آپ آف لائن ہیں
جمعہ7؍صفر المظفّر 1442ھ 25؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

جنگ میڈیا گروپ پاکستان میں صحافت کا قائد ہے، مقررین، میر شکیل الرحمٰن کی فوری رہائی کا مطالبہ

کراچی/لاہو/ پشاور /راولپنڈی (نمائندگان جنگ) ایڈیٹر انچیف جنگ وجیو گروپ میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کیخلاف کراچی ، لاہور ، پشاور اور راولپنڈی سمیت چھوٹے بڑےشہروں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ گزشتہ روز بھی جاری رہا ، اس موقع پرصحافتی تنظیموں کے رہنمائوں، سینئر صحافیوں، سیاسی قائدین ، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور مختلف طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی شرکت ، جنگ اور جیو سے اظہار یکجہتی اور میر شکیل الر حمٰن کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ۔مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنگ میڈیاگروپ پاکستان میں صحافت کا قائد ہے ،میر شکیل الر حمٰن کی گرفتاری کو 187دن ہوگئے، گرفتاری جیسے حربے میر شکیل الر حمٰن کو کمزور نہیں کرسکتے، ان کیخلاف ناجائز مقدمہ ختم کرکے فوری رہا کیا جائے۔دوسری جانب سینئر صحافی، کالم نویس اور وائس آف کراچی کے چیئرمین سہیل ہاشمی نے صحافی تنظیموں، جنگ جیو ایکشن کمیٹی کے زیراہتمام میرشکیل الرحمن رہائی احتجاجی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنگ

گروپ پاکستان میں صحافت کا قائد ہے، اس کے جانشین میرصحافت میرشکیل الر حمٰن کو بغیر کسی جرم کے ثابت ہوئے گرفتار کرنا ظلم ہے۔ کیمپ سے ایپنک کے سیکرٹری جنرل شکیل یامین کانگا، ایسو سی ایشن آف کیمرہ مین جرنلسٹ کے جنرل سیکرٹری فرحان الیاس، ایپنک کراچی کے وائس چیئرمین رانا محمد یوسف اور دی نیوز ایمپلائز یونین کے جنرل سیکرٹری دارا ظفر نے بھی خطاب کیا ہے۔ اس موقع پر وائس آف کراچی کے صدر عدنان الحق، جنرل سیکرٹری نعیم خان، جاوید ہاشمی، خدیجہ اقبال، اے ٹو زیڈ ایڈورٹائزنگ کے محمد آصف، سینئر صحافی افضل وارثی اور دیگر موجود تھے۔ اس موقع پر وائس آف کراچی کی جانب سے رہائی ایکشن کمیٹی کے عہدیداران کو پھولوں کے ہار پہنائے گئے۔ سہیل ہاشمی نے کہا کہ جب حکومت آٹا اور چینی چوروں کو ذاتی مفاد کے خاطر ریلیف دے سکتی ہے تو میرصحافت میرشکیل الر حمٰن کو ضمانت پر رہائی کیوں نہیں مل سکتی۔ وائس آف کراچی کے تمام ساتھی جنگ اور جیو کے کارکنان کے ساتھ ہیں آپ ہمیں جب بھی بلائیں گے ہم اپنے تمام ساتھیوں سمیت آئیں گے۔ شکیل یامین کانگا نے کہا کہ حکومتی بیانیہ نہ ماننے والے میرشکیل الر حمٰن کو پابند سلاسل کرکے ناکردہ گناہوں کی سزا دی جارہی ہے۔ عمران خان نے جب سے اس ملک کا اقتدار سنبھالا معیشت سمیت تمام شعبے تباہی و بربادی کا شکار ہوئے ہیں۔ اس ملک میں خواتین، بچے اور بچیاں محفوظ نہیں ہیں، ایک ایک دن میں عصمت دری کے دس دس واقعات ہورہے ہیں۔ اس گھنائونے جرم کے مرتکب افراد کو نشانہ عبرت بنایا جائے، انہیں ان کے مقام جرم پر پھانسی لگائی جائے جس سے دوسرے مجرموں کو سبق ملے گا۔ فرحان الیاس نے کہا کہ اس ملک کا المیہ رہا ہے کہ سچ کی آواز ہمیشہ دبائی گئی ہے، جیو پر حکومت کی لشکر کشی کی یہ پہلا موقع نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی کئی مواقعوں پر جیو بند کرنے کی کوشش کی گئی لیکن فتح حق کی ہوئی اور اب بھی میرشکیل الر حمٰن باعزت طریقے سے رہائی پائیں گے۔ دارا ظفر نے کہا کہ ہم باہمت اور حوصلہ مند میرشکیل الر حمٰن کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو ساڑھے چھ ماہ گزرنے کے باوجود حکومتی دبائو کا شکار نہیں ہوئے اور اپنے حق اور سچ کے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ رانا یوسف نے کہا کہ ہم میرشکیل الر حمٰن کی رہائی تک کیمپ لگائینگے، چیف جسٹس سپریم کورٹ سے ہم درخواست کررہے ہیں کہ وہ میرشکیل الر حمٰن کے کیس کو خود سنیں اور اس پر جلد فیصلہ دیں۔

یورپ سے سے مزید