آپ آف لائن ہیں
منگل 2ربیع الاول 1442ھ20؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سوشل میڈیا پر بغیر تصدیق پوسٹ شیئر نہ کریں

اکثر آپ کے پاس بھی کچھ اس طرح کی پوسٹ آتی ہوگی کہ اسے پانچ یا دس لوگوں کو شیئر کریں توآپ کو فری گفٹ ملے گا یا قرعہ اندازی میں نام آجائے گا۔ کچھ عرصے پہلے تو مذہبی بنیادوں پر بھی پوسٹ آیا کرتی تھیں کہ انہیں دس لوگوں کو شیئر کریں تو خوشخبری ملے گی ورنہ نقصان ہوگا وغیرہ۔ اس ضمن میں بہت احتیاط اور ذمہ داری برتنے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ کو سوشل میڈیا پر کوئی ایسی چیز نظر آتی ہے جسے شیئر کرنے کیلئے آپ کو لالچ دیا گیا ہوتو پہلے اس بارے میں تفتیش کرلیں۔

آپ جو بھی پوسٹ کرتے ہیں یا کسی دوسرے کی پوسٹ کو آگے بڑھاتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ اس کے درست ہونے کے ذمہ دار ہیں۔ اگر آپ نے کبھی ایسا کیا ہے تو زیادہ بُرا ماننے کی ضرورت نہیں کیونکہ غلطیاں سبھی سے ہوتی ہیں اور کسی بھی چیز کے نئے نئے استعمال میں تو زیادہ ہوتی ہیں۔ فیس بک استعمال کرنے والے کئی ایسے لوگ موجود ہیں جو بظاہر اپنے آپ کو ہوشیار سمجھتے ہیں لیکن انہوں نے انجانے میں اپنی پروفائلز پر جھوٹی افواہوں کو چسپاں کیا ہوا ہوتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب ذمہ داری محسوس کریں اورکسی بھی چیز کو آن لائن پھیلانے سے پہلے اس کی تصدیق کرلیں۔

اگر آپ کو ایسی کوئی چیز نظر آتی ہے جو بظاہر درست نہیں تواسے فارورڈ کرنے سے پہلے کچھ دیر تحقیق کریں۔ ایسا کرنا آسان ہے، اس سے آپ کو پتہ چل جائےگا کہ کوئی پوسٹ یا خبر جھوٹی ہے، یوں آپ ایک غلط یا جھوٹی بات کو ختم کرنے یا اس کو روکنے میں مدد کررہے ہوتے ہیں۔ کسی بھی چیز کی معلومات ہونا اچھی بات ہے، آپ کے سامنے اگر کوئی ایسی معلومات آتی ہے جس سے دوسروں کو بھی فائدہ ہوگا تو تحقیق کے بعد آپ اسے اپنے ساتھیوں، دوستوں اور خاص کر اپنے بچوں کے ساتھ شیئر کریں۔

سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں اور منفی پروپیگنڈہ بہت تیزی سے پھیلتا ہے اور اکثر ایسی ویڈیوز، خبریں یا تصاویر اَپ لوڈ کی جاتی ہیں جن کاحقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اگر آپ ان چیزوں کو بغیر تصدیق کے آگےبڑھاتے ہیں تو کسی کا نقصان ہو سکتاہے یا کسی کی زندگی تباہ ہوسکتی ہے اور اس جرم میں آپ کا بھی حصہ ہوگا۔ ایسی کسی بھی صورتِ حال سے خود کو بچانے کے لیے ہم آپ کو چند مشورے دے رہے ہیں، جن پر عمل کرنا آپ کی صوابدید پر ہے۔

پیغامات پر غور کریں

بہت سے پیغامات یا ویب سائٹ کے لنکس جو آپ کو موصول ہوتے ہیں ان میں موجود جعلی خبروں میں مذاق یا دھوکہ دہی والا مواد ہوتا ہے یا جعلی خبروں کے متن میں ہجوں کی غلطیاں ہوتی ہیں۔ ان علامتوں کو تلاش کریں تاکہ آپ جانچ سکیں کہ آیا معلومات درست ہیں یا نہیں۔ کوشش کریں کہ آپ کوئی بھی خبر یا معلومات جاننے کے لیے متعلقہ ویب سائٹس پر جائیں جہاں آپ کو درست معلومات حاصل ہوسکے گی اور آپ دھوکہ دہی سے بچ جائیں گے۔

میڈیا فائلز دیکھنے میں احتیاط

آپ کو گمراہ کرنے کے لیے تصاویر، آڈیو ریکارڈنگ اور ویڈیوز میں ترمیم کی جاسکتی ہے۔ قابل اعتماد ذرائع سے دیکھیں کہ آیا کہیں اور بھی یہ کہانی موجود ہے یاصرف ایک ہی جگہ پر اس کا پرچار کیا جارہاہے۔ یاد رکھیے جب ایک سے زائد جگہ (میڈیم) پر ایک خبرکی اطلاع دی جاتی ہے تو اس کے درست ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پر اپنی یا اپنے گھروالوں کی تصاویر اور ویڈیوز اَپ لوڈ یا شیئر کرنے سے پرہیز کریں کیونکہ کچھ لوگ ان کا غلط استعمال بھی کرسکتے ہیں۔

سوچ سمجھ کر پیغام آگے بڑھائیں

"فارورڈ" لیبل والے پیغامات آپ کو اس بات کا تعین کرنے میں مدد دیتے ہیں کہ آیا یہ آپ کے کسی دوست یا رشتہ دار نے لکھا ہے یا یہ کہیں اور سے آیا ہے۔ جب ایک یوزر دوسرے یوزر کو کوئی پیغام پانچ بار سے زیادہ مرتبہ شیئرکرتا ہے تو اس کی نشاندہی ڈبل ایرو آئیکن سے ہوتی ہے۔ اگر آپ کو یقین نہیں ہے کہ اصل پیغام کس نے لکھا ہے تو حقائق کی دو بار جانچ پڑتال کریںیا پھر فارورڈ نہ کریں تو زیادہ بہترہے۔

حوالہ کے بغیر مذہبی پوسٹ

ایسی معلومات جو آپ کے پہلے سے موجود عقائد کی تصدیق کرتی ہیں یا ان میں کچھ اضافے کے ساتھ آپ کو ملتی ہیں توسب سے پہلے اس کا مستند حوالہ ضرور دیکھیں۔ خاص طور پر احادیث کی تصدیق ضرور کرلیں کہ آیا ایسی احادیث پر صحاح ستہ یا مستند کتاب کاحوالہ یاصفحہ نمبراور اس کے راوی کا نام موجودہے یا نہیں۔

اگر یہ سب موجود ہے تو پھر ان حوالہ جات کو چیک کریں اور پھر ہی آگے بڑھائیں۔ اس کے علاوہ مذہبی ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ کوئی بھی ایسی پوسٹ شیئر یا فارورڈ نہ کی جائے جس سے کسی دوسرے کی دل آزاری ہو۔ معاشرے کو انتشار سے بچاکر رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دینا چاہیے۔

جعلی خبریں اکثر وائرل ہوتی ہیں

سوشل میڈیا پر اگر کئی لوگ ایک خبر یا معلومات کو شیئر کررہے ہیں تو بھی آپ لازمی تحقیق کریں بجائے یہ کہ آپ فرض کربیٹھیں کہ زیادہ لوگوں نے کوئی چیز شیئر کی ہے تو وہ یقیناً درست ہوگی۔ سوشل میڈیا پر کوئی بھی غلط خبر یا پیغام اگرکئی بار شیئر کیا جاتا ہے تو ممکن ہے کہ ایسا کرنے کے پیچھے کسی کا کوئی پوشیدہ مقصد چھپا ہو۔ اگر کوئی ارسال کنندہ کسی پیغام کو آگے بڑھانے کی فرمائش کررہاہے تو اسے آگے نہ بھیجیں۔ 

اگر آپ کو کوئی ایسی چیز نظر آتی ہے جو جعلی یا غلط ہے تو اس شخص کو بتائیں جس نے آپ کو یہ بھیجا ہے اور ان سے آئندہ کوئی معلومات بھیجنے سے پہلے اس کی تصدیق کرنے کو کہیں۔ اگر کوئی گروپ یا رابطہ مستقل طور پر جعلی خبریں بھیج رہا ہے تو اس کی اطلاع متعلقہ اتھارٹی کو بھی دی جاسکتی ہے۔ کسی رابطے یا کسی گروپ کو رپورٹ کرنے کا طریقہ سیکھنے کے لئےآپ پی ٹی اے سے رہنمائی لیں۔

دوسرے ذرائع سے تصدیق

اگر آپ کو یقین نہیں ہے کہ آیا بھیجا جانے والا پیغام درست ہے تو حقائق جاننے کیلئےآن لائن تلاش کریں اور قابل اعتماد نیوز سائٹس دیکھیں کہ یہ کہانی کہاں سے آئی ہے۔ اگر آپ کا شک برقرار رہے تو حقائق کی جانچ پڑتال کرنے والوں یا ان لوگوں سے جو آپ پر یا آپ جن پر بھروسہ کرتے ہیں مزید معلومات کے لئے رابطہ کریں۔