آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ رمضان المبارک 1442ھ22؍اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بورخیس نے خوابوں، بھول بھلیوں، کتب خانوں، آئینوں، مَن گھڑت مصنّفین اور اساطیر وغیرہ پر مشتمل منفرد نوعیت کی کہانیاں لکھنی جاری رکھیں، یہاں تک کہ دنیا کو جادوئی حقیقت نگاری سے متعارف کروانے والے ہسپانوی زبان کے ادب میں اس کے موجد ٹھیرے۔ اس طرز اور نوع کے ادب اور مشقِ مسلسل کے حوالے سے فرانز کا فکاکا حوالہ بھی اہم ہے۔ وہ اپنے طرز ِ نگارش سے غیرمطمئن رہتا تھا۔ اس کی زندگی میں اُس کی کم ہی تحریریں ادبی رسائل میں اشاعت پذیر ہوئیں افسانوں کی فقط دو کتابیں شائع ہوئیں۔ اُنھیں بھی خاص توجّہ نہ دے کر نظر انداز کردیا گیا۔ اس کے باوجود اس نے اپنی ’’شدید داخلی خواہش‘‘ کے تحت لکھنا مسلسل جاری رکھا۔ اُسے لوگوں سے غرض نہ تھی، فقط اپنے لکھنے سے اُس کا تعلق تھا۔ یہ اُس مور کے مماثل ہے، جو سب سے بے پروا، اکیلا، جنگل میں اپنی مستی میں رقص کرتا ہے۔ اُس نے اپنے دوست، میکس بروڈ کو کہا کہ اُس کی وفات کے بعد (41برس کی جوان عُمری میں) اُس کی کتابیں نذرِآتش کردی جائیں۔ 

میکس بروڈ نے ان کی خواہش پر عمل نہ کرکے دنیائے ادب پراحسان کیا اور کافکا کا تذکرہ انگریزی محاورے کے مطابق تاریخ کا حصّہ ہے۔ ایسی ہی خواہش کا اظہار قدیم تاریخ کے عظیم رومن شاعر، دانش وَر اور فلسفی ورجل نے بھی کیا تھا۔ روم سے یونان جاتے ہوئے وہ بیمار پڑگیا اور اُسے لوٹنا پڑا۔ واپسی پر جلد ہی اُسے موت نے آلیا۔ اُس نے بسترمرگ پر خواہش کا اظہار کیا کہ اُس کی نامکمل نظموں کو جلا دیا جائے۔ البتہ بادشاہ آگسٹس نے اس کی خواہش ماننے سے انکار کردیا اور صدیوں پر احسان کیا۔ یاد رہے کہ یہ وہی آگسٹس ہے، جو عظیم سلطنت ِ روما کا پہلا حکم ران تھا۔

انسان کی رکاوٹیں اور پریشانیاں اُس کے ساتھ پیدا ہوتی ہیں اور اُس کی موت کے ساتھ ہی مرجاتی ہیں۔ یہ انسان کے سائے کی طرح ہیں۔ بے شک ہر انسان جذباتی طور پر دوسرے سے مختلف ہے اور صرف تلقین کرنے سے مزاج نہیں بدلتا۔ یہ کہہ دینے سے ’’پریشان نہیں ہونا‘‘ ہم دردی کا اظہار تو ہوتا ہے، مگر پریشانیوں کو کم کرنے کے دو ہی طریقے ہیں، پہلا یہ کہ انسان اُن کا حل نکال لے، دوسرا یہ کہ انسان انھیں نظر انداز کرنے کی کوشش کرے(جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں) انسان اپنے سائے سے نہیں بھاگ سکتا۔ اس کا واحد حل اُن پریشانیوں کا مقابلہ کرنے میں ہے اور مقابلہ انھیں حل کرکے ہی کیا جاسکتا ہے۔ یاد رہے کہ یہ منیر نیازی کے دریا کی طرح ہیں، یعنی ایک پریشانی سے چھٹکارا پانے کے بعد دوسری سامنے آ موجود ہوتی ہے۔ 

زندگی میں ان سے نجات ممکن نہیں۔ بقول منیر نیازی ؎ اِک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو…مَیں ایک دریا کے پار اُترا تو مَیں نے دیکھا۔ ایک مرتبہ ایک نفسیات کی پروفیسر طلبہ سے بھرے آڈیٹوریم میں ’’تفکر کشائی‘‘ اور ’’تدارک ِ ذہنی دباؤ‘‘ یعنی Stress Management پر لیکچر دے رہی تھی۔ اُس نے لیکچر کے دوران ایک پانی سے آدھا بھرا گلاس اٹھایا۔ طلبہ نے اُسے بے زاری سے دیکھا۔اُنھیں توقع تھی کہ وہ وہی روایتی گِھسی پِٹی، آدھا گلاس خالی، آدھا بَھرا والی بات دہرائے گی، لیکن اُن کی توقع کے برخلاف اُس نے ایسی کوئی بات نہ کی۔ اُس نے سوال پوچھا۔ ’’مَیں نے ایک ہاتھ میں جو پانی کا گلاس تھام رکھا ہے، اس کا وزن کتنا ہوگا؟‘‘طلبہ نے چند گرام سے لے کر آدھا کلو گرام تک کے جوابا ت دیے۔ 

پروفیسر ان کے جوابات سُنتی رہی۔ جب خاموشی چھاگئی تو وہ بولی ’’میرے خیال میں اِس کے وزن سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اصل فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ مَیں اِسے کتنی دیر تھامے رکھتی ہوں۔ اگر مَیں اِسے ایک دومنٹ کے لیے تھامے رکھوں تو یہ خاصا ہلکا ہے۔ اگر مَیں اِسے ایک گھنٹا تھامے رکھوں تو میرے بازو میں تکلیف ہوجائے گی۔ اگر مَیں اِسے پورا دن تھامے رکھوں تو میرے ہاتھ، بازو اور کندھے کے پٹھے اکڑ جائیں گے، سُوجن آجائے گی اور تکلیف اتنی بڑھ جائے گی کہ ہوسکتا ہے مجھے اِسے گرانا پڑجائے۔ تمام صُورتوں میں گلاس کا وزن ایک ساہے، صرف اِسے تھامے رکھنے کے وقت میں فرق ہوگا۔‘‘ تمام طلبہ نے اثبات میں سرہلایا۔

پروفیسر نے بات جاری رکھی ’’آپ کی مشکلات اور پریشانیاں اِس پانی کے گلاس کی طرح ہیں۔ آپ اِن کے بارے میں تھوڑی دیر سوچیں اور فکر مند رہیں توکچھ نہیں ہوتا۔ ذرا زیادہ دیر سوچیں تو آپ تکلیف میں مبتلا ہوتے چلے جاتے ہیں۔ طویل مدت تک ان کے بارے میں سوچتے رہیں تو آپ کی تکلیف کئی درجے بڑھ جائے گی۔ یہاں تک کہ آپ کچھ کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ تاوقتیکہ آپ ان پریشانیوں کو اپنے دماغ سے جھٹک نہ دیں۔ جھٹکنا تو ہے ہی، تو شروع ہی میں کیوں نہ جھٹک دیں، بجائے اعصاب کو معطل کر کے جھٹکنے کے۔‘‘

خوش وَنت سنگھ نے اپنی زندگی سے سیکھے اسباق میں سے ایک ایسا سبق بیان کیا تھا، جو سونے کے پانی سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ وہ ہے ’’غصّہ نہ کریں‘‘ ایسا کہنا آسان ہے، اس پر عمل مشکل ہے۔ ہرانسان کو غصّہ آتا ہے۔ کسی کو ظلم و زیادتی پر، کسی کو توقعات کے پورا نہ ہونے پر، کسی کو ناجائز مطالبات پر اورکسی کے یہ مزاج کا حصّہ ہوتا ہے۔ ہمیں اپنی زندگیوں میں بعض مرتبہ کسی کے بارے میں سُننے کو ملتا ہے ’’وہ شخص زبان کا کڑوا ہے، پر دل کا اچھا ہے‘‘ میری عاجزانہ استدعا یہ ہوتی ہے کہ دل کا اچھا شخص کسی کو دُکھ نہیں دے سکتا۔ جو شخص کسی دوسرے آدمی کو زبان سےزخم دیتا ہے، وہ اچھے دل کا مالک کیسے ہوسکتا ہے؟انسانی معاشرہ بقائے باہمی کےبنیادی اصول پرقائم ہے۔ ہرشخص کی پسند اور اس کا مزاج دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ اگر خود غرضی، خود پرستی اور منفی زاویۂ نظر سے دامن بچا لیا جائے تو بالعموم یہ انسانی معاشرے کے لیے اچھا ہوتا ہےاوربالخصوص فرد کےلیے۔ انسانی غصّہ بقول مہاتما بدھ، خواہش کےبطن سے جنم لیتا ہے۔ ’’خواہش‘‘ تیاگنے کی نصیحتیں سنت جوگی کرتے آئے ہیں۔ اس پرکرشنا مورتی کا عُمدہ قول ہے ’’ہم سب مشہور و مقبول ہونے کی خواہش رکھتے ہیں، جس لمحےہم خواہش کرتے ہیں ہم آزاد نہیں رہتے۔‘‘ یعنی ہم اپنی خواہش کے غلام ہوجاتے ہیں۔ 

اس کا دوسرا رُخ (جو زیادہ عملی اور حقیقت پسندانہ ہے) یہ ہے کہ خواہش کا وجود انسانی تہذیب کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ خواہش سے ایجاد برآمد ہوتی ہے، خیال برآمد ہوتا ہے اور فن پارہ سامنے آتا ہے۔ دنیا کوسدھارنے کی خواہش ہویا روشنی پالینے کی خواہش، خواہش تو وہ خزانہ ہے، جو درویش کے گدڑی میں بھی پایا جاتا ہے اورحاکم کے ہاں بھی۔ دوسری جانب خواہش کی زیادتی سے خودغرضی، نفرت اور غصّہ بھی جنم لیتا ہے۔ ہرانسان اپنی فطرت اور سرشت کا قیدی ہے۔ کسی دوسرے کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کے لیے انگریزی محاورے کے مطابق اس کے جوتوں میں کھڑا ہونا ضروری ہے۔ بلند حوصلگی اور آمادگی سے اس کے زاویۂ نظر کے رُخ پر دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بقائے باہمی، مثبت زاویۂ نظر، نقطۂ نظر میں تفریق، روایت اور عادت سے نکل کر سوچنے اور نرم خُوئی پر چند دل چسپ حکایات پیشِ خدمت ہیں۔ ان میں فکر کا سامان ہےاور اس بات کا اعادہ کہ قصّے اورحکایات بعض اوقات انسانی دماغ پر بات اس طرح نقش کردیتے ہیں، جیسےنصیحت و تلقین نہیں کرپاتی کہ کہانی انسان کو مرغوب ہے۔ 

بقائے باہمی کے حوالے سے ایک دل چسپ تجربہ کیا گیا۔ ایک تجربہ گاہ میں پچاس افراد کو مدعو کیا گیا۔ یہ افراد ایک سیمینار میں شریک تھے۔ پچاس شرکا میں سے ہرفرد کو ایک ایک غبارہ دے دیا گیا۔ اُن سے کہا گیا کہ اپنے غبارے پر اپنا نام مارکر سے لکھیں۔ جب سب غباروں پر اپنے نام لکھ چُکے تو اُن سے غبارے لے لیے گئے اور ملحقہ کمرے میں اکٹھے چھوڑ دیے گئے۔ پھر اُن سب شرکا کو ملحقہ کمرے میں لے جایا گیا اور پانچ منٹ دیےگئے، جن میں اُنھوں نے اپنے اپنے نام والے غبارے ڈھونڈنے تھے۔ پانچ منٹ میں بمشکل دو چار شرکا ہی اپنے ناموں والے غبارے تلاش کر پائے۔ تب اُن سے کہا گیا کہ کوئی بھی ایک غبارہ تھام لیں اور اس پر جس فرد کا نام لکھا ہو، اُسے تھما دیں۔ چند منٹوں میں ہر شریک ِ تجربہ نے اپنے نام والاغبارہ تھام رکھا تھا۔ تجربے کے بعد اُنھیں چند فقروں میں اِس تجربے کا مقصد سمجھایا گیا۔ وہ فقرے تھے ’’یہ تجربہ ہماری زندگیوں کا عکّاس ہے۔ ہم سب اپنے اِردگرد خوشیاں تلاش کرتے ہیں۔ مگر ہمیں پتا نہیں چلتا کہ خوشی ہے کہاں؟درحقیقت ہماری خوشی دوسروں کی خوشی میں پنہاں ہوتی ہے۔ آپ اُنھیں اُن کی خوشی دے دیں، وہ آپ کو آپ کی خوشی تھما دیں گے۔‘‘ ہم میں سے بہت سے لوگ دنیا کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں، اگرہم کسی ایک انسان کی زندگی میں بھی فرق ڈال دیں تو اُس کی دنیا بدل سکتے ہیں کہ ہر فرد اپنی دنیا اپنے ساتھ لے کر چلتا ہے۔

اسٹارفش سے، جسے اردو میں نجم البحر (یعنی پانی کا ستارہ) بھی کہتے ہیں، متعلق ایک مختصر حکایت ہے۔ ایک صبح ایک بوڑھا شخص ساحلِ سمندر پر چہل قدمی کر رہا تھا۔ اُس نے دیکھا کہ دُور ایک لڑکا سمندر میں مسلسل کچھ پھینک رہا ہے۔ تجسّس کےہاتھوں مجبور ہوکر وہ لڑکے کے قریب چلا گیا۔ لڑکا ساحل پر بکھری سیکڑوں اسٹارفش میں سے، جو ہاتھ آرہی تھی، ساحل کی ریت سے اٹھا کر واپس سمندر میں پھینک رہا تھا۔’’یہ تُم کیا کررہے ہو؟‘‘ بوڑھے شخص نے لڑکے سے پوچھا۔ لڑکے نے جواب دیا’’ اسٹارفش کو واپس پانی میں پھینک رہا ہوں۔ اگر سورج نکل آیا اور یہ ساحل پر موجود رہیں تو مرجائیں گی۔‘‘ بوڑھے نے جھنجھلا کر کہا ’’یہ عجیب احمقانہ حرکت ہے۔ یہ ساحل سیکڑوں میل طویل ہے اور اس پر لاکھوں اسٹار فش بکھری پڑی ہیں۔ 

تم ان میں سے جتنی بھی سمندر میں پھینک دو۔ تم کوئی خاص فرق نہیں ڈال سکتے‘‘ لڑکے نے ایک اسٹارفش اُٹھائی اوراسے سمندر میں پھینکتے ہوئے بولا ’’لیکن اسے ضرور فرق پڑتا ہے۔‘‘ اس نے ایک اوراسٹارفش اٹھائی اوراسے بھی سمندر میں پھینکتے ہوئے بولا’’ اور اسے بھی فرق پڑتا ہے۔‘‘نقطہ ٔنظر میں کیا کیا تفریق ہوتی ہے۔ تقسیمِ ہند سے پہلے پاک وہند میں 565ریاستیں تھیں، جن میں سے 552ریاستیں بھارت اور13ریاستیں پاکستان کے حصّے میں آئیں۔ انھی ریاستوں میں سے ایک ریاست پٹیالا میں ایک رئیس آدمی رہتا تھا۔ ایک مرتبہ وہ آنکھوں کی تکلیف میں مبتلا ہوگیا۔ تکلیف اتنی بڑھی کہ ناقابلِ برداشت ہوگئی۔ اُس نے ریاست کا کوئی ماہرِ امراضِ چشم، وید، حکیم نہیں چھوڑا، جس سے علاج نہ کروایا، مگرتکلیف برقرار رہی۔ اُس کےایک مصاحب نے اُسے ایک دانا حکیم کا بتایا، جسے قدرت نے امراضِ چشم کے علاج کی خاص صلاحیت دی تھی۔ رئیس اُس حکیم کے پاس گیا۔ حکیم نے خُوب توجّہ سے اُس کا معائنہ کیا اور ایک عجیب علاج تجویز کیا۔

اُس نے رئیس کو کہا کہ وہ صرف سبز رنگ پر توجّہ مرکوز رکھے اور بقیہ رنگوں کو دیکھنے سے اجتناب کرے۔ سبز رنگ کی ٹھنڈک اور طراوت اس کی آنکھوں کو آرام دے گی اور آہستہ آہستہ اُس کی آنکھیں ٹھیک ہوجائیں گی۔ رئیس اپنی تکلیف کے ازالے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار تھا۔ خیر، چند روز بعد حکیم، رئیس کی خیریت دریافت کرنے آیا۔ جیسے ہی وہ صدر دروازے سے اندر داخل ہوا، ایک خادم آگے بڑھا اوراُس نے حکیم کو سبز روغن سے رنگ دیا۔ حکیم حیران پریشان اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔ پوری حویلی سبز رنگ میں رنگی ہوئی تھی۔ کیا ڈیوڑھی تو کیا کھڑکیاں، کیا برُجیاں تو کیا پرچھتی، سب سبز رنگ میں ڈوبی ہوئی تھیں۔ وہ رئیس کے سبز مہمان خانے میں گیا۔ وہاں رئیس سبز لباس پہنے بیٹھا تھا۔ جب حکیم نے ہر شے پرسبز روغن رنگنے کی وجہ پوچھی تو رئیس نے بتایا کہ وہ حکیم کی تجویز کے عین مطابق صرف سبز رنگ کو دیکھ رہا ہے، اِس لیے اپنی نظر کی زَد میں آتی مختلف رنگوں کی تمام اشیا پر سبز رنگ کروادیا ہے۔ 

یہ سُن کرحکیم مُسکرایا اور بولا ’’اگر آپ اتنا سرمایہ خرچ کرکے اپنے گردوپیش کو سبز روغن میں رنگنےکی بجائے ایک سبز چشمہ خرید کر پہن لیتے تو اس تردّد کی ضرورت نہ پڑتی۔‘‘ نقطۂ نظر میں تفریق کے حوالے سے ایک اورحکایت ہے۔ ایک شخص کے چار بیٹے تھے۔ وہ اپنے تمام بیٹوں کو زندگی میں کام یاب دیکھنا چاہتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ بیٹے اپنی زندگی کے فیصلے خود اور جلد بازی میں نہ کریں۔ اس نے فرداً فرداً ان کو دُور دراز ایک مُہم پر بھیجا۔ مطلوبہ مقام پر ایک بہت خُوب صُورت ناشپاتی کا درخت تھا، جس پر پورے علاقے میں سب سے شیریں رَس بھری ناشپاتیاں آتی تھیں۔سب سے بڑا بیٹا سردیوں، دوسرا بہار، تیسرا گرمیوں اورچوتھا بیٹا خزاں سے پہلے وہاں بھیجا گیا۔ 

جب سب ایک ایک بار وہاں سے ہو کر لوٹ آئے اور ایک برس گزر گیا تو باپ نے سب بیٹوں کو اکٹھا کیا۔ اُس نے باری باری سب سے پوچھا کہ اُنھوں نے درخت کو کیساپایا؟ بڑا بیٹا بولا ’’بابا،وہ ایک ٹیڑھا میڑھا بدنما درخت تھا‘‘دوسرے نے کہا’’نہیں بابا، وہ سرسبز وشاداب درخت تھا‘‘ تیسرا گویا ہوا’’ وہ درخت شگوفوں،سبزےاورکیف آگیں مہک سے بھرا تھا۔ بابا! مَیں نےاس سے زیادہ خُوب صُورت درخت آج تک نہیں دیکھا‘‘چوتھے، سب سے چھوٹے بیٹے نے سب کی رائے سے اختلاف کیا ’’بابا! وہ لذیذ رَس سے بَھری ناشپاتیوں سے لدا ہوا درخت تھااور زندگی سے بھرپور۔‘‘باپ نے جب سب کی رائے سن لی تو بولا ’’تم سب سچ کہہ رہے ہو۔ تم سب نے درخت کو صرف ایک موسم میں دیکھا۔ اُسے درست طور پر تب ہی جان سکتے ہو، جب تم اُسے سب موسموں میں دیکھ لو۔ انسان بھی اِسی طرح ہوتے ہیں، کبھی غصّے میں، کبھی خوشی میں، کبھی دانائی کے فیصلے کرتے ہوئے اور کبھی نادانی کے دَور میں حماقتیں کرتے ہوئے۔ سو، تم کسی انسان کے بارے میں اُس کی زندگی کے ایک موسم کو دیکھ کر فیصلہ نہیں کرسکتے۔‘‘ کوئی شخص نہ تو قطعی طور پر فرشتہ ہوتا ہے اور نہ ہی مکمل شیطان۔ ایک برُا شوہر، اچھا دوست ہوسکتا ہے اوراچھی ماں، برُی بہو ہوسکتی ہے۔ 

یہ تو اس مقام پر منحصر ہے، جس پرکھڑے ہو کر اُسے دیکھا جاتا ہے۔ مَیں نے بچپن سے اپنی والدہ کی ایک نصیحت کو حرز ِجاں بنا کر رکھا ہے ’’اگر تمھیں ہر طرف خرابی دکھائی دے اور ہر وہ شخص جس سے تمھارا پالا پڑے، برُا نکلے تو تمھیں اپنے اندر دیکھنے کی، اپنا آپ سدھارنے کی ضرورت ہے۔‘‘ عموماً خارج، باطن کا یعنی باہر، اندر کا آئنہ ہوتا ہے۔ ایک مرتبہ ایک مسافر ایک بستی سے دوسری بستی کی جانب سفر کررہا تھا۔ رستے میں اُسے ایک بدھ بھکشو ملا۔ بھکشو نے مسافر کو دیکھ کرسلام کیا۔ (جاری ہے)