بنگلادیش کی انفارمیشن اینڈ براڈ کاسٹنگ کی مشیر رضوانہ حسن نے کہا ہے کہ مستفیض الرحمان کے معاملے پر بنگلادیش کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔
ایک بیان میں راضوانہ حسن نے کہا کہ ہمیں بھارت کو مناسب جواب دینا ہی تھا۔ بنگلادیش مستفیض الرحمان کو نکالنے کی وجوہات کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب ملکوں میں سیاسی کشیدگی جنم لیتی ہے تو کھیل اور ثقافتی تبادلے اس کشیدگی کو کم کرتے ہیں لیکن انڈیا نے جو کیا وہ تو اس کے بالکل الٹ ہے۔
رضوانہ حسن کے اس بیان پر مختصر ترین تبصرے میں بھارتی دانشور اور سیاستدان ششی تھرور کہا ہے کہ ’وہ بالکل درست بات کر رہی ہیں۔‘
واضح رہے کہ مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل میں شامل کرنے پر کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے مالک شاہ رخ خان شدید تنقید کی زد میں تھے، انتہا پسندوں نے نامور ادکار کو غدار کہا تھا۔ جس کے بعد کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے بنگلادیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو اسکواڈ سے ریلیز کر دیا ہے۔
اس کے بعد بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے ٹی 20 ورلڈکپ کے لیے اپنی ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا باضابطہ اعلان کردیا ہے۔
بی سی بی اعلامیے کے مطابق بورڈ کے ڈائریکٹرز کی ہنگامی میٹنگ میں بنگلادیشی ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔