آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ذیابطیس کے 90فیصد مریض ٹائپ ٹو کا شکار

ذیابطیس تاحیات ساتھ رہنے والی ایسی طبی حالت ہے جو کہ ہر سال لاکھوں افراد کی جان لے لیتی ہے، اور یہ کسی کو بھی لاحق ہو سکتی ہے۔ یہ بیماری اس وقت ہوتی ہے جب جسم اپنے اندر موجود شکر (گلوکوز) کو حل کر کے خون میں شامل نہیں کر پاتا۔ ذیابطیس عالمی سطح پر تیزی سے پھیلتی ہوئی بیماری ہے اور ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 42 کروڑسے زائد افراد اس کا شکار ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، یہ تعداد 40سال پہلے کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے۔

ذیابطیس کی وجہ

جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو ہمارا جسم نشاستے (کاربوہائیڈریٹس) کو شکر (گلوکوز) میں تبدیل کر دیتا ہے، جس کے بعد لبلبے (پینکریاز) میں پیدا ہونے والا ہارمون ’انسولین‘ ہمارے جسم کے خلیوں کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ توانائی کے حصول کے لیے گلوکوز کو جذب کریں۔ ذیابطیس تب لاحق ہوتا ہے، جب انسولین مناسب مقدار میں پیدا نہیں ہوتی یا کام نہیں کرتی، اس کی وجہ سے گلوکوز ہمارے خون میں جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

ذیابطیس کی اقسام

ذیابطیس کی کئی اقسام ہیں، تاہم دو طرح کی ذیابطیس زیادہ عام ہے۔ ٹائپ ون ذیابطیس میں لبلبہ انسولین بنانا بند کر دیتا ہے، جس کی وجہ سے گلوکوز خون کے بہاؤ میں جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ سائنسدان یہ تو نہیں جانتے کہ اس کی اصل وجہ کیا ہے لیکن ان کا خیال ہے کہ ایسا شاید جینیاتی اثر کی وجہ سے ہوتا ہے یا پھر کسی وائرل انفیکشن کے باعث لبلبے میں انسولین بنانے والے خلیے خراب ہو جاتے ہیں۔ ذیابطیس کے مریضوں میں سے 10فیصد ٹائپ ون کا شکار ہیں۔

ذیابطیس ٹائپ 2 اس مرض کی سب سے عام قسم ہے اور90فیصد افراد کو اسی بیماری کا سامنا ہوتا ہے۔ ٹائپ 2 ذیابطیس میں لبلبہ یا تو ضرورت کے مطابق انسولین نہیں بناتا یا جو بناتا ہے وہ ٹھیک طریقے سے کام نہیں کرتی۔ ذیابطیس ٹائپ 2 لاحق ہونے کی صورت میں کچھ عرصے بعد انسولین بنانے والے نظام پر دباؤ بڑھ جاتا ہے اور خلیات تباہ ہونے لگتے ہیں، جس کے نتیجے میں جسم کی انسولین بنانے کی صلاحیت مزید کم ہوجاتی ہے۔ 

ٹائپ ٹو کا مرض عام طور پر 40 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کو لاحق ہوتا ہے جس کے علاج کے لیے غذا اور ورزش وغیرہ پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے، تاہم موجودہ عہد کے ناقص طرزِ زندگی کے نتیجے میں یہ بیماری نوجوانوں کو بھی اپنا شکار بنانے لگی ہے۔ کچھ حاملہ خواتین کو بھی دورانِ زچگی ذیابطیس ہو جاتا ہے کیونکہ جسم ان کے اور بچے کے لیے درکار انسولین نہیں بنا پاتا۔ 

مختلف مطالعوں کے اندازوں کے مطابق چھ سے 16فیصد خواتین کو دورانِ حمل ذیابطیس ہو جاتا ہے۔ ایسے میں انھیں غذا اور ورزش کے ذریعے شوگر لیول کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے تاکہ اسے ٹائپ ٹو ذیابطیس میں بدلنے سے روکا جا سکے۔

ذیابطیس ٹائپ ٹو کیوں ہوتا ہے؟

ذیابطیس کی تمام اقسام دو طرح کے عوامل یکجا ہونے سے پید اہوتی ہیں؛ وراثت اور ماحولیاتی اثرات۔

اگر کسی کے والدین، بہن بھائی یا کسی خونی رشتے کو ذیابطیس کا مرض لاحق ہے تواسے ذیابطیس ہونے کا خطرہ کسی دوسرے شخص سے زیادہ ہوتا ہے۔ تاہم یاد رکھنا چاہئے کہ جنوبی ایشیا کے افراد میں (جن میں پاکستان بھی شامل ہے)ذیابطیس ٹائپ 2 کا خطرہ ویسے ہی زیادہ ہے۔ یعنی ہم کہہ سکتے ہیں اگر ہمارے خونی رشتوں میں ذیابطیس پہلے سے موجود نہ ہو، تب بھی ہمارے لیے ذیابطیس ٹائپ ٹو ہونے کا خطرہ دوسری اقوام کی نسبت زیادہ ہے۔ ذیابطیس ٹائپ ٹو کی وجوہات کو سمجھانے کی غرض سے، ہم اسے دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔

٭ ایک وہ جن پر آپ کا اختیار نہیں ہے، مثال کے طور پروراثت، 45 برس سے زائد عمر ہونا، بلڈ پریشر زیادہ ہونا، خون میں چربی کے تناسب کی بعض خرابیاں وغیرہ۔

٭ دوسری ایسی وجوہات جو آپ کے اختیار میں ہیں، مثال کے طور پر وزن کی زیادتی، خاص طور سے پیٹ کا بڑھنا، ورزش اور جسمانی مشقت کی کمی وغیرہ۔

ذیابطیس ٹائپ ٹو کی علامات

ذیابطیس ٹائپ ٹو کے شکار افراد میں اس کی علامات کی نشاندہی کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ جب کسی میں اس کی علامات ظاہر ہوتی ہیں، تو درحقیقت خدشہ ہوتا ہے کہ اس سے کئی برس پہلے وہ شخص اس کا شکار ہوچکا ہوتا ہے۔ 

محققین کے مطابق، اس کا مطلب یہ ہے کہ ذیابطیس کو پنپنے سے روکنے کا عمل زندگی میں بہت پہلے شروع کر دینا چاہیے۔ ذیابطیس ٹائپ ٹو کی ابتدائی علامات میں بہت زیادہ پیاس محسوس ہونا، منہ خشک ہونا، زیادہ بھوک لگنا اور بار بار پیشاب کی حاجت ہونا (اکثر ہر گھنٹے) اور وزن میں غیرمعمولی اضافہ یا کمی شامل ہے۔ بعدازاں، جب متاثرہ شخص کا بلڈ شوگر لیول بڑھنے لگتا ہے تو اسے سردرد، نظر میں دھندلے پن اور تھکاوٹ کی اضافی علامات کی شکایت ہوسکتی ہے۔

ذیابطیس ٹائپ ٹو کی تشخیص

بلڈ ٹیسٹ کے ذریعے گزشتہ 2سے 3ماہ کا اوسط بلڈ شوگر لیول جان کر ڈاکٹر اس کی تشخیص کرتا ہے۔ مزید برآں، ڈاکٹر متاثرہ شخص کو رینڈم بلڈ گلوکوز ٹیسٹ کی بھی ہدایت کرسکتا ہے، جس سے اس کے موجودہ شوگر لیول کا پتہ چلتا ہے۔

علاج

ڈاکٹر متاثرہ شخص کی طبیعت اور بلڈ شوگر لیول اور ہسٹری کا جائزہ لینے کے بعد ابتداء میں ہی گولیوں اور دیگر ادویات کے ساتھ انسولین تجویز کرسکتا ہے۔ اس طرح کا علاج ان افراد کے لیے مؤثر رہتا ہے، جن میں Beta-cell failureکی تشخیص ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہائی بلڈ شوگر کی صورت میں لبلبہ انسولین بنانا ترک کردیتا ہے۔ اس صورتِ حال میں انسولین کا روزانہ استعمال ناگزیر ہوجاتا ہے۔

احتیاط

ذیابطیس ٹائپ ٹو سے متعلق حیران کن بات یہ ہے کہ آپ اس سے بچ سکتے ہیں اور درج ذیل مشوروں پر عمل کرکے آپ اس کے خطرات کم کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ صحت مند غذا ئیں لیں، روزانہ کم از کم آدھے گھنٹے تک ورزش کریں اور وزن کی صحت مند حد کو برقرار رکھیں۔