آپ آف لائن ہیں
جمعرات11؍ ربیع الاوّل 1442ھ 29اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

دنیا کی خوبصورت ماحول دوست عمارتیں

دنیا بھر میں ایک سے بڑھ کر ایک دیدہ زیب عمارتیں تعمیر کی جارہی ہے جو اپنے جمالیاتی حسن سے لوگوں کو حیران کردیتی ہیں۔ بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت کے باعث اکیسویں صدی میں ماحول دوست عمارتوں(Green Buildings) کی تعمیر کا رجحان زور پکڑ گیا ہے۔ ماحول دوست عمارتوں کی نقشہ سازی میں توانائی اور پانی کی بچت کو اہمیت دینے کے ساتھ تعمیراتی مواد کے بہتر سے بہتر استعمال کو یقینی بنایا جاتا ہے، جس کے سبب یہ ماحول دوست ہونے کے ساتھ ساتھ بجٹ فرینڈلی بھی ہوتی ہیں۔ 

غرض یہ کہ ان عمارتوں کی تعمیر میں تمام ماحول دوست امکانات کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ تاہم سبز تعمیرات کے ذریعے عمارتوں سے کاربن اخراج کو روکنے کی جو کوششیں کی جارہی ہیں، اس کے مقابلے میں نئی روایتی عمارتیں زیادہ تعمیر ہورہی ہیں اور ان میں بجلی کی فراہمی کا ذریعہ بھی روایتی ہے یعنی اس کا نتیجہ کاربن اخراج میں اضافے کے طور پر نکلتا ہے۔ ایسے میں یہ بات انتہائی اہم ہے کہ ہم ماحولیاتی تبدیلی کو روکنے کے لیے ’عمارتوں کا ماحولیاتی توازن‘ (ایکو بیلنس) بہتر بنائیں۔ ذیل میں دنیا کی چند خوبصورت ماحول دوست عمارتوں کا ذکر کیا جارہا ہے۔

براتورکایا، ٹرونڈائیم

ناروے کے شہر ٹرونڈائیم میں ایک جدید ترین ماحول دوست عمارت تعمیر کی گئی ہے جو اپنے استعمال سے دگنی بجلی تیارکرتی ہے۔ اس منفرد عمارت کی چھت پینٹاگون شکل کی ہے جس پر تین ہزار مربع میٹر وسیع حصے پر سولر پینلز لگے ہیں۔ یہ پینلز سالانہ 5لاکھ کلو واٹ گھنٹے کی بجلی بناتے ہیں جو عمارت کی روزمرہ ضرورت سے دگنا ہے۔ اس کی بنیاد میں بجلی گھر بنایا گیا ہے جو شمسی توانائی کو جمع کرتا ہے۔ اسے یورپ کی سب سے ’انرجی پازیٹوو‘ عمارت قرار دیا گیا ہے۔ 

اس ماحول دوست اور پائیدار عمارت میں انسولیشن کا عمدہ نظام بنایا گیا ہے جبکہ وینٹی لیشن میں حرارت کو دوبارہ استعمال کرنے کا بھی عمدہ نظام ہے۔ عمارت کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ایک پمپ لگایا گیا ہے جو قریبی سمندر سے پانی کھینچتا ہے۔ چھت پر جمع ہونے والا بارش کا پانی بیت الخلا میں استعمال کیا جاتا ہے۔ عمارت میں لگے بلب صرف اس وقت جلتے ہیں جب کوئی کمرے میں موجود ہو اور ایک جدید نظام بجلی کے استعمال کو کنٹرول کرتا ہے۔

بلٹ سینٹر، واشنگٹن

زندہ نامیاتی خلیے کے انداز میں بنائی جانے والی اس ماحول دوست عمارت کا ڈھانچہ اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہ زیادہ سے زیادہ توانائی پیدا کرےاور ساتھ ہی سال بھر بارش کے پانی کو استعمال کرنےکی گنجائش بھی نکالی گئی ہے۔ اس میں مضر ِماحول اشیا کو بروقت ٹھکانے لگانے کے لیے بھی انتظام کیا گیا ہے، جبکہ اس کی مدتِ حیات250 سال ہے۔

اکراس بلڈنگ،فوکیوکا

سبزے کی بہار میں گھری یہ حیران کن ماحول دوست عمارت گرین روف پروجیکٹ کے حوالے سے انفرادیت کی حامل ہے ۔ ایک طرف سے یہ شیشے کے دروازوں سے بنی روایتی عمارت نظر آتی ہے تودوسری جانب بڑی بالکونی نما چھت دکھتی ہے، جو باغ سے منسلک ہے۔ سرسبز باغ میں 76انواع کے 35ہزار پودے لگائے گئے ہیں۔ بڑی نیم دائرہ نما ایٹریم اور مثلث نما لابی سبزے کا امتزاج پیش کرتی ہے۔ یہاں سمفنی ہال،دفاتر اور دکانیں ہیں۔

بیڈ زیڈ، لندن

بیڈ زیڈ کے نام سے معروف ساؤتھ لندن کےہیک برج میں واقع یہ ماحول دوست گاؤںہے، بیڈ زیڈ ’بیڈنگٹن زیرو انرجی ڈویلپمنٹ‘ کا مخفف ہے۔اس ہاؤسنگ اسکیم میں کاربن کی سطح صفر رکھنے کا خاص اہتمام کیا گیا ہے۔یہ پروجیکٹ اپنی ماحول دوست خوبیوں کے حوالے سے سب سے زیادہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ 

اس قسم کے ڈیزائن کو عام طور پر پسند نہیں کیا جاتا لیکن جب بات تحفظ ماحول اقدامات کی ہو تو ہمیں ان تمام باتوں کا خیال ازبس ضروری ہوجاتا ہے، جو اس عمارت میں مدنظر رکھی گئی ہیں۔ اسی لیے ماحول دوست عمارات کے کئی اہم اعزازات اس پروجیکٹ نے اپنے نام کیے ہیں۔ اسے خاص طور پر ماحولیاتی آلودگی کے اثرات سے بچانے کے لیے تعمیر کیا گیا ہے۔

کیناری وہارف انڈر گراؤنڈ اسٹیشن،لندن

اسے مستحکم ماحول دوست پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت مہیا کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔اس کا ابھرواں ڈھانچہ کاربن کی مقدار کو کم کرتا ہے۔اسٹرکچر کا تھرمل ماس خالی جگہوں کو ٹھنڈا رکھتا ہے۔ دائرے میں وسیع خالی جگہ مستقبل میں مسافروں کی بڑھتی ضروریات کے پیش نظر رکھی گئی ہے۔اس میں پبلک پارک اوپر کی طرف بنایا گیا ہے۔اس کا آرکیٹیکچر اور انفرااسٹرکچر کی کشادگی اسے انفرادیت بخشتی ہے۔

تعمیرات سے مزید