• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

طویل عمر چاہتے ہیں تو جم جانے سے بہتر ہے سو جائیں، نئی تحقیق

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ 24 گھنٹوں کے دوران نیند، جسمانی سرگرمی اور بیٹھے رہنے کے اوقات کی تقسیم طویل المدتی صحت پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے اور صحت مند بڑھاپے کے لیے مناسب نیند اور جسمانی سرگرمی دونوں کا ہونا ناگزیر ہے۔

جریدے کمیونیکیشنز میڈیسن میں شائع ہونے والی ایک تازہ تحقیق کے مطابق صرف 12.9 فیصد افراد ہی بیک وقت روزانہ تجویز کردہ 8 ہزار قدم چلنے اور 7 سے 9 گھنٹے کی نیند پوری کر پاتے ہیں۔

تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ناکافی نیند کے منفی اثرات اگلے دن کی جسمانی سرگرمیوں پر مرتب ہوتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مناسب نیند حاصل کرنا جسمانی سرگرمی کی سطح بہتر بنانے میں مددگار ہو سکتا ہے۔

محقق جوش فٹن کا کہنا ہے کہ ان کے ڈیٹا کے مطابق صرف ایک چھوٹا سا طبقہ ہی معمول کے مطابق مناسب نیند اور مطلوبہ جسمانی سرگرمی حاصل کر پاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس تناظر میں نیند اور جسمانی سرگرمی سے متعلق عوامی صحت کی ہدایات کی عملی مطابقت پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

مختلف مطالعات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ مناسب نیند اور جسمانی سرگرمی دونوں ذہنی اور جسمانی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔ ناکافی نیند اور جسمانی سرگرمی کی کمی کو الگ الگ طور پر ڈپریشن، موٹاپے، ذیابیطس، دل کے امراض، سوزش اور مجموعی طور پر اموات کے خطرے میں اضافے سے جوڑا گیا ہے۔

اس تحقیق میں 3 سال اور 5 ماہ کے دوران 244 مختلف علاقوں میں رہنے والے 70 ہزار 963 افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ یہ تمام افراد دستیاب کردہ ہیلتھ ٹریکنگ آلات استعمال کر رہے تھے، جن میں گدے کے نیچے نصب نیند کی پیمائش کرنے والا سینسر اور فٹنس ٹریکر شامل تھے۔

نیند کی پیمائش کرنے والے سینسر سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی بنیاد پر محققین نے نیند کے دورانیے، نیند آنے کے وقت اور نیند کی افادیت کا حساب لگایا، یعنی بستر پر موجود وقت میں سے کتنا وقت واقعی نیند میں گزرا۔

نتائج کے مطابق صرف 12.9 فیصد شرکاء ایسے تھے جو 7 سے 9 گھنٹے کی نیند کے ساتھ روزانہ کم از کم 8 ہزار قدم بھی مکمل کر پائے۔

اس کے برعکس 16.5 فیصد افراد ایسے تھے جن کی اوسط نیند 7 گھنٹوں سے کم اور روزانہ قدموں کی تعداد 5 ہزار رہی، جو بیٹھے رہنے والے طرزِ زندگی کی بالائی حد سمجھی جاتی ہے۔ مزید یہ کہ تقریباً 64 فیصد افراد 7 سے 9 گھنٹے کی نیند اور کم از کم 5 ہزار روزانہ قدموں کا امتزاج بھی حاصل نہ کر سکے۔

ماہرین کے مطابق یہ نتائج اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بہتر صحت اور طویل عمر کے لیے نیند کو نظرانداز کرنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے اور متوازن طرزِ زندگی کے لیے معیاری آرام کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔


نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

صحت سے مزید