آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

نابالغ بچوں کو دی ہوئی اشیاء کا شرعی حکم

تفہیم المسائل

سوال: کتبِ فقہ میں یہ مسئلہ صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ جو چیزیں بچے کی ملکیت میں ہوں ،اُن چیزوں کا استعمال دوسروں کے لئے جائز نہیں ، جبکہ ہمارے ہاں ایک بچے کی چیزیں مثلاً جھولا ،کپڑے اور کھلونے وغیرہ دوسرے چھوٹے بچوں کو دے دیے جاتے ہیں۔ پوچھنا یہ ہے کہ ولی /سرپرست نابالغ بچے کے لئے لباس ،کھلونے ،اسٹیشنری ، ٹافیاں وغیرہ خریدتا یا دیتا ہے یا اسی طرح کوئی رشتے دار ایسی اشیاء دیتا ہے اور بچے خود بھی استعمال کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی دیتے ہیں ،ہمارے عرف میں یہ ہبہ ہے یا عاریت یا اباحت؟(محمد منوراحمد ، کراچی )

جواب:والدین اپنے نابالغ بچوں کو جو اشیاء(خواہ کھانے پینے کی ہوں ،لباس کی قسم سے ہوں یا کھلونے وغیرہ ہوں) بطور اباحت دیتے ہیں ،یعنی وہ کوئی چیز جتنی چاہیں کھالیں یا جتنا چاہیں استعمال کرلیںاورجو چیز پس انداز ہو،وہ بچ رہتی ہے،اور نان نفقہ فراہم کرناشریعت کی رُوسے والدین کا فریضہ بھی ہے ،اس میں ہمارے عرف وعادت میں ملکیت کاکوئی تصور کسی کے ذہن میں نہیں ہوتا ۔

یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات بچے ان چیزوں کو ضائع کردیتے ہیں ،بعض اوقات وہ دوسرے بہن بھائیوں ، چچازاد، پھوپھی زاد یا دیگر عزیزوں اور رشتے داروں کے بچوں کو دے دیتے ہیں ،بعض اوقات ملازمین کے بچوں کو وہ چیزیں دےدی جاتی ہیں اوراسی طرح بڑے بہن بھائیوں کی استعمال شدہ اشیاء چھوٹے بہن بھائیوں کے استعمال میں آتی رہتی ہیں،ان سب میں ہبہ ،عاریت یا ملکیت کاکوئی تصور نہیں ہوتا۔میرے نزدیک جھولا ،کپڑے ،کھلونے ،اسٹیشنری اور ٹافیاں اِسی قبیل سے ہیں،خواہ خود والدین اپنے بچوں کو دیں یاقریبی رشتے دار اور احباب دیں۔


یہ عادت ظاہرہ ہے اور اس سے شاید ہی کوئی محفوظ ہو،سوائے اس کے کہ جو انتہائی درجے کا اَورَع واَتقٰی(خوفِ خدا رکھنے والا اور پرہیزگار ہو) ۔ شیخ الاسلام علامہ ابوبکر محمد بن احمد سرخسی لکھتے ہیں:ترجمہ:’’ اور (لوگوں کو) اُن (کے معمول یا) عادت ِجاریہ سے نکالنے میں ایک طرح کا حرج ہے اور یہ بعید ہے ،کیونکہ نص کے خلاف تعامل معتبر نہیں ہے ، (المبسوط،جلد10، ص: 152)‘‘۔ لیکن ہمارے زیرِ بحث مسئلے میں کوئی نَص شرعی نہیں ہے۔ہاں! بعض کتب فقہ میں اس کے بارے میں کچھ جزئیات ملتی ہیں ،جو بظاہر ہمارے مذکورہ بالا موقف کے خلاف نظر آتی ہیں، مثلاًصدرالشریعہ علامہ امجد علی اعظمی ؒ لکھتے ہیں: ’’نابالغ کو مٹھائی اورپھل وغیرہ کھانے کی چیزیں ہبہ کی جائیں ،اُن میں سے والدین کھاسکتے ہیں ،یہ اُس وقت ہے کہ قرینہ سے معلوم ہو کہ خاص اِس بچے کوہی دینا نہیں، بلکہ والدین کو دینا مقصودہے ،مگر اُن کی عزت کا لحاظ کرتے ہوئے یہ چیز حقیرمعلوم ہوتی ہے، اُنہیں دیتے ہوئے لحاظ معلوم ہوتا ہے ،بچے کا نام لے دیتے ہیں اور اگر قرینے سے یہ معلوم ہوتاہوکہ خاص اسی بچے کو دینا مقصود ہے تو والدین نہیں کھاسکتے ،مثلاً کوئی چیز کھارہاہے کسی کا بچہ وہاں پہنچ گیا، ذراسی اُٹھاکر بچے کو دےدی،یہاں معلوم ہورہاہے کہ والدین کو دینا مقصود نہیں ہے ،اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ جوچیز کھانے کی نہ ہو ،وہ نابالغ کو دی جائے ،تو والدین کو بغیر حاجت استعمال درست نہیں ،(بہارِ شریعت ،ہبہ کا بیان ،جلدسوم، ص: 78-79)‘‘۔

حضرت صدرالشریعہ ؒ اور دیگر فقہائے کرام نے اس حوالے سے ایسی جزئیات اپنی کتب میں نقل فرمائی ہیں ،جو اُن کے اپنے عرف وعادت پر مبنی تھیں ، کسی نَصِ شرعی (قرآن یا حدیث) پر مبنی نہیں تھیں ،لہٰذا جب عرف تبدیل ہوگیا، تو اعتبار اُس نئے عرف کاہوگاا وراب ان جزئیات پر فتویٰ دیناجائز نہیں ہوگا ۔فقہاء فرماتے ہیں: جو اپنے زمانے کے لوگوں کے عرف ورواج کو نہ جانتاہو ،وہ جاہل ہے ۔اس کا فتویٰ دینا جائز نہیں ہے ۔علامہ ابن عابدین شامی ؒ نقل فرماتے ہیں:ترجمہ:’’ اور ’’قُنیہ‘‘ میں ہے: مفتی اور قاضی کے لئے جائز نہیں کہ عرف کو چھوڑ کر ظاہر مذہب پر فیصلہ کریں‘‘۔(شرح عقود رسم المفتی ، ص:46 ) (…جاری ہے…)

اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

tafheem@janggroup.com.pk

اقراء سے مزید