آپ آف لائن ہیں
اتوار14؍ ربیع الاوّل1442ھ یکم نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کل حکومت سے نجات کا حتمی لائحہ عمل بنائيں گے، کائرہ


پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ اے پی سی میں تمام جماعتیں موجودہ حکومت سے نجات حاصل کرنے کے لیے حتمی لائحہ عمل بنائیں گی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ حکومت کی بوکھلاہٹ بتارہی ہے کہ اسے اپنے اقدامات کا پتہ ہے۔

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ حکومتی ورزاء وہی گھسی پٹی اور فضول باتیں کر رہے ہیں، جو گزشتہ دو سالوں سے کر رہے ہیں، حکومت کے لوگوں کی ہیجانی کیفیت سمجھ میں آ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ حکومت ہر سیکٹر میں فیل ہوگئی ہے، اس حکومت نے عوام کی زندگی اور معیشت مشکل کردی ہے، اپوزیشن مشترکہ لائحہ عمل طے کرے تاکہ اس حکومت سے پاکستان کی جان چھڑائی جاسکے۔

قمرزمان کائرہ نے کہا کہ چیئرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری نے نوازشریف کو اے پی سی کی دعوت دی، نوازشریف نے اے پی سی میں شرکت کی دعوت قبول کرلی اور کل اے پی سی میں نواز شریف اور آصف زرداری ویڈیو لنک کے ذریعے شامل ہوں گے۔

رہنما پی پی نے کہا کہ ہم حتمی طور پر اس حکومت کے خلاف اقدام کا راستہ طے کریں گے، کچھ لاجسٹکس وجوہات کی وجہ سے اے پی سی کی جگہ تبدیل کرنا پڑی ہے، جبکہ حکومت کے لوگوں کی بوکھلاہٹ عروج پر ہے، سہارے حکومت کو نہیں بچاسکتے، سہارا صرف عوام کا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ حکومت سہاروں کے بل نہ کھڑی ہو تو آج گرجاتی ہے، اس حکومت کے گرنے کے بعد یہ تتر بتر ہوجائیں گے، پی ٹی آئی کے تتر بتر ہونے کی صورت میں پیپلز پارٹی پہلے سے زیادہ سیٹیں لے کر آئے گی۔

قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ہمیں کونسا خدشہ ہے کوئی ہماری حکومت گرا کر ہمارے خلاف ماضی کی طرح کوئی شب خون مارے جارہے ہیں کہ ہمیں کوئی خدشہ ہو کہ ہماری حکومت گری تو کل ہمیں آنے نہیں دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ پیپلز پارٹی اس خدشے کی وجہ سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کررہی ہم اس تاثر کی نفی کرتے ہیں، جب یہ حکومت گھر جائے گی تو پیپلز پارٹی ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھر کر واپس آئے گی۔

قومی خبریں سے مزید