آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

  السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

خوب رُو ماڈل کے سبب

تازہ سنڈے میگزین میں اطہر اقبال نے کِڈنی ہل پارک سےمتعلق سنڈے اسپیشل میں جو کچھ لکھا، پڑھ کر دل باغ باغ ہوگیا۔ واقعی میٹرو پولیٹن کمشنر، ڈاکٹر سیّد سیف الرحمٰن نے کراچی والوں کا دل جیت لیا ہے۔ حالات و واقعات میں منور مرزا نے چین، بھارت کشیدگی پر اچھی رپورٹ مرتّب کی۔ عرفان جاوید کا ’’عجائب خانہ‘‘، ’’زمانہ‘‘ کی دوسری قسط کےساتھ موجود تھا۔ اب اگلی قسط کاشدّت سے انتظار ہے۔ سرِورق اوراسٹائل کے صفحات خوب رُو ماڈل کےسبب کِھلے کِھلے نظر آئے۔ ڈائجسٹ کی کہانی ’’شعور‘‘ بھی اچھی کاوش تھی۔ اگلے جریدے کے ’’اشاعتِ خصوصی‘‘ میں فاروق اقدس نے اسلام آباد میں مندر کی تعمیر پرمدلل رپورٹ تیار کی۔ ’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا نے بھی فضائی حادثات کا جامع تجزیہ پیش کیا۔ ’’خانوادے‘‘ میں ڈاکٹر قمر عباس نے قدرت اللہ شہاب پر لکھ کر ہمیں بہت خوش کردیا۔ تصاویر بھی اچھی تھیں اور اس جریدے کی ماڈلنگ بھی غضب کی تھی۔ عرفان جاوید کے عجائب خانہ میں زمانہ کی آخری قسط پڑھی، بہت اعلیٰ۔ اور ہاں، محمّد ہمایوں ظفر نے ’’ناقابلِ فراموش‘‘ کو اپنی محنت سے چار چاند لگادیئے ہیں۔ واقعات حقیقی بھی معلوم ہوتے ہیں۔ (رونق افروز برقی، دستگیر کالونی، کراچی)

ج: خیر تو ہے، ہماری ماڈلز پر آج کل آپ کی بڑی گہری نظر ہے۔

ناراض نہیں ہوتا

میرے نہ جانے کتنے خطوط آپ کی ردّی کی ٹوکری ہضم کرگئی، مگر میری جریدے سے محبت ملاحظہ فرمائیں کہ پھر بھی ناراض نہیں ہوتا۔ مسلسل خط لکھتا رہتا ہوں۔ (شِری مرلی چند جی، گوپی چند گھوکلیہ، شکارپور)

ج: جی ہاں، آپ کی جریدے سے محبّت کا تو یہ عالم ہے کہ ہر بار جو دو صفحات پر آپ ہمارے مختلف سلسلوں کے نام لکھ کر بھیجتے ہیں، اُن میں سے متعدّد کو تو ’’قصّۂ پارینہ‘‘ ہوئے بھی عرصہ ہوا۔ اب آپ یہ ہر ہفتے ’’نیٹ بیتیاں، زمیں جنبد، ذرا ہٹ کے اور یہ ہفتہ کیسا رہے گا‘‘ کہاں پڑھتے ہیں، یہ بس آپ ہی جانتے ہیں۔ اس لیے اگر آپ ناراض نہیں ہوتے، تو اچھا ہی کرتے ہیں۔

دو خط ایک ساتھ

ہمارا فیوریٹ میگزین ہمیشہ کی طرح لاجواب ہے۔ فرنٹ پر براجمان ماڈل پسند آئی۔ آن لائن مویشی منڈی کی افادیت کا بھی اندازہ ہوا۔ ’’اشاعتِ خصوصی‘‘ میں ڈاکٹرسمیحہ راحیل کی تحریر پورے میگزین پر حاوی تھی۔ فیچر میں منور راجپوت نے انسٹی ٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیزز کا بہترین تعارف پیش کیا۔ ہیپاٹائٹس کے حوالے سےڈاکٹر غلام علی کا مضمون بھرپور معلومات لیےہوئےتھا۔ عرفان جاوید کا فِکشن بہت ہی زیادہ پسند آیا۔ عالمی افق پرچین و امریکا کا تذکرہ رہا۔ ڈائجسٹ، پیارا گھر خُوب تھے۔ ہمارا صفحہ پر ’’مسٹر معذرت خواہ‘‘ اتنے پارساکہ ماڈل کا دوپٹا نہ ہونے پر اعتراض ہے، مگرافسوس اپنی آنکھوں اور دقیانوسی سوچ پر اختیار نہیں اور اس بار تو بندئہ ناچیز کے دو خط اکٹھے منظرِ عام پرآئے۔آپ کا ’’عید اسپیشل‘‘ روشنیوں، ستاروں، رنگوں سے مزیّن، رشتوں کی مٹھاس سے لبریز تھا۔ سرچشمۂ ہدایت فلسفہ قربانی سے آگاہی دے رہا تھا۔ اچھی ایمان افروز تحریر لکھی گئی۔ ’’عید اسپیشل‘‘ میں رئوف ظفر کی تحریر اچھی رہی۔ واقعی اس کورونا نے تو دنیا ہی بدل کر رکھ دی ہے۔ شفق رفیع اور رائو شاہد اقبال کے اندازِ تحریر کے تو کیا ہی کہنے۔ ’’سینٹراسپریڈ‘‘ پر مدیرہ صاحبہ کی دل نشین تحریر ہمیشہ کی طرح دل موہ لینے والی تھی۔ پیارا گھر میں روبینہ فرید کی نگارش بھی پسند آئی۔ ہمایوں ظفر ناقابلِ فراموش کا صفحہ بڑی خوب صورتی سے مرتب کر رہے ہیں۔ اور اعزازی چِٹھی کے لیے اس دفعہ بھی شہزادہ بشیر محمّد نقش بندی بازی لے گئے۔ (پیر جنید علی چشتی، بلال کشمیری، HSB سینٹرل جیل، ملتان)

ج: اس بار بھی آپ کے دو خطوط اکٹھے ہی شایع کیے جارہے ہیں کہ چند مخصوص افراد کے ہر ہفتے ہی خطوط موصول ہونے کے سبب متعدّد نئے اور کبھی کبھار لکھنے والوں کی باری نہیں آپاتی۔ ویسے آپ کے نام کے ساتھ تو اس بار آپ کے ایک معاون یا دوست کا نام بھی موجود ہے، تو چلیں کم از کم ایک نئے لکھاری کو بھی اینٹری کا موقع تو ملا۔

تھوڑا سا افسوس

سنڈے میگزین میں اپنے خط کا جواب پڑھا، انتہائی خوشی ہوئی، مگر تھوڑا سا افسوس بھی ہوا کہ میری دلی تعریف و توصیف کو آپ نے خوشامد سمجھا۔ بخدا ’’آپ کا صفحہ‘‘ اس قدر پسند کرنے کی وجہ صرف یہ ہےکہ یہ صفحہ پڑھ کر گزشتہ جریدوں کے سارے مندرجات سامنے آجاتے ہیں۔ سب پڑھی ہوئی تحریروں کا جیسے ایک ری ویو سا ہوجاتا ہے اور یہ صفحہ صرف میرانہیں، اَن گِنت لوگوں کا پسندیدہ ہے۔ (سیما گل، ماڈل کالونی، کراچی)

ج:ارے سیما! ہم نے یونہی ازراہِ مذاق کہہ دیا ہوگا۔ ہمارے برجستہ جوابات کو اتنا سنجیدہ اور دل پر لینے کی ضرورت نہیں۔ وگرنہ تعریف کسے اچھی نہیں لگتی۔

کچھ نہ کچھ اصلاح

کورونا کے گہرے سیاہ بادل آہستہ آہستہ چَھٹ رہے ہیں لیکن مطلع ابھی تک مطلق صاف نہیں ہوا۔ یہ ایک نادیدہ وائرس تو سالِ رواں کچھ ایسی تباہی لےکر آیا، جس کا تصوّر بھی محال تھا۔ بہرکیف، وقت کا پہیّہ گھوم ہی رہا ہے۔ ’’سنڈے اسپیشل‘‘ میں آن لائن مویشی منڈی دیکھی، زبردست بھئی۔ ’’قرآن میں عورت کا کردار‘‘ مضمون بہت جامع اور مفصّل تھا۔ بہت سی گُتھیاں سلجھتی ہوئی سی لگیں۔ نام نہاد برابری کے دعوے کرنے والی آنٹیوں کی بھی کچھ نہ کچھ اصلاح تو ہوئی ہوگی۔ گُردوں کامفت اسپتال بھی دیکھا، خوشی ہوئی۔ علامہ طالب جوہری کی تعریف کرنا تو سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ پیارا گھر کا صفحہ اچھا جارہاہے۔ ڈائجسٹ اورناقابلِ فراموش کے صفحات قابلِ ستائش ہیں اور آپ کا صفحہ پر ماشاء اللہ لمبے لمبے خطوط پڑھ کر محظوظ ہورہے ہیں۔ (نرجس مختار، خیرپور میرس)

ج : اصلاح تو وہاں ہوتی ہے، جہاں خود میں کسی کمی، کوتاہی کا تصوّر موجود ہو۔ یہ برابری کی دعوے دار آنٹیاں تو اپنی جگہ پرفیکٹ، عقلِ کُل ہیں۔ تب ہی تو ایسی تحریروں اور حجاب ڈے ایڈیشن وغیرہ کی اشاعت پر ہمیں باقاعدہ لعنت ملامت اور خُوب صلواتیں سُننے کو ملتی ہیں۔ خیر، ان کا بس چلے تو یہ مُلک سے مَردوں ہی کا نہیں، دین کابھی صفایا کردیں۔

خُوشبو لگا کے…

لیجیے، مَیں پھر آگیا ہوں، خُوشبو لگا کے۔ ’’عید اسپیشل ایڈیشن‘‘ پڑھا، کورونا زدہ ہی نظر آیا۔ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں حافظ ثانی نے جلیل القدر انبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم القدر قربانی پر روشنی ڈالی۔ رئوف ظفر بڑی عیدکے بڑے امتحان کے ساتھ موجودتھے، خُوشبو لگا کے۔ حافظ فیاض، شفق رفیع اوررائوشاہد اقبال نےبہت اچھےمضامین عیدالاضحٰی کےحوالے سے لکھے، لیکن مرکزی نقطہ یہی تھا کہ احتیاط احتیاط اور احتیاط۔ حالات و واقعات میں منور مرزا نے عیدالفطر کی غلطی نہ دہرانے کا مشورہ دیا، خُوشبو لگا کے۔ اسٹائل کے صفحات میں حسینائیں خُوب مُسکرا رہی تھیں، خوشبو لگا کے۔ تحریر آپ کی تھی، تو بزم کا لُطف دوبالا ہوگیا۔ ایک تو بزم کا لشکارا، پھر تحریر کا چٹخارہ۔ گویا سونے پہ سہاگا۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں روبینہ فرید قربانی کی اصل غرض و غایت بیان فرما رہی تھیں، ہم جلے دل کے کیا پھپھولے پھوڑیں، دَورِ عمرانی میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان پر اور غریب زمین کے نیچے چلا گیا ہے۔ تبدیلی اس انداز سے آئی ہے کہ غربا و شرفا مویشی منڈی جاتے، جانور کی قیمت کا سُن کر، جانور پر ہاتھ پھیر کر اور کانوں کو ہاتھ لگا کے خالی ہاتھ واپس آجاتے۔ خیر، ڈائجسٹ میں کنول بہزاد نے فریضۂ حج اور عزیزہ انجم نے بقرعید کے حوالے سے اچھی تحریریں پیش کیں۔ (نیمروز خان مہمند)

ج: نیمروز! ایک بات تو گرہ سے باندھ لیں کہ اگر آئندہ آپ نے اس قدر گنجلک اور صفحے کے دونوں جانب تحریر لکھ کر بھیجی، توتمام ترخوشبویات، عطریات کے باوجود سیدھی ردّی کی ٹوکری میں جائے گی۔ دوم، اپنا تکیہ کلام ضرور استعمال کریں، مگر وہیں کریں، جہاں سوٹ کرتا ہو۔ اب خالی ہاتھ واپس آتے ہوئے بھلا کون خُوشبو لگاتا ہے۔

ورق دَر ورق معلومات

؎ حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتا.....ٹوٹے بھی جو تارا تو زمیں پر نہیں گرتا.....گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا.....لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا۔ کٹھن سے کٹھن حالات، کم وسائل کے باوجود معیار پر سمجھوتا نہ کرنا ہی میگزین کی کام یابی کا راز ہے۔ سنڈے میگزین کے مختلف ادوار پر ایک نظر ڈالی جائے، تو واقعی جنگ، سنڈے میگزین کم وسائل، نامساعد حالات میں بھی رُکنا تو درکنار بلکہ وہ سمندر بنا، جو ہیرے جواہرات سے بھرا ہوتاہے۔ ماشاء اللہ اس کے لیے تمام ٹیم تحسین کی مستحق ہے۔ مَیں اور تمام فیملی جنگ، سنڈے میگزین کے ریگولر قارئین ہیں، مگر آج پہلی بار بزم میں شرکت کررہی ہوں۔ سچ کہوں، تو میگزین کا ورق دَر ورق معلومات کا ذخیرہ ثابت ہوتا ہے۔ سرِفہرست سرچشمۂ ہدایت ہے اور پھر ’’آپ کا صفحہ‘‘ تک جتنا پڑھا جائے، اُتنا ہی ذوق بڑھتا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے بہت سے پاکستانیوں کی اردو بہتر سے بہترین ہوئی۔ اظہارِ رائے کا طریقہ آیا ہے اور اس ضمن میں آپ لوگوں کو جس قدر خراجِ تحسین پیش کیا جائے، کم ہے۔ (زرغونہ کاکڑ، بلوچستان)

ج: بےحد شکریہ زرغونہ۔ آپ کی حوصلہ افزائی اور خلوصِ دل سے کی گئی توصیف نے بڑی ہمّت بندھائی۔ حوصلے توڑنے والے تو بہت ہیں، مگر جب تک آپ جیسے چند ایک قدر دان بھی موجود ہیں، ان شاء اللہ قدم جمے رہیں گے۔

تعمیری سرگرمیوں کا پیغام

سنڈے میگزین کے لکھاریوں کی صف میں منور ترین، منور مرزا، کورونا وائرس کی پسپائی کی دہائی لیے یہ باور کروا گئے کہ واقعی نادر فرمودات پر عمل کی بجائے دنیا کے معیارات اپنانے ہوں گے۔ رئوف ظفر نے پاکستانی نژاد سائنس دان، ڈاکٹر نوید امام سےدل کی باتیں اگلوائیں کہ واقعی ہمارا نظامِ تعلیم زمیں بوس ہوچکا۔ ڈاکٹر نرگس اسد اہلِ وطن کے دلوں سے کورونا وائرس کا خوف کم کرنے کے لیے مثبت تعمیری سرگرمیوں کا پیغام لیے آئیں۔ ’’عالمی یومِ والد‘‘ کے حوالے سے افشاں مراد نے الفاظ سے کیا شان دار گل افشانی کی۔ خالدہ سمیع اور عظمیٰ بلال پیارے باباجانی کے لیے پھلوں کے بادشاہ، آم کے مختلف ذائقوں سے بنی ڈشز لیے موجود تھیں۔ سینٹراسپریڈ میں نام ورکرکٹر کامران اکمل سے خصوصی گفتگو جریدے کی جان ثابت ہوئی۔ ترکی سے ڈاکٹر فرقان حمیدنے ارطغرل غازی کےڈائریکٹر، رائٹر،مہمت بوزداع سے خصوصی ملاقات کی اور کیا ہی اچھی ملاقات ثابت ہوئی۔ شفق رفیع نےوالد سےمتعلق اَن مول قیمتی جذبات و احساسات شیئر کیے۔ عالیہ کاشف عظیمی کے مرتّب کردہ پیغام، پیاروں کے نام بھی خُوب رہے۔ اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں محمّد سلیم راجا ایک بار پھر تخت نشین تھے۔ ویل ڈن اور کیپ اِٹ اَپ ۔ (ضیاء الحق قائم خانی، جھڈو، میرپورخاص)

اینٹی بائیوٹک کی ڈوز

نرجس! کیسی ہو، اُمید ہے، خیریت سے ہوگی۔ تمہاری خُوب صُورت تحریر سے سجا حسین عید ایڈیشن ہاتھوں میں ہے۔ ماشاء اللہ تقریباً تمام ہی مضامین عیدِ قربان کے موضوع پر ہیں۔ حافظ محمّد ثانی فلسفہ قربانی کو قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کر رہے تھے۔ ’’سینٹر اسپریڈ ‘‘میں تمہاری فکر انگیز تحریر ہر ایک کو دعوت ِفکر دیتی نظر آئی۔ تم نے صحیح لکھا کہ ’’ایک نادیدہ مہین سے وائرس نے زندگی کی ہر آس، مٹھاس میں زہر گھول کے رکھ دیا ہے‘‘ نرجس! اللہ کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی مصلحت ضرور ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ڈھیل دیتے رہتے ہیں، لیکن جب اس کی نافرمانی عروج پر پہنچ جائے، تو پھر وہ فرشتوں کو رسّی کھینچنےکاحکم بھی دےدیتے ہیں۔ اللہ پاک نے ہماری تمام تر بداعمالیوں کے باوجود بھی مسلمانوں، خاص طور پر پاکستانی قوم پر اپنا خصوصی کرم کیا۔ مگرمیرےخیال میں ’’کورونا‘‘ اللہ پاک کی طرف سے چند ماہ کے لیے اینٹی بائیوٹک کی ایک ڈوز ہی ہے، جس کی اس وقت دنیا کو شدید ضرورت تھی۔ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں محمود میاں نجمی کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ آج کل وہ کہاں ہیں؟ ہمایوں ظفرنے ناقابلِ فراموش کو خاصا بہتر کر دیا ہے۔ ویسےتمہارے عیدایڈیشن کے تو تمام ہی مضامین لاجواب تھے۔ ہاں،عرفان جاوید کی فلسفیانہ تحریر میرےدماغ میں تونہیں سماتی، پروفیسر مجیب جیسے انوکھے دانش وَر ضرور لُطف اندوز ہوتے ہوں گے۔ (ریحانہ ممتاز)

ج:الحمدللہ، ہمیں تو اینٹی بائیوٹک کی یہ ڈوز کچھ زیادہ دیر بھی نہیں لینی پڑی۔ گرچہ عمومی طور پر ہمارے اعمال اس قابل تو نہیں کہ اتنی آسانی سے بخشش ہو جائے، بس مالک کون و مکان کا کچھ خاص ہی کرم ہے۔

                                                                                فی امان اللہ

اس ہفتے کی چٹھی

ساون رُت کا شمارۂ اوّل، مقابل نظر آیا، تو باضابطہ وبا اَسلوب ٹائٹل کو خوش نُما ودیدہ زیب پایا۔ ماڈل کی ادائے ترچھی نظر پر قلمِ ایڈیٹر مبتلائے شش و پنج تھا کہ ؎ کلیوں کا تبسّم ہو کہ تم ہو کہ صبا ہو… تاہم دلِ جوہر شناس بے ساختہ کہہ اُٹھا… چودھویں کا چاند ہو کہ آفتاب ہو، پر لاجواب ہو… ازطرفِ راست سلسلۂ مطالعہ شروع کیا۔ ہر کاروبارِ زندگی انفارمیشن ٹیکنالوجی سے لِنک کرنے کے ایکسپرٹ، رائو شاہد اقبال اس بار ’’سنڈے اسپیشل‘‘ میں کمپیوٹر اسکرین پر Cattle Showسجائے نظر آئے۔ اس کورونا کی کرنی سے سب کچھ ہی آن لائن ہوگیا ہے۔ اشاعتِ خصوصی میں بنتِ قاضی (ڈاکٹر سمیحہ) نے قرآنی حوالہ جات سے مقامِ عورت بااندازِ دل نشیں تحریر کیا۔ فیچر میں منور راجپوت نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی بہترین مثال ’’کراچی انسٹی ٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیزز‘‘ کا تعارف و خدمات دل موہ لینے والے انداز میں تحریر کر کے دردِ دل (خدمتِ خلق) کے واسطے قلب کو گرما اور رُوح کو تڑپا سادیا۔ مصنّف ِپرُاسرار عرفان جاوید نے ’’عجائب خانہ‘‘ کے ساتویں رائونڈ میں قارئین پر سوال داغا ’’فِکشن کیوں پڑھا جائے؟‘‘ ہائے بھیا! فی الحال تو ہمیں مافیاز کے نئے پاکستان میں فکر دامن گیر ہے کہ جیا کیسے جائے۔ مسیحائے ملّت اور حق گو عالمِ دین، مولانا مفتی نعیم ؒ کی اسلامی مساعیِ جمیلہ اور کاوش ِ اصلاحِ معاشرہ کی خوش بُو سے صفحہ’’متفرق‘‘ معطّر تھا، جب کہ وحدت ِ اُمّت کے داعی اور بین المسالک ہم آہنگی کے علَم بردار، علاّمہ طالب جوہری کی یادیں مانندِ لعل و جواہر صفحہ ’’یادداشتیں‘‘ پر (صورتِ نثر و نظم) بکھری تھیں۔ اسٹائل ’’شارعِ عام نہیں ہے‘‘۔ اور سوشل میڈیا کے اس پُرآشوب و پُرفِتن دَور میں ’’بندے دا اِنّی چھیتی رام ہونا وی کوئی عام گل نئیں اے!‘‘ اُفقِ سیاست کے ماہتابِ منور، منور مرزا نے عالمی اُفق سے دانہ کشمش پھینکا ’’بالمو! شی جن (China) آرہا ہے۔‘‘ تاہم دلِ سادہ ہنوز عالمِ کشمکش میں ہے کہ انکل سام جا رہا ہے یا چھا رہا ہے۔ ہیلتھ اینڈ فٹنس میں پروفیسر ڈاکٹر غلام علی کا ہیپاٹائٹس آرٹیکل، شعور آور، چشم کُشا تھا۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ پر فائیو اسٹارز (خطوط) کی محفل میں سُپراسٹار (خط ِ اعزازی) مانچسٹر آف پاکستان (لائل پور) سے ٹھہرا اور 15بیرل رائفل (ملک نامہ) کی تڑتڑ اور مسٹر معذرت خواہ کی گڑبڑ کے کیا کہنے، آخر میں صحافت کے گوہرِ شب چراغ (میر صاحب) کی جلد رہائی کے لیے دعا بحضور خدائے مشکل کشاوحاجت روا۔ (محمد سلیم راجا، لال کوٹھی ، فیصل آباد)

گوشہ برقی خُطوط

  • مَیں وارث میر (معروف صحافی، پروفیسر اور جنگ کے سابقہ کالم نگار) کی بیٹی ہوں۔ مَیں نے اپنے والد سے متعلق ایک تحریر لکھ کر ای میل کی تھی، جسے آپ نے جنگ، سنڈے میگزین میں شایع بھی کیا، مگر یہ دیکھ کر سخت حیرت ہوئی کہ میری تحریر کے ساتھ ڈاکٹر ہما میر کی تصویر لگا دی گئی، جب کہ مَیں نے اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر کا سابقہ بھی نہیں لگایا تھا۔ براہِ کرم اس کی وضاحت فرما دیں۔ (ہما میر،فیصل ٹاؤن ،لاہور)

ج: ہما! جیسا کہ فون پر بھی آپ سے بات ہو چُکی ہے، اور آپ کی نشان دہی کے بعد ’’نیٹ ایڈیشن‘‘ میں نام اور تصویر دونوں درست بھی کر دیئے گئے ہیں،یہاں ہم قارئین کے لیے وضاحت کردیں کہ دراصل ڈاکٹر ہما میر ہمارے مستقل لکھاریوں میں شامل ہیں اور وہ مختلف موضوعات پر طبع آزمائی کرتی رہتی ہیں۔ اُن کے تحریر بھیجنے کا انداز بھی بعینہ ایساہی ہے کہ وہ نام کے ساتھ ڈاکٹر نہیں لکھتیں اور تحریریں بذریعہ ای میل ہی بھیجتی ہیں۔ وارث میر کی شخصیت ایسی ہے کہ اُن سے متعلق کوئی بھی لکھاری لکھ کے بھیج سکتا ہے، تو یہ کنفیوژن اِسی لیے ہوئی۔ دوم، اگر آپ تحریر کے ساتھ مختصراً اپنا تعارف یا تصویر ہی بھیج دیتیں تو یہ مغالطہ ہر گز نہ ہوتا، جیسا کہ اب آپ نے اس ای میل میں وضاحت کی ہے۔ بہرحال، ہم اپنی اس نادانستہ غلطی پر ایک بار پھر آپ سے تہہ دل سے معذرت خواہ ہیں کہ ہمیں بہر طور آپ سے کنفرم ضرور کر لینا چاہیے تھا۔

  • پورا میگزین وائرس زدہ ہوگیا ہے۔ حتیٰ کہ ٹائٹل پر بھی کورونا ہی کی منحوس شکل، آپ لوگوں کے پاس شایع کرنے کو اور کچھ نہیں ہے کیا۔ میگزین کا معیار گرتا جا رہا ہے۔ میرے خیال میں تو خواتین کو کسی بھی شعبے کا انچارج ہونا ہی نہیں چاہیے۔ کام کم، باتیں زیادہ کرتی ہیں اور جب تک میگزین کے صفحات کم ہیں، یہ تُرک فن کاروں کے انٹرویوز اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ نیٹ ایڈیشن ہی تک محدود رہنے دیں۔ (شاہد فاروق)

ج:چلیں، یوں کرتے ہیں کہ دیگر قارئین سے بھی رائے طلب کرلیتے ہیں، اگر اکثریت آپ کی رائے سے متفّق نظر آئی، تو ہم نہ صرف ’’آپ کا صفحہ‘‘ بند کر دیں گے، بلکہ اخلاقی طور پر اپنی سیٹ بھی چھوڑ دیں گے۔

قارئینِ کرام!

ہمارے ہر صفحے ، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ہمارا پتا یہ ہے۔

نرجس ملک

ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘

روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی

sundaymagazine@janggroup.com.pk