آپ آف لائن ہیں
پیر 8؍ ربیع الاوّل1442ھ 26؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اَصحابِ فرائض اور عصبات کی موجودگی میں ذَوِی الارحام کو ترکے سے حصہ نہیں ملتا

تفہیم المسائل

سوال: مُسماۃ زیورجان کو اپنے خاوند عبدالقیوم کی جائیداد سے آٹھواں حصہ ملا ،زیورجان1972ء میں فوت ہوگئی ،اس کی وفات سے پہلے اس کے بھائی اور بہنیں بھی فوت ہوگئے ،البتہ چار بھانجے اور چار بھانجیاں زندہ تھیں ۔مُسماۃ زیور جان کی وفات کے بعد اس کی جائیداد اس کے ایک بھتیجے محمد یونس ولد محمد یوسف کو ملی، جبکہ اس کی بھتیجی مسماۃ بی بی خاتون اور مرحومہ کے بھانجے اوربھانجیوں کو محروم کردیا گیا ۔آپ سے سوال یہ ہے کہ شریعت کی رُو سے مسماۃ زیور جان کی جائیداد سے بھتیجی ، بھانجے اور بھانجی کو حصہ ملے گا یا نہیں ؟(عبدالواحد،تحصیل وضلع مانسہرہ)

جواب:اسلامی قانونِ وراثت میں ذوی الفروض مُقدّم ہیں یعنی جن ورثاء کے حصے قرآن نے مُقرر کیے ہیں ،پہلے انہیں اور جو کچھ اُن سے بچ رہے تو عصبات کے درمیان تقسیم کیاجاتا ہے ۔پھوپھی یا چچا کے ترکے سے کوئی اور وارث موجود نہ ہوں تو بھتیجا عصہ بنے گا اور بھتیجیاں محروم رہیں گے ۔

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : ترجمہ: ’’ذوی الفروض (یعنی وہ ورثاء جن کے حصے قرآن میں مقرر ہیں) کو ان کے مقررہ حصے دے دو ، سو جو کچھ ان سے بچ رہے تو وہ قریب ترین مرد وارث کے لئے ہے ، (صحیح بخاری : 6735)‘‘۔

علامہ ابن عابدین شامی ؒبحوالہ ’’سراجی ‘‘لکھتے ہیں : ترجمہ: ’’وہ عورتیں جن کا کوئی فرض حصہ مقر رنہیں اور ان کا بھائی عصبہ ہے تو وہ اپنے بھائی کے ساتھ عصبہ نہیں بنیں گی، جیسا چچا اور پھوپھی کہ کل ترکہ چچا کو ملے گانہ کہ پھوپھی کو،(ردالمحتار علیٰ الدرالمختار،جلد:10،ص:429،بیروت)‘‘۔

اس کی شرح میں مفتی یار محمد قادری لکھتے ہیں:ترجمہ:’’ اور اسی طرح چچا کا بیٹا وارث بنے گا نہ کہ چچا کی بیٹی اور اسی طرح بھتیجا عصبہ بنے گا نہ کہ بھتیجی،(مشکوٰۃ الحواشی فی شرح السراجی،ص:60)‘‘۔

بھانجے اور بھانجیاں ذَوِی الارحام میں شمار ہوتے ہیں اوراَصحابِ فرائض یا عصبات کی موجودگی میں ذَوِی الارحام وارث نہیں بنتے ،علامہ نظام الدین رحمہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں:ترجمہ:’’ ذَوِ ی الارحام اُس وقت وارث ہوں گے ،جب اَصحابِ فرائض میں سے وہ لوگ موجودنہ ہوں ،جن پر مال دوبارہ رَد کیا جاسکتا ہے اور عصبات بھی نہ ہوں ،(فتاویٰ عالمگیری ، جلد:6،ص:459)‘‘۔

زیرِبحث مسئلے میں چونکہ بھتیجا عصبہ بن رہاہے ، اس لیے سارا ترکہ اسے ملے گا اور زیورجان کی بھتیجی ،بھانجے اور بھانجیاں محروم رہیں گے ۔

اقراء سے مزید