آپ آف لائن ہیں
پیر10؍صفر المظفّر 1442ھ 28؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال:۔بچوں کو جو تحائف ملتے ہیں، وہ کس کے ہوں گے ،بچے کے یا والد یا والدہ کے ؟

جواب :۔بچوں کو جو تحفے تحائف دیے جاتے ہیں، ان کی مختلف صورتیں ہیں:

1۔ اگر وہ ایسی چیزیں ہیں جو بچوں کے استعمال کی ہیں یاان کی ضرورت کے موافق ہیں تو ایسی چیزیں بچوں ہی کی ملکیت ہوں گی ۔والدین کے لیے ان چیزوں میں تصرف کرنا یا وہ چیزیں کسی اور کو دینا جائز نہیں ہوگا۔

2۔ اس کے علاوہ چیز وں میں عرف ورواج کا اعتبار ہوگا۔ اگر عرف یہ ہے کہ یہ تحفے تحائف ماں باپ کو دینا مقصودہوتے ہیں ،صرف ظاہراً بچوں کے ہاتھ میں دیے جاتے ہیں ، جیسا کہ عام طورپر عقیقہ وغیرہ کی تقریب میں ہوتا ہے تو ان چیزوں کے مالک والدین ہی ہوں گے،وہ اس میں جو چاہیں تصرف کرسکیں گے، پھر اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر وہ چیزیں والدہ کے رشتے داروں نے دی ہیں تو والدہ ان کی مالک ہے، اور اگروالد کے رشتے داروں نے دی ہیں تو اس کا مالک والد ہے۔

3۔ اگر عرف یہ ہے کہ اس طرح کی تقریبات میں وہ چیزیں بچے ہی کو دی جاتی ہیں تو پھر اس کا مالک بچہ ہی ہوگا۔

4۔ اگر کسی موقع پر ہدیہ دینے والے صراحت کردیں یہ بچے کے لیے یا اس کی والدہ یا والد کے لیے ہے تو جس کی صراحت کریں گے وہی اس کا مالک ہوگا۔

اقراء سے مزید