آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پرسوز اور گداز آواز کا مالک ’گلوکار سلیم رضا‘

’’شاہِ مدینہ، شاہِ مدینہ، یثرب کے والی، سارے نبی تیرے دَر کے سوالی‘‘۔ یکم نومبر 1957ء کو نمائش کے لیے پیش کی جانے والی فلم ’’نور اسلام‘‘ میں شامل یہ نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی سماعتوں میں گونجتی ہے تو ایک سحر سا طاری کر دیتی ہے۔ اس شہرۂ آفاق نعت کو نامور شاعر تنویر نقوی نے رقم کیا۔ اس کی سحرانگیز طرز موسیقار حسن لطیف نے موزوں کی اور اس نعت کو اپنی آواز سے آراستہ کیا، گلوکار سلیم رضا نے اور ان کا ساتھ دیا، کورس میں آئرن پروین نے۔ گو کہ سلیم رضا نور اسلام سےقبل قاتل، نوکر، انتخاب، سوہنی، پون، چھوٹی بیگم، حمیدہ، حاتم، حقیقت، صابرہ، قسمت، لخت جگر، وعدہ، آس پاس، آنکھ کا نشہ، داتا، سیستان، سات لاکھ، عشق لیلیٰ، مراد، نگار، میں اپنی خوب صورت منفرد اور دل کش گائیکی کا مظاہرہ کر چکے تھے اور ان فلموں میں گائے ہوئے اُن کے بیش تر نغمات بے حد مقبول بھی ہوئے، مگر نور اسلام کی مذکورہ نعت کو انہوں نے جس رچائو اور انہماک کے ساتھ پیش کیا، اُس کی مثال نہیں ملتی۔ 

سلیم رضا کو پس پردہ گلوکاری کا موقعہ موسیقار غلام احمد چشتی نے فلم ’’نوکر‘‘ (ریلیز 24 مئی 1955ء) میں دیا اور اس فلم کے لیے سلیم رضا نے کوثر پروین کے ساتھ مل کر قتیل شفائی کا لکھا یہ دو گانا گایا: ’’تقدیر کے مالک دیکھ ذرا، کیا ظلم یہ دُنیا کرتی ہے‘‘،مگر ریلیز کے ضمن میں سلیم رضا کی پہلی فلم ’’قاتل‘‘ (ریلیز 22 جنوری 1955ء) تھی۔ اس فلم میں انہوں نے ماسٹر عنایت حسین کی بنائی طرز پر قتیل شفائی کا یہ نغمہ گایا: ’’آتے ہو یاد بار بار کیسے تمہیں بھلائیں ہم‘‘۔

سلیم رضا چار مارچ 1932ء کو مشرقی پنجاب کے شہر اَمرتسر میں ایک عیسائی گھرانے میں پیدا ہوئے اور اُن کا نام نائل ڈینیل رکھا گیا۔قیام پاکستان کے فوری بعد وہ اہلِ خانہ کے ساتھ لاہور آ گئے۔ شروع ہی سے اُن کی آواز میں سوز و گداز تھا اور انتہائی عمدہ آواز میں وہ نغمہ سرا ہوتے تھے۔ ریڈیو پاکستان لاہور سے اپنی آواز کا جادو جگانا شروع کیا اور یہی آواز اُنہیں فلموں تک لے آئی۔ نور اسلام کی نعت سے قبل انہوں نے 22 فروری 1957ء کو ریلیز فلم ’’داتا‘‘ میں قتیل شفائی کی ایک حمد باری تعالیٰ تصدق حسین کی بنائی طرز پر گائی: ’’کر ساری خطائیں معاف میری، تیرے دَر پہ میں آن گرا‘‘ جو آج بھی ذوق و شوق سے سُنی جاتی ہے۔ 

جعفر ملک کی زیر ہدایت بننے والی فلم ’’سات لاکھ‘‘ (ریلیز نو اکتوبر 1957ء) میں سلیم رضا نے سیف الدین سیف کا لکھا، یہ نغمہ رشید عطرے کی بنائی دُھن پر کمال خوبی سے گایا: ’’یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں‘‘ اور فلم میں نامور کریکٹر ایکٹر آغا طالش نے اس نغمے پر زبردست اداکاری کے جوہر دکھائے۔ اُردو فلموں کے ساتھ ساتھ سلیم رضا نے پنجابی فلموں کے لیے بھی سُریلے گیت گائے۔ اُن کی آواز سے سجی پہلی پنجابی فلم ’’چن ماہی‘‘ تھی، جو معروف اداکارہ ’’بہار‘‘ کی پہلی فلم تھی۔ اس فلم میں انہوں نے اداکار اسلم پرویز کی ہیروئین کا کردار ادا کیا تھا۔

’’چن ماہی‘‘ 2 نومبر 1956ء کو ریلیز ہوئی اور اسے ریلیز کے تناظر میں پاکستان کی 100 ویں فلم کا اعزاز حاصل ہوا۔ رشید عطرے کی موسیقی نے اس فلم کی کام یابی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انور کمال پاشا کی ہدایات نے بھی فلم کو چار چاند لگائے۔ ’’چن ماہی‘‘ کے لیے سلیم رضا نے زبیدہ خانم کے ساتھ نغمہ نگار طفیل ہوشیار پوری کا لکھا یہ دل کش دوگانا گایا: ’’ساڈے انگ انگ وچ پیار نے پینگھاں پائیاں نی‘‘۔ سلیم رضا کی بے مثل گائیکی سے آراستہ مذکورہ اُردو فلموں کے علاوہ مزید فلمیں یہ ہیں، آدمی،بھروسہ، توحید، تمنّا، جان بہار، حسرت، لکھ پتی، نیا زمانہ، آج کل، اپنا پرایا، سہارا، شمع، کھل جا سم سم، للکار، مظلوم، ناگن، نغمہ دل، ایک تھی ماں، خان بہادر، دلِ ناداں، زنجیر، راہ گزر، رات کے راہی، سلمیٰ، ساحل، سہیلی، شہزادی، شہباز، کلرک، گلبدن، لگن، ہم سفر (اس فلم کے لیے انہوں نے موسیقار مصلح الدین کی بنائی دُھن پر تنویر نقوی کا لکھا ہوا دل کش نغمہ عمدگی سے گا کے نگار ایوارڈ حاصل کیا۔ ’’زندگی میں ایک پل بھی چین آئے نہ، اس جہاں میں کاش کوئی دل لگائے نہ‘‘)۔ بے خبر، تین پُھول، جادوگر، چھوٹے سرکار، دو راستے، فرشتہ، گل بکائولی، گلفام، ہابو، ہم ایک ہیں، اَجنبی، اولاد، آواز دے کہاں ہے، آنچل، اُونچے محل، بیٹا، برسات میں، دروازہ، دوشیزہ، زرینہ، شیک ہینڈ، عذرا (سال 1962ء کی ریلیز اس فلم میں سلیم رضا نے ماسٹر عنایت حسین کی بنائی مسحورکن دُھن پر تنویر نقوی کا لکھا ہوا شہرۂ آفاق نغمہ گایا: ’’جانِ بہاراں رشکِ چمن، غنچہ دہن سیمیں بدن اے جانِ من جانِ بہاراں‘‘)۔ قیدی، میرا کیا قصور، موسیقار، محبوب، ہیڈکانسٹیبل، اک تیرا سہارا، باجی، تیر انداز، تانگے والا، جب سے دیکھا ہے تمہیں، داماد، دُھوپ چھائوں، دُلہن، سازش، سہاگ، سیما (ایس اے بخاری کی بہ طور ہدایت کار اس پہلی فلم میں سلیم رضا نے ماسٹر عنایت حسین کی بنائی طرز پر عارف نام کے نغمہ نگار کے اس نغمے کو گا کے سال 1963ء کے بہترین گلوکار کا نگار ایوارڈ حاصل کیا: ’’شام غم پھرآ گئی، پھر اُداسی چھا گئی‘‘)۔ شکوہ، عورت ایک کہانی، فانوس، مسکراہٹ، یہودی کی لڑکی، اَندھی محبت، آزاد، پُھول اور کانٹے، توبہ، جھلک، چنگاری، شکاری، شباب، کارواں (سابقہ مشرقی پاکستان کی اس فلم میں روبن گھوش نے پہلی اور آخری مرتبہ سلیم رضا سے شاعر صدیقی کا لکھا یہ نغمہ گوایا: ’’تیری تصویر بناتا ہوں مٹا دیتا ہوں‘‘)۔ لٹیرا، میخانہ، واہ بھئی واہ، بہوبیگم، تماشا، رواج، ڈاکٹر، دیوداس، شبنم، صنم، عظمت اسلام، کوہ قاف، کھوٹا پیسہ، ہم متوالے نوجواں، آگ کا دریا، انسان، پائل کی جھنکار، پردہ، گھر کی لاج، معجزہ، مثال، مادرِ وطن، اعلان، برما روڈ، دیور بھابھی، شب بخیر، جان آرزو، جنگ آزادی، مہمان اور نجمہ (مسعود پرویز کی نجمہ، 1970ء سلیم رضا کی آخری اُردو فلم تھی، جس میں انہوں نے مالا کے ساتھ قتیل شفائی کا لکھا یہ دوگانا ماسٹر عنایت حسین کی دُھن پر گایا: ’’اے رات بتا دے اُن کو میری آنکھوں میں آنسو ہیں جتنے‘‘۔

سلیم رضا نے پنجابی فلم چن ماہی (1956ء) کے علاوہ مزید ان پنجابی فلموں کو بھی اپنی آواز سے سجایا، جگّا (1958ء کی اس پنجابی فلم میں سلیم رضا نے زبیدہ خانم کے ساتھ یہ دل کش اُردو دوگانا احمد راہی کا لکھا ہوا بابا چشتی کی بنائی دُھن پر گایا: ’’آیا ہونٹوں پہ جانے کس کا نام، جیا شرمانے لگا‘‘)۔ شیخ چلّی، گھر جوائی، لکن میٹی، ڈنڈیاں، منگتی، بلّو جی، پہاڑن، موج میلہ، شیر دی بچّی، جاگیردار، لٹ دا مال، نیلی بار، یاراں نال بہاراں، وساکھی، دل دیا لگیاں، یار دیس پنجاب دے (1971ء کی ریلیز اس پنجابی فلم میں سلیم رضا نے آخری بار اپنی آوازکا جادو جگایا۔ بابا چشتی کی بنائی طرز پر انہوں نے وارث لدھیانوی کا لکھا ہوا عارفانہ کلام قوّالی کے انداز میں منیر حسین، محبوب سائیں اور آئرن پروین کے ساتھ پیش کیا: ’’عاشق عاشق ہر کوئی بن دا، عشق نبھاوناں اوکھا‘‘

سال 1973ء میں سلیم رضا اپنے خاندان کے ساتھ مستقل کینیڈا جا بسے اور وہاں ایک میوزک اکیڈمی بھی قائم کی۔ وہ 25 نومبر 1983ء کو سفر آخرت کے لیے روانہ ہوئے۔ اُن کی دل کش گائیکی سے سجے بعض مقبول نغمات اس تحریر کے آخری حصے کی زینت بن رہے ہیں۔

رُت ہے شباب کی دن ہیں بہار کے (انتخاب، کلیم عثمانی، فیروز نظامی)

او جانے والے بابو اِک پیسہ دے دے (پون، ہمراہ کوثر پروین، مبشر کاظمی، نذیر جعفری)

دل دھڑکے میری آنکھ پھڑکے تیرے ہاتھ میں میرا ہاتھ (حمیدہ ہمراہ زبیدہ خانم، قتیل شفائی، صفدر حسین)

دِل ہمارا زُلف کی زنجیر کے قابل نہ تھا (حقیقت، اے شاہ عجاز، بابا چشتی)

رات ہوگئی جواں نغمہ بن کے آ گئی لب پہ دل کی بات (صابرہ، ہمراہ کوثر پروین، طفیل ہوشیار پوری، صفدر حسین)

نظر سے نظر ملا لیں اگر اجازت ہو (وعدہ ہمراہ کوثر پروین، طفیل ہوشیار پوری، رشید عطرے)

بے درد زمانے والوں نے کب درد کسی کا جانا ہے (آس پاس، ساحل فارانی، اختر حسین)

ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چلے تھم تھم کے دن ڈھلے (آنکھ کا نشہ، ہمراہ ناہید نیازی، قتیل شفائی، رشید عطرے)

آئو بچّو سیر کرائیںتم کو پاکستان کی (بے داری، فیاض ہاشمی، فتح علی خان)

اُداس ہے دِل نظر پریشان قرار بن کے چلے بھی آئو (عشق لیلیٰ، قتیل شفائی، صفدر حسین)

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید