آپ آف لائن ہیں
جمعرات11؍ ربیع الاوّل 1442ھ 29اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ڈگری میں سڑک کنارے کیبن رکھنے کا معمولی جھگڑا خوںریزی کا باعث بن گیا۔ ریٹائرڈ پولیس اہل کار کے ہاتھوں ایک شخص قتل ہو گیا۔تفصیلات کے مطابق ڈگری کے قریب مسلح افراد نے فائرنگ کرکے ایک شخص کو قتل کردیا اور فرار ہوگئے۔ڈگری پولیس نے اطلاع ملنے پر جائے وقوعہ سے لاش کو تحویل میں لے کر تعلقہ اسپتال ڈگری پہنچایا۔ضروری کارروائی کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کردی گئی۔تفصیلات کے مطابق ڈگری کے قریب ڈسکو موری کے مقام پر گوٹھ نمرو کپری کے رہائشی نیاز محمد عرف نیازو کپری کو چار مسلح افراد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا اور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

واقعے کے متعلق ڈی ایس پی ڈگری میر آفتاب تالپور نے صحافیوں کو بتایا کہ ایک ہفتہ قبل مقتول نیاز کپری اور خان محمد بھٹی کے درمیان کیبن رکھنے کے تنازع پر تلخ کلامی ہوئی تھی جس کے بعد مقتول اور اس کے بیٹوںنے خان محمد بھٹی پر کلہاڑیوں سے حملہ کرکے اسے زخمی کردیا تھا۔ اس واقعے کا مقدمہ خان محمد بھٹی کی مدعیت میں مقتول اور مقتول کے بیٹے بلاول کے خلاف ڈگری تھانے میں درج کرایا گیا تھا۔پر ۔ڈی ایس پی نے بتایا عینی شاہدین سے ملنے والی معلومات کے مطابق خان محمد بھٹی اپنے تین چار ساتھیوں کی مدد سے دو کاروں میں سوار ہوکر آئے اور فائرنگ کرکے نیاز کپری کو قتل کردیا اور گاڑیوں میں بیٹھ کر فرار ہوگئے۔ 

ایک گاڑی خراب ہونے پر ملزمان اسے وہیں چھوڑ گئےجسے پولیس نے تحویل میں لے لیا ہے۔ڈی ایس پی کے مطابق جائے وقوعہ سے مقتول کی موٹر سائیکل بھی ملی، جسے پولیس تھانےلے آئی ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لئے پولیس چھاپے ماررہی ہے۔مقتول کی لاش ضروری کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کردی گئی۔

جنگ نے گزشتہ اتوار کو شائع ہونے والی اپنی اسٹوری میں ڈگری بائی پاس روڈ پر گائوں کی جانب جانےوالے راستے پر پان سگریٹ کی کیبن رکھنے پر ہونے والے تنازعے میں گزشتہ دنوں نیازکپری اور اس کے بیٹوں کی جانب سے کلہاڑی کےکے وار کرکے ریٹائر پولیس اہلکار خان محمد بھٹی زخمی ہونے کا تذکرہ کیا تھا۔تاہم مقدمہ درج کرانے کے باوجودملزمان کی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی تھی.جس کی وجہ سے فریقین کے مابین کشیدگی برقرار رہی ۔ مذکورہ واقعہ کے ردعمل میں نیاز کپری کو قتل کر دیا گیا ۔مقتول کے ورثاء کے مطابق خان محمد بھٹی اور اس کے ساتھی دوکاروں میں سوار ہوکر آئے، مقتول پر گولیاں برسائیں ، اور فرار ہوگئے۔

ایک کار خراب ہونے پر وہیں چھوڑ گئے۔ نیاز محمد کپری کے بیٹے جمن کپری کی مدعیت میں ڈگری پولیس نے پانچ افراد، ریٹائرڈ پولیس اہل کارر خان محمد بھٹی اس کےدو بیٹوں ہوش محمد عرف ہوشو، امتیاز علی بھٹی،، زاہد حسین عرف مجید اور ایک نامعلوم شخص کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرکےملزمان کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارنا شروع کردیئے ہیں۔بعد ازاں قتل کے مرکزی ملزم سابق پولیس اہلکار خان محمد بھٹی کو اس وقت گرفتار کیا گیاجب وہ کار میں سوار ہوکر جارہا تھا۔پولیس نے خفیہ اطلاع ملنے پر ٹنڈو باگو روڈ دیھ 170 چوسول اسٹاپ سے ملزم کو قتل میں استعمال ہونے والی پستول اور کار سمیت گرفتار کرلیا گیا۔ علاوہ ازیںعوامی حلقے کہتے ہیں کہ اس قتل کے واقعے میں اگر دیکھا جائے تو پولیس کی سستی اور لاپروائی کی وجہ سے قتل کا واقعہ رونما ہوا۔

ڈگری میں اغواء کی وارداتیں بھی روز مرہ کا معمول بن گئی ہیں۔ سیشن کورٹ میرپور خاص کی جانب سے جاری احکامات پر کوٹ غلام محمد کے نواحی گاؤں دلدار آرائیں کے رہائشی اعجاز حسین آرائیں نے ڈگری تھانے میں اپنی بیوی کے اغواء کامقدمہ درج کرواتے ہوئے بتایا کہ اس کی پنجاب میں زرعی زمین ہے.، جس پر کچھ مسائل درپیش ہیں۔ ان کے حل کے لیے ایک شخص نے مجھے یقین دہانی کروائی تھی۔ کچھ روز قبل میری بیوی جو تین بچوں کی ماں ہے۔ اپنے بیٹے کے ہم راہ گھر سے دو لاکھ روپے کیش اور پانچ تولے سونا لے کر نکلی جب وہ معظم پٹرول پمپ ڈگری کے قریب پہنچی تو ٹنڈو جان محمد کے رہائشی میرے ہم زلف اور اس کی بیوی کی ملی بھگت سے اسے اغواء کر لیا ۔

پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی۔ بعدازاں ڈگری پولیس نے مغوی خاتون کو بازیاب کراکرعدالت میں پیش کیا۔عدالت میں عورت نے اپنے بیان میں کہا کہ میرا شوہر مجھ پر تشدد کرتا ہےجس پر میں اس سے ناراض ہوکر کراچی میں اپنی بہن کے پاس آگئی تھی۔ اب بچوں کی چاہت میں ان سے ملنے آرہی تھی۔مگر اب میں اپنی بہن کے پاس ٹنڈو جان محمد جانا چاہتی ہوں۔جس پر عدالت نے خاتون کو اپنی مرضی کے مطابق رہنے کی اجازت دے دی۔. ایک اور واقعے میں دو بچوں کی ماں نوجوان خاتون کو اس کا پڑوسی اغوا کرکے لے گیا۔ مغوی خاتون کا شوہراپنا احتجاج ریکارڈ کرانے پریس کلب پہنچ گیا۔ 

ڈگری بائی پاس کے رہائشی اللہ رکھیو خاصخیلی اپنے رشتے دار عزیز الھڈنو کے ہمراہ پریس کلب میں صحافیوں کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دنوں میری بیوی دو بچوں کی ماں راحیلہ اور میرے ڈیڑھ سالہ معصوم بیٹے عبدالرزاق کو میرا ہمسایہ اغوا کرکے لے گیا۔جس کی اطلاع ہم نے ڈگری پولیس کو بھی دی،مگر میری بیوی اور بیٹے کو اب تک بازیاب نہیں کرایا جاسکا۔ڈگری کے قریب صوفی آباد اسٹاپ پر نامعلوم چوروں نے میر محمد کھوکھر اور مظفر مہر کی کریانہ کی دوکانوں میں نقب لگا کر دکانوں اور کیبن میں موجود لاکھوں روپے مالیت کا سامان چوری کرکے فرار ہوگئے۔ چوری کی اطلاع فوری طور پر ڈگری پولیس کو دی گئی۔

پولیس نےکھوجیوں کی مدد سے چوروں کے پیروں کے نشانات کی مدد سے چوروں کی تلاش شروع کردی ہے۔ مگر تاحال چوروں کا سراغ نہ لگایا جاسکا۔ ڈگری کے قریب شوہر نے بیوی کا گلا گھونٹ کراسے قتل کردیا۔مقتولہ خاتون کے والد کی مدعیت میں پولیس نے شوہر اور چچا کے خلاف مقدمہ درج کرکے شوہر کو گرفتار کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق ڈگری کے قریب ٹاکن موری کے نزدیک واقع گوٹھ مولوی احسان آرائیں میں کھیتوں میں کام کے دوران ہاری خاتون شریمتی شملی بنت ڈیوشی بجانو کو اس کے شوہر شگن بجانو نے گلا گھونٹ کر قتل کردیا۔اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او ڈگری اسلم جمالی جائے وقوعہ پر پہنچے اور لاش کو تحویل میں لے کر تعلقہ اسپتال ڈگری پہنچایا۔جہاں پوسٹ مارٹم کے بعد لاش مقتولہ کے والد کے حوالے کردی۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید