آپ آف لائن ہیں
بدھ10؍ربیع الاوّل 1442ھ28؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

دورانِ حمل ڈائٹ پلان کیا ہونا چاہیے؟

کسی بھی عورت کے لیےماں بننا دنیا کا سب سے خوبصورت احساس ہے لیکن یہ مرحلہ آسان نہیں ہوتا کیونکہ اس دوران اسےجسمانی اور ذہنی تبدیلیوں کی صورت مشکل ترین مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ ماں کی جانب سے بچے کے لیے اٹھائی جانے والی ان تکالیف کی بدولت ماں کے قدموں تلے جنت رکھی گئی ہے۔ اولاد چاہے ساری زندگی خدمت کرے مگر ماں کا قرض نہیں اُتار سکتی۔ 

ماں بننے کا عمل جہاں عورت کے لیے نہایت خوشگوار ہوتا ہے وہیں اس کو اپنی خوراک کا بھی اتنا ہی خیال رکھنا ہوتا ہے کیونکہ ماں کو اپنی ضروریات کے ساتھ بچے کی نشوونما کے لیے بھی غذائیت بھری خوراک درکار ہوتی ہے۔ حمل کے دوران اگر آپ ڈائٹ پلان کے حوالے سے پریشان ہیںکہ کن غذاؤں کا انتخاب کیا جائے تو آج کی ہماری تحریر آپ کے لیے مفید ثابت ہوگی۔

ماہرین کے مطابق دورانِ حمل، عورت کو اپنی اور بچے کی حفاظت کے لیے مخصوص معدنیات، وٹامنز اور دیگر غذائی اجزاء کی ضرورت ہوتی ہے۔ دورانِ حمل کسی بھی عورت کو اپنے غذائی چارٹ میں کن چیزوں کو شامل کرنا چاہیے اور کن کو نہیں، اس حوالے سے ماہرین غذاؤں کو چار گروپس میں تقسیم کرتے ہیں، جن کی تفصیل ذیل میں درج ہے۔

پروٹین

مخصوص غذاؤں میں پایا جانے والا پروٹین بچے کی صحت اور نشوونما کے لیے بہترین قرار دیا جاتا ہے۔ پروٹین فراہم کرنے والی عام غذاؤں میں دالیں، پھلیاں، پنیر، دودھ، مچھلی، انڈے، گوشت اور گری دار میوے شامل ہیں۔ یہ غذائیں پروٹین کی وافر مقدار سے بھرپور ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین ان غذاؤں کو دورانِ حمل ماں اور بچے کی صحت کے لیے بہترین قرار دیتے ہیں ۔

اناج

طبی ماہرین کے مطابق دن بھر میں لی جانے والی کاربوہائیڈریٹس کی آدھی مقدار اناج (Whole grain)سے حاصل کی جانی چاہیے۔ کاربوہائیڈریٹ فراہم کرنے والی غذاؤںمیں مختلف اناج سے تیارکی جانے والی روٹی، لال آٹے سے تیار کیا گیا پاستا اوربراؤن رائس شامل ہیں ۔

ڈیری مصنوعات

دودھ کو حاملہ خواتین کی خوراک کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔ دودھ کے علاوہ تمام ڈیری مصنوعات بھی بچے اور ماں کی صحت کے لیے ضروری قرار دی جاتی ہیں۔ دہی، دودھ، کاٹیج چیز اور دودھ سے بنی دیگر اشیاء کیلشیم ،پروٹین اور وٹامن ڈی فراہم کرنے کا باعث بنتی ہیں، ان سے بچے کی ہڈیوں کی نشوونما ہوتی ہے۔

سبزیاں اور پھل

اگر آپ چاہتی ہیں کہ دورانِ حمل آپ کے وزن میں بہت زیادہ اضافہ نہ ہو تو اپنے ڈائٹ چارٹ میں بغیر تیل کے تیار کی جانے والی سبزیاں شامل کریں۔ مختلف رنگوں والی سبزیاں اور پھلوں میں فائبر، وٹامنز اور معدنیات کی کثیر مقدار شامل ہوتی ہے۔ دوسری جانب یہ غذائیں کیلوریز کی کم مقدار پر مشتمل ہوتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق دوران حمل خواتین کو جن غذاؤں سے گریز کرنا چاہیے ان میں پروسیسڈ فوڈمثلاًریڈی ٹوایٹ فوڈ (پیکجڈ فوڈ ) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کچا پکا گوشت اور زیادہ صفائی کے بغیر دھلا گوشت بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ نقصان دہ اور صحت کے لیے مضر اشیاء خواتین کا وزن بڑھانے اوربچے کی نارمل ڈلیوری میں مشکلات پید اکرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔ ان غذاؤں کے استعمال کے برعکس حاملہ خواتین کو کوشش کرنی چاہیے کہ اپنے ڈائٹ پلان میں جراثیم اور کیمیائی مادوں سے پاک غذاؤ ںکا استعمال کریں۔

خوراک کی مقدار

یہ بات بھی اہم ہے کہ دورانِ حمل کتنی خوراک غذائی چارٹ کا حصہ بنائی جائے۔ حمل کے دوسرے اور تیسرے ٹرائمسٹر( سہ ماہی) میں آپ کو اضافی طور پر300 کیلوریز اور 15 سے20گرام پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم اس حوالے سے ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ تجویز کردہ کیلوریز اور پروٹین کی مقدار انفرادی ضروریات اور طبی حالات میں مختلف ہوسکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اوسطاً اندازے کے مطابق ایک حاملہ خاتون کی پلیٹ کا 50فیصد حصہ پھلوں اور سبزیوں (بغیر تیل کے)، 25 فیصد اناج اور 25فیصد لین پروٹین فراہم کرنے والی غذاؤںپر مشتمل ہونا چاہیے۔

دوران حمل اپنے غذائی پلان میں سے روزانہ کی بنیاد پر چار چمچ تیل کی مقدار کم کردیں۔ دوسری جانب اس بات کویقینی بنائیں کہ آپ کی روزانہ کی خوراک میں ڈیری مصنوعات اور صحت بخش اسنیکس شامل ہوں۔ چونکہ انسانی جسم کو صحتمند رہنے کے لیے غذاؤں کے ساتھ ساتھ ہائیڈریٹ رکھنا بھی بے حد ضروری ہے، لہٰذا دورانِ حمل روزانہ 8سے 10گلاس پانی پینا معمول بنائیں۔

کھانے کے اوقات

غذاؤںکے انتخاب کے ساتھ ساتھ کھانے کے اوقات بھی خاص اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے طبی ماہرین حاملہ خواتین کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اپنے ڈائٹ پلان میں ہر تین سے چار گھنٹے بعد کم مقدار میں متوازن غذاؤں کا استعمال یقینی بنائیں، درمیان میں ہلکے پھلکے صحت بخش اسنیکس بھی لیے جاسکتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ اگر کبھی کچھ کھانے کا دل نہ بھی کر رہا ہو تو اپنی اور بچے کی نشو و نما کے لیے کھانا ہر گز نہ چھوڑیں۔

نوٹ: مذکورہ بالا باتوں پر عمل کرنے سے پہلے اپنی معالج سے مشورہ لازمی کرلیں۔