آپ آف لائن ہیں
جمعرات4؍ ربیع الاوّل 1442ھ 22اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بدھ کے روز حکومت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے جو 8۔ اہم قوانین منظور کرانے میں کامیاب ہوگئی ان میں سے تین کا تعلق فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے ہے۔ یہ بل قبل ازیں سینٹ سے مسترد ہوچکے تھے جس کی بنا پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میںانہیں لے جانا آئینی ضرورت تھی۔ وزیراعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر قانون فروغ نسیم سمیت حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ بل منظور نہ ہوتے تو منی لانڈرنگ پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے (ایف اے ٹی ایف) میں پاکستان بلیک لسٹ ہو جاتا جس کے بعد عائد کی جانے والی پابندیاں زیادہ شدید نوعیت کی ہوتیں اور ملک کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔ حکومتی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ پاکستان فیٹف (FATF) کی گرے لسٹ سے نکلنے کی کوشش کررہا ہے جس میں اسلام آباد کا نام موجودہ حکومت کے دور میں شامل نہیں ہوا بلکہ یہ صورتحال ماضی سے ورثے میں ملی ہے۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس اپنے اکتوبر کے اجلاس میں اس باب میں فیصلہ کرے گی جبکہ 30ستمبر کی ڈیڈ لائن سے پہلے قانون سازی سمیت ادارے کی عائد کردہ شرائط پوری کرکے متعلقہ دستاویزات بھیجنا لازمی ہے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اینٹی منی لانڈرنگ بل 2019ء اسلام آباد ہائیکورٹ ترمیمی بل 2020ء، پاکستان میڈیکل کمیشن بل 2020ء پاکستان میڈیکل

ٹریبونل بل 2020ءاور معذور افراد کے حقوق سے متعلق بل 2020ء کثرت رائے سے منظوری ہوگئے۔ اپوزیشن کی تمام ترامیم کثرت رائے سے مسترد کر دی گئیں۔ دوران اجلاس احتجاج، ہنگامے، حکومت مخالف نعرے، ہاتھا پائی، ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑنے کے مناظر بھی دیکھنے آئے۔ اینٹی منی لانڈرنگ بل 2020ء پر اپوزیشن کے قائد کو بولنے کی اجازت نہ ملنے پر حزبِ اختلاف نے اجلاس سے واک آئوٹ کیا جس کے بعد سات بلوں کو اپوزیشن کی غیر موجودگی میں منظور کیا گیا۔ بعدازاں اپوزیشن لیڈرشہباز شریف اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سمیت اپوزیشن رہنمائوں کی مشترکہ پریس کانفرنس میں 16ستمبر 2020ء کو جمہوری تاریخ کا سیاہ دن قرار دیتے اور اسپیکر پر سرخ لائن عبور کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے عدم اعتماد کا عندیہ دیاگیا۔ دوسری طرف حکومتی حلقے ایک ہی دن میں دو اہم بلوں کی منظوری کو سیاسی و پارلیمانی تاریخ کا اہم واقعہ قرار د ے رہے ہیں۔ پہلے دو بلوں کی کارروائی کے دوران ایوان میں اپوزیشن کے 190اور حکومت کے 200ارکان موجود تھے۔ واک آئوٹ کے بعد حکومت کو کھلا میدان مل گیا۔قوانین کی منظوری کے بعد مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن سے ملکی مفاد میںفیٹف قوانین میں تعاون کی امیدتھی جسے اس بات سے دھچکا لگا کہ نیب قانون کی 38شقوں میںسے 34شقوں میں ترامیم مانگی گئیں جن کو تسلیم کرنا اس قانون کو دفن کرنے کے مترادف ہے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ کرپشن کی اجازت کے سوا اپوزیشن کو ہر رعایت دینے کے لئے تیار ہیں۔ مشترکہ اجلاس میں ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے بلوں کی منظوری کی صورت میں منی لانڈرنگ پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے کے مطالبات پورا کرنے کے لئے قانون سازی کا عمل بظاہر مکمل ہوگیا ہے جس کے تحت منی لانڈرنگ فریم ورک کی مضبوطی سمیت کئی اقدامات یقینی بنائےجاسکیں گے جبکہ پچھلے مہینوں کےدوران 22سے زیادہ تنظیموں پر پابندی، ان کے رہنمائوں کی گرفتاری اور اثاثوں کی ضبطی کے اقدامات روبہ عمل لائے جاچکے ہیں۔ توقع کی جانی چاہئے کہ فیٹف کے مطالبات پورے ہونے کے بعد پاکستان کی گرے لسٹ سے سفید لسٹ میں آنے کی خواہش پوری ہو جائے گی۔