا ہے۔ منظور کئے جانے والے متذکرہ بلوں میں انسداد دہشت گردی ترمیمی بل انتہائی حساس نوعیت کا حامل ہے جو پاکستان کے ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ سے بچنے اورگرے لسٹ سے نکلنے کے معاملے میں ناگزیر تھا۔ اس قانون کے تحت کالعدم تنظیموں اور ان سے تعلق رکھنے والوں کو قرضہ یا مالی معاونت فراہم کرنے پر پابندی ہو گی جبکہ کوئی بنک یا مالیاتی ادارہ ممنوعہ شخص کو کریڈٹ کارڈ جاری نہیں کر سکے گا۔ ترمیمی بل کے تحت پہلے سے جاری اسلحہ لائسنس منسوخ تصور ہونگے، منسوخ شدہ لائسنس کا حامل اسلحہ ضبط کر لیا جائے گا ،ایسا لائسنس رکھنے والا سزا کا مستوجب ہو گا اور اسے نیا اسلحہ لائسنس بھی جاری نہیں کیا جائے گا۔ بل کے مطابق دہشت گردی میں ملوث افراد کو پانچ کروڑ روپے تک جرمانہ اور قانونی شخص کی صورت میں پانچ سے

دس سال قید کی سزا اور اڑھائی کروڑ جرمانہ بھی ہو گا۔ متذکرہ ترمیم کے بعد ممنوعہ افراد یا تنظیموں کیلئے کام کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کئے جائیں گے اور ایسے افراد کی رقوم اور جائیداد کسی نوٹس کے بغیر منجمد اور ضبط کر لی جائیں گی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ قومی اسمبلی کا موجودہ سیشن قانون سازی کے حوالے سے نہایت کامیاب ثابت ہوا ہے تاہم ایوان میں ابھی درجنوں بل زیر التوا پڑے ہیں ضروری ہو گا کہ انہیں بھی اسی جذبے سے اپنے منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔