آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کراچی والوںپر قیامت صغریٰ برپا ہو ئی ایک طرف سے نہیں بلکہ ہر طرف سے یلغار ہو ئی۔دن رات کی مسلسل بارشوں نے پورے شہر کو لپیٹ میں لے کربری طرح ادھیڑ ڈالا ،سارا انفرا سٹرکچر تباہ ہو گیا۔ 6سے 10فٹ تک سڑکوں پر پانی جمع ہو تا رہا۔گاڑیوں اور غریبوں کی موٹر سائیکلیں ڈوب گئیں ،دکانوں اور گھروں میں پانی بھر گیا ،اربوں روپے کا سامان تباہ ہو گیا ۔ میئر صاحب تو اپنی مدت پوری کر کے ساری ذمہ داری سندھ حکومت اور مرکزپر ڈال کر رخصت ہو گئے ۔سندھ حکومت میئر صاحب پر پہلے ہی اربوں روپے فنڈ ہضم کرنے کاالزام لگا کر اپنا دامن چھڑا رہی ہے اور مرکزسے صرف 10ارب کی توقع کر رہی ہے۔بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ اس رقم کیلئے بلبلا رہے ہیں ۔بجٹ کا بڑا حصہ سندھ حکومت کو ہر سال ملتا ہے ،جو ہزاروں ارب روپے ہوتا ہے ،مگر کراچی کے لئے ترقیاتی پروگراموں کا اعلان صفر۔

اس شہر کو درجنوں اداروں نے آپس میں مل بانٹ رکھا ہے اور سارا ٹیکس اور بجٹ کا حصہ جو مرکز سے ملتا ہے ،سب مل کر مک مکا کر لیتے ہیں کچھ حصہ کچی آبادی پر مشتمل ہے ۔کچھ کنٹوٹمنٹ بورڈ والے ذمہ دار ہیں ۔کچھ کے پی ٹی کا حصہ ہیں ،باقی کراچی میئر کو ملتا ہے ۔البتہ ٹیکس سندھ حکومت کے اکائونٹس میں جمع ہو تا ہے ۔70فیصد سے زائد ٹیکس دینے والا خود مرکز اور صوبائی حکومتوں کے درمیان فٹ بال بنا ہوا ہے ۔کو ئی اس سے ہمدردی تک نہیں جتاتا۔ستم ظریفی تو دیکھئے 3صدر بالتر تیب آصف علی زرداری،ممنون حسین اور عارف علوی کا تعلق کراچی سےتھا۔ دیگر صوبوں اور مرکز میں نیلی پیلی ٹرینیں ، بس،پل،سڑکیں ،ہائی ویز اس کے پیسوں سے بن چکے ہیں ۔کراچی کو ایک بس بھی میسر نہیں ہے ،سارا بجٹ سندھ حکومت بہت ہوشیاری سے ہضم کر جاتی ہے اور مرکز سے امداد کی توقع رکھتی ہے۔ان 3صدور نے ایک مرتبہ بھی 15سال میں کراچی کی ترقی کے لئے کوئی آواز نہیں اٹھائی۔ ۔وزیر اعظم عمران خان جن کو پہلی مرتبہ 38ایم این اے ،ایم پی اے کراچی والوں نے ایم کیو ایم سے ناطہ توڑ کر دئیے ۔آج سب کے منہ کو تالے لگے ہوئے ہیں ۔ ستم ظریفی دیکھیں ایک طرف بارش رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی،دوسری طرف کے الیکٹرک والے بجلی بند کر کے غائب ہو گئے اورچار،چھ دن بجلی غائب، جنریٹروں کے لئے پٹرول بھی ختم ہوگیا ۔ گھروں میں پانی داخل ہونے کی وجہ سے لوگوں نے نقل مکانی کی یا چھتوں پر راتیں گزاریں ۔سب سے پہلے وزیر اعظم عمران خان کا بیان آیا کہ کراچی والو گھبرانا نہیں ہم تمہیں اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔کراچی والے ابھی تک ان کے دورے کا انتظار کر رہے ہیں۔ صدر مملکت عارف علوی نے بھی کراچی آنے کی زحمت گوارہ نہیں کی،جو الیکشن سے پہلے توپچھلی بارشوں میں نکلے تھے اور ووٹ لینے کے لئے کہہ رہے تھے کہ پی ٹی آئی کی حکومت ہو تی تو بارش سے اتنا نقصان نہیں ہوتا یہ نواز شریف کی نا اہلی ہے ۔البتہ فوج کے سربراہ 2دن کے لئے اس شہر میں آکر چلے گئے۔پہلے ایم کیو ایم کے دور میں کراچی ہڑتالوں ، گھیرائوجلائو سے برباد ہوا۔ایک ایک ادارہ سندھ حکومت نے لے کرخوب ٹیکس کمایا مگر کہیں بھی نہیں لگایا ۔وہ اس لئے نالاں ہے کہ کراچی والے پی پی پی کو ووٹ نہیں دیتے لہٰذا پی پی پی والے کراچی اور حیدر آباد کے ساتھ سوتیلی ما ں کا سلوک کرتے ہیں۔شہروں کے نوجوانوں پر نو کریوں پر مکمل پابندیاں ہیں مگر یہ نوجوان اُف تک نہیں کرتے، مقامی اداروں میں کام کر کے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال رہے ہیں یا پھر سڑکوں پر رکشہ چلا کر، ٹھیلا لگا کر چپ ہیں۔کوئی مستقبل نہیں ہے ۔جب وہ الگ صوبے کی بات کرتے ہیں تو یہی حکمران ان کو آنکھیں دکھاتے ہیں۔ کیا کراچی سندھ کی دھرتی ماں نہیںہے جس کو کاٹ کر الگ ڈال رکھا ہے ۔صرف سپریم کورٹ کے محترم چیف جسٹس جناب گلزار احمد اکیلے سندھ حکومت کو بار بار عدالت میں بلا کر آئینہ دکھاتے ہیں تو کچھ دن اُن پر اثر ہو تا ہے ۔پھر وہی بے حسی طاری ہو جا تی ہے۔اس مرتبہ پہلی بار ڈی ایچ اے بارش کی وجہ سے دیگر علاقوں کی طرح ڈوبا اور پانی گھروںمیں اور بیسمنٹ میں چلا گیا جس سے وہاں بھی اربوں روپے کا نقصان ہوا، جب بارشیں رکیں تو وہاں کے رہائشیوں ،مکینوں نے کنٹونمنٹ بورڈ کا گھیرائو کیا، نعرے بازی کی متعلقہ افسران سے ٹیکس معاف کرنے کی استد عا کی کچھ شر پسندوں نے بھی کام دکھا یا اس وقت تو بورڈ کے افسران بھیگی بلی بنے رہے ۔دوسرے دن ایف آئی ار کٹوا کرمعززاراکین کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کر دیا ۔ایک تو نا اہلی پھراس پر سینہ زوری ۔البتہ سیاسی جماعتوں میں صرف جماعت اسلامی کراچی کے ناظم حافظ نعیم الرحمان اور ان کے ساتھی اس بارش میں امدادی کام کرتے رہے یا پھرمقامی رفاعی ادارے جن میں بیت السلام ،عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ،سیلانی ویلفیئر، ایدھی اور چھیپا کے کارکن گھروں پر کھانا اور راشن پہنچاتے رہے۔سندھ حکومت اور مرکزی حکومت بالکل خاموش اور لا تعلق رہی ،حتیٰ کہ ایم کیو ایم والے بھی غائب رہے ۔کورونا سے تو اللہ نے اس شہر کو بچالیا مگر اس زمین کے حکمرانوں نے اس کی کسرشہر کو تباہ کرکےنکال دی۔