آپ آف لائن ہیں
منگل 2ربیع الاول 1442ھ20؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

تجربہ کار ویب ڈیزائنرز کے کارآمد مشورے

ٹیکنالوجی کے اس دور میں ہمارا اکثر و بیشتر ویب سائٹس سے پالا پڑتا ہے اور کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ آپ کوئی ویب سائٹ استعمال نہ کرتے ہوں۔ ان ویب سائٹس کو ڈیزائن کرنے اور چلانے کے پیچھے زیرک لوگوں کا ذہن اور وژن کام کرتاہے۔ اس شعبے میں تخلیقی صلاحیتیں دکھانے والے پیشہ ور لوگوں کی بہت مانگ ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اب ان کی تعداد میں بھی بڑھتی جارہی ہے۔ ہمارے ملک میں بھی بے شمار ایسے ادارے ہیں جو ویب ڈیزائننگ کورسز او ر ڈپلومہ کرواتےہیں۔ 

اگر آپ بھی ویب ڈیزائنر بننے کا ارادہ رکھتے ہیں تو آپ کو اس پیشے کی مکمل معلومات کے ساتھ میدان میں اترنا ہوگا اور ویب ڈیزائن کرنے والے ماہرین کے نادر مشوروں سے استفادہ کرنا ہوگا۔ ویب ڈیزائننگ کے شعبے میں کئی سال کاتجربہ رکھنے والے مختلف ویب ڈیزائنرز ا س پیشے کو اپنانے والوں کو ذیل میں درج چند نادر مشوروں سے نوازتے ہیں، جن پر عمل کرکے وہ ایک کامیاب ویب ڈیزائنر بن سکتے ہیں۔

ایماندار ی سے بات کرنا

ایک ویب ڈیزائنر کی حیثیت سے آپ کی اپنے کلائنٹ سے روزانہ کی بنیادوں پر بات چیت ہورہی ہوتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ دن کا60 فیصد حصہ بات چیت، فیڈ بیک اور بریفنگ میں گزر جاتاہے اور کلائنٹ اس بات کی بار بار یقینی دہانی چاہتاہے کہ ویب ڈیزائنر کو جو سمجھایا گیا ہے وہ اسے اچھی طرح سمجھ گیا ہے اور اس کی توقعات کے مطابق ویب سائٹ تیار ہورہی ہے یانہیں۔

وارننگ سائن نظر انداز نہ کریں

سب سے اہم چیز ریڈ فلیگ (سرخ جھنڈی) ہے، جو کمیونیکیشن کے دوران آپ کو متنبہ کرتی ہے کہ آپ کی میٹنگ کا ٹائم ہوگیا ہے یا کسی بھی پروجیکٹ کی ڈیڈ لائن آگئی ہے۔ اسی طریقے سے آپ کو اپنے پروجیکٹ کی ٹائم لائن کے حوالے سے مقررہ وقت پر فیڈ بیک بھی لینا ہوتا ہے۔ اگر کوئی آپ کے دیئے گئے وقت اور کام کی قدر نہیںکرتا، یعنی دیر سے رابطہ کرتاہے تو پھر معاملات بگڑنا شروع ہو جاتےہیں۔ کلائنٹ کی طرف سے آنے والی ’سرخ جھنڈی‘ کا کوئی نعم البدل نہیں اور اسے پیسوں کے بدلے بھی نہیں روکا جاتا۔

بنیادی چیزوں کا دھیان

ایک ویب ڈیزائنر کے پاس ضروری بنیادی ڈویلپمنٹ اسکلز کا ہونا بہت ضروری ہے۔ خاص طور پر تین فرنٹ اینڈ کوڈنگ لینگویجز جیسے کہ ایچ ٹی ایم ایل، سی ایس ایس اور جاوا اسکرپٹ تو اسے ازبر ہونی ہی چاہئیں کیونکہ ویب ڈیزائنر جب کسی بھی چیز کا لے آئوٹ بناتاہے تو وہ پکسلز کی شکل میں ہوتا ہے جو کہ مختلف ڈیوائسز( ڈیسک ٹاپ سے آئی فون اور آئی پیڈ تک ) کی اسکرین پر نظر آتاہے۔ اگر آپ ان تینوں بنیادی لینگویجز کو نہیں سمجھ پاتے تو آپ ویب سائٹ بنانے کے حوالے سے کسی بھی ڈویلپر سے معنی خیز گفتگو نہیں کرسکتے۔

حریفوں سے بہتر بننا

آپ کو ہمیشہ ایسی کارکردگی دکھانے کی کوشش کرنی چاہیے کہ آپ کے کلائنٹ کی ویب سائٹ ان کے مخالفین سے بہتر ہو کیونکہ بنیادی طور پر ہر کلائنٹ یہی چاہتا ہے۔ اسی طرح ایسے طریقے بھی ڈھونڈے جاتے ہیں کہ تکنیکی حوالے سے ان کی ویب سائٹ سرچ انجن (گوگل ، بِنگ وغیرہ) پر بہتر اور پہلے ہی پیچ پر نظر آئے ۔ آپ کو نت نئی اور Coolدکھائی دینے والی ٹیکنالوجیز کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور ثابت شدہ ٹیکنالوجیز پر بھروسہ کرنا چاہئے تاکہ چیزیں درمیان میں ادھوری نہ رہ جائیں۔

اہم سوالات پہلے پوچھیں

بہت سے جونیئر ڈیزائنرز اس بات کی توقع کرتے ہیں کہ کلائنٹس جو چاہتے ہیں وہ انہیں واضح طور پر بیان کردیں تاکہ وہ تکنیکی ضروریات اور کاموں کی ایک لمبی فہرست بنائیں اور اس میں استعمال ہونے والی پیشہ ورانہ اصطلاحات کو لکھ دیں۔ 

حقیقت یہ ہے کہ ایسا بہت کم ہوتاہے۔ ایک پروفیشنل ویب ڈیزائنر پہلے کلائنٹ کی بات سنتاہے اور اچھی طرح سمجھنے کیلئے سوالات پوچھتاہے،اس طرح وہ اس کے بزنس کی اصل ضروریات کو سمجھ پاتا ہے۔ یہ کام کرنے کےبعد ویب ڈیزائنر اپنے کام کو آگے بڑھاتاہے اور کلائنٹ کو آسان زبان میں کسی بھی چیز کے فوائد اور نقصانات سے آگاہ کرتاہے ۔ ویب ڈیزائنرز کوا پنی صلاحیتوں پر اعتماد ہونا چاہئے، ساتھ ہی کلائنٹ کے پوچھے گئے سوالات کا تسلی بخش جوابات دینا آنا چاہیے۔

سب سے پہلے ماڈل بنانا

ایک ماڈل یا خاکہ ویب سائٹ کی تصویر سامنے لے آتاہے۔ اس کے بعد صرف 80فیصد کام رہ جاتاہے۔ ماڈل میں مختلف حوالوںسے ترامیم و تبدیلیاں کرکے اسے بہتر سے بہتر بنایا جاتاہے ۔ اسی لئے سب سے پہلے ایک لچکدار ڈیزائن بنایا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ تبدیلیاں کی جاسکیں۔ ہمیشہ مختلف ڈیوائسز اور اسکرین سائز کو مد نظر رکھیںتاکہ ویب سائٹ ہر میڈیم پر چل سکے۔