آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ہانگ کانگ اقدامات کی جوابی کارروائی میں چین نے امریکی حکام پر پابندیاں عائد کردیں

ہانگ کانگ: نیکول لیو، ہڈسن لاکیٹ

بیجنگ: ژننگ لیو

سڈنی: جیمی اسمتھ

امریکا کی جانب سے چینی اور ہانگ کانگ کے عہدیداروں پر پابندی کے ردعمل میں چین نے 11 امریکی شہریوں پر پابندیاں عائد کردیں، جیسا کہ دونوں فریق ممالک ہانگ کانگ کے لئے چین کے نئے سیکیورٹی قانون کے حوالے سے اپنے تنازع کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔

چین نے یہ پابندیاں اس وقت عائد کیں جب ہانگ کانگ پولیس نے میڈیا ٹائیکون جمی لائی کو سیکیورٹی قانون کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں حراست میں لیا تھا، جون میںاس قانون کے لاگو ہونے کے بعد اس کے تحت یہ پہلی ہائی پروفائل گرفتاری کی گئی ۔

چین کی وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ امریکی سینیٹرز مارکو روبیو، ٹیڈ کروز، پیٹ ٹومی، جوش ہولی اور ٹام کاٹن کے ساتھ ساتھ کانگریس مین کرس اسمتھ پر پابندی کا اقدام عائد کررہے ہیں۔اس فہرست میں ہیون رائٹس واچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کینتھ روتھ اور امریکی حکومت کے مالی تعاون سے چلنے والی تنظیم فریڈم ہاؤس کے صدر مائیکل ابراموٹز بھی شامل ہیں۔اس میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ پابندیاں کیا شکل اختیار کریں گی۔

امریکا نے نئے سیکیورٹی قانون کے نفاذ پر گزشتہ ہفتے ہانگ کانگ کی چیف ایگزیکٹو کیری لام سمیت ہانگ کانگ اور چین کے 11 عہدیداروں پر عائد کردی تھیں۔

چین کی وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکا کے غلط رویے کے جواب میں چین نے پابندیاں عائد کیں جو آج سے مؤثر ہیں،ان لوگوں کے خلاف جو ہانگ کانگ کے معاملات پر لائق مذمت سلوک کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

ہانگ کانگ کے جمہوریت نواز اور احتجاجی تحریک پر کریک ڈاؤن کے ارادے سے متعارف کرائے گئے قانون کے بعد سے امریکا اور چین کے مابین کشیدگی میں اینٹ کا جواب سے پتھر جیسے اقدامات میں اضافہ ہوگا۔

کاروباری شخصیت کے قریبی ساتھی مارک سائمن کے مطابق جمی لائی کے علاوہ چھ افراد کو جن میں ان کے دو بیٹوں اور جمی لائی کے میڈیا گروپ نیکسٹ ڈیجیٹل دوسرے ایگزیکٹو کو بھی پولیس نے حراست میں لیا ہے۔

جمی لائی کے ایپل روزنامہ اخبار نے تصاویر اور براہ راست ویڈیو جاری کیں جن میں متعدد افسران نیکسٹ ڈیجیٹل کے اعلیٰ عہدیداروں کے دفاتر میں داخل ہوئے اور تلاشیاں لینا شروع کردیں۔

پولیس نے بتایا کہ انہوں نے سات افراد کو قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے لئے بیرونی ممالک یا افواج سے ملی بھگت سمیت جرائم کے ارتکاب کے شبہ میں گرفتار کیا تھا۔ انہوں نے گرفتار افراد کے نام جاری نہیں کیے۔

بعدازاں انہوں نے کہا کہ گرفتاریوں کی تعداد نو ہوگئی ہے، اگرچہ دو مزید گرفتار افراد کا تعلق جمی لائی کی کمپنی سے نہیں تھا۔

قومی سلامتی کا قانون نافذ ہونے کے بعد حکومت نے مقامی کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا اور گرفتاریوں کے ذریعے جمہوریت کے حامی امیدواروں کو بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے سے روکا۔

امریکا اور اتحادی ممالک نے اس قانون پر ہانگ کانگ اور چین کی حکومتوں کی مذمت کی ہے۔کیری لام اور دیگر کے خلاف عائد پابندیوں کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہانگ کانگ کی خصوصی تجارتی حیثیت بھی واپس لے لی ہے، جنہوں نے سرزمین چین پر لاگو پابندیوں سے ہانگ کانگ کو مستثنیٰ قرار دیا تھا۔

امریکا ، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ پر مشتمل ’’فائیو آئیز‘‘ انٹیلیجنس شیئرنگ نیٹ ورک کے وزرائے خارجہ نے گزشتہ پیر کے روز ایک مشترکہ خط جاری کیاجس میں انتخابات ملتوی کرنے اور جمہوریت کے حامی امیدواروں کو نااہل کرنے پر ہانگ کانگ کے حکام پر کڑی تنقید کی۔

کیری لام نے کورونا وائرس وبائی مرض کا حوالہ دیتے ہوئے رائے شماری کو 6 ستمبر تک ملتوی کیا، تاہم ناقدین نے الزام لگایا کہ یہ فیصلہ صحت کے بحران سے کہیں زیادہ سیاست سے متعلق ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ میں رجسٹرڈ معاہدے کے چین اور برطانوی مشترکہ اعلامیہ میں ہانگ کانگ کے عوام سے ایک ملک دو نظاموں کے اصول کے تحت خودمختاری اور آزادیوں کا وعدہ کیا گیا ہے اور ان وعدوں کی پاسداری کی جانی چاہئے۔

72 سالہ جمی لائی ہانگ کانگ میں درج شدہ پبلشر ایپل روزنامہ اور نیکسٹ میگزین نیکسٹ ڈیجیٹل کے بانی ہیں جو شہر کی مقبول اشاعتوں میں سے ہے۔انہیں ابتدائی کامیابی چین جیورڈانو سے ملی تاہم ان کا کہنا ہے کہ 1989 میں تیان مین اسکوائر قتل عام نے انہیں اشاعتی شعبے میں آگے بڑھنے کے لئے تحریک دی۔

اس سے قبل چین نے جمی لائی پر الزام لگایا کہ انہوں نے گزشتہ سال امریکی نائب صدرمائیک پنس اور جولائی 2019 میں امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو سے ملاقات کے بعد قومی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔چین نے ان پر ہانگ کانگ کے حکومت مخالف مظاہروں کے ماسٹر مائنڈز میں شامل ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔

مائیک سائمن کے مطابق جمی لائی کو غیر ملکی افواج کے ساتھ تعاون کے شبہے میں گرفتار کیا گیا،اس جرم میں عمر قید تک کی سزا ہوسکتی ہے۔جمی لائی کو پہلے ہی غیرقانونی اجتماع اور ایک رپورٹر کو ڈرانے دھمکانے سے متعلق دیگر مجرمانہ الزامات کا سامنا ہے۔انہوں نے کسی رپورٹر کو ڈرانے دھمکانے میں قصوروار نہ ہونے کی استدعا کی ہے اور توقع کی جاتی ہے کہ وہ غیرقانونی اجتماع میں بھی قصوروار نہیں ٹھہرائے جائیں گے۔

فائیو آئیز کے چین اور ہانگ کانگ کے حکام کی مشترکہ مذمت جاری کرنے کے فیصلے سے کشیدگی میں اضافے سے انٹیلیجنس شیئرنگ سے آگے سے جاکر گروپ کی سرگرمیوں کو توسیع دینے پر آمادگی کو اجاگر کیا ہے۔

دیگر شعبوں میں اس کی پراعتماد پالیسیوں کے ساتھ ساتھ چین کے ہانگ کانگ پر بڑھتے دباؤ نے فائیو آئیز گروپ کی حکومتوں کو مزید قریب لانے کی تحریک دی ہے۔لوئی انسٹیٹیوٹ کے تجزیہ کار بین بلینڈ نے کہا کہ انٹیلیجنس الائنس چین کی سرکشی کے خلاف پیچھے دھکیلنے اور للکارنے کے لئے ب ایک متحدہ محاذ کی طرح نظر آرہا ہے ۔

گزشتہ پیر صبح کی ٹریڈنگ میں نیکسٹ ڈیجیٹل کے حصص ڈوب گئے تھے تاہم آن لائن جمہوریت کے حامی فورمز کے سرمایہ کاروں سے اسٹاک خریدنے کے مطالبے کے بعدہانگ کانگ میں سہ پہر کی ٹریڈنگ میں 344 فیصد سے زیادہ کا فائدہ ہوا۔

ایپل روزنامہ کے ایک کالم نگار اسٹینلے وانگ نے کہا کہ انہوں نے کمپنی کے لئے شو آف سپورٹ کے طور پر کمپنی کے 12 ملین حصص خریدے۔اسٹینلے وانگ نے دوسرے سرمایہ کاروں کی سرمایہ کاری کے بعد اپنے حصص فروخت کردیے اور کہا کہ وہ 75 ہزار ہانگ کانگ ڈالر(9ہزار،7 سو امریکی ڈالر) کا منافع چینی یونیورسٹی آف ہانگ کانگ میں اسکالرشپ کے فنڈ کے لئے استعمال کریں گے۔

فنانشل ٹائمز سے مزید