آپ آف لائن ہیں
جمعرات4؍ ربیع الاوّل 1442ھ 22اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ٹیلی وژن دیکھنے والوں نے شاید یہ منظر دیکھا ہوگا۔ دس گیارہ برس کا لڑکااپنا مرا ہوا مرغا سینے سے لگائے گندے پانی کے جوہڑ میں کھڑا ہے اور کہہ رہا ہے کہ میرا مرغا اس جوہڑ کا پانی پی کر مرگیا۔میں بھی اسی جوہڑ کا پانی پیتا ہوں، میں بھی مرجاؤں گا۔یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ یہ منظرصوبہ سندھ کا ہے۔یہ بھی ظاہر ہے کہ اس بستی کے باشندے اسی جوہڑ کا پانی پیتے ہوں گے۔ شاید یہ سوچ کر پیتے ہوں گے کہ پیاسا مرنے سے بہتر ہے اسی جوہڑ کے پانی سے حلق تر کرلیں۔ آخر وقت میں منہ میں ٹپکانے کے لئے یہ پانی بھی غنیمت ہے۔یہ تیمم تو ہے نہیں کہ پانی دستیاب نہ ہو تو خاک سے کرلیں۔تو یہ ہے وہ منظر جو دیکھنا ہماری آنکھوں کے نصیب میںلکھا تھا۔اصولاً تو یہ دو آنکھیں ایسے بے شمار منظر دیکھنے کی عادی ہوجانی چاہئیں مگر منظر کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ خیر سے اکیسویں صدی کے بھی بیس برس گزرنے کو ہیں اور پاکستان کو وجود میں آئے ستّر برس سے اوپر ہو چکے ہیں ۔ بحیرہ عرب کی لہروں سے ہم آغوش ہوتے ہوئے اس علاقے کا مقدر نہ جانے کن لمحات میں لکھا گیا تھا کہ پوری سرزمین ادھڑی پڑی ہے۔ یقین نہیں آتا کہ آج جب دنیا کہاں سے کہاں جا پہنچی ہے، سندھ کن پستیوں میں گرا ہوا ہے۔ یہی سندھ تو ہے جس کی سرزمین پر قدم قدم پر جھیلیں ہوا کرتی تھیں جن جھیلوں پر اس راہ سے گزرتے کروڑوں پردیسی پرندے دم لینے کو اترا کرتے تھے۔سنا ہے پرندوں نے اپنی راہ بدل دی ہے کیونکہ یہاں کی جھیلیں یا تو سوکھ گئی ہیں یا اتنی آلودہ ہو چکی ہیں کہ پردیسی پرندہ ہمارے دس گیارہ برس کے لڑکے کے ’کُکّڑ‘کی طرح یہاں کا پانی پی کر راہی ملک عدم ہوچکا ہے۔ بڑے بڑے غیر ملکی سربراہ اندرون سند ھ کے علاقوں میں قیام کیا کرتے تھے اور شوق سے شکار کھیلا کرتے تھے۔ وہ سلسلہ کبھی کا ختم ہوا۔ چند شیخوں کے سوا اب کوئی ادھر کا رُخ نہیں کرتا۔ اجاڑ پڑے ہوئے اسکولوں اور شفا خانوں کے کھنڈروں کے درمیان کوئی کیوں قیام کرے گا۔

اگرآج کے سندھ میں کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں لوگ گندے جوہڑ کا پانی پینے پر مجبور ہیں تو اس کی ذمہ دار صرف اور صرف حکومت ہے۔ اور اگر حکومت کو کوئی مجبوری درپیش ہے تو وہ مسند اقتدار پر لات مارے، قوم سے معافی مانگے اور کسی ذی ہوش کے لئے جگہ خالی کردے۔

میں چند برس ہوئے تھرپارکر گیا تھا۔ جس علاقے میں میرا قیام تھا وہاں زیر زمیں نکلنے والے کھارے پانی کو میٹھابنانے کے نو پلانٹ لگے ہوئے تھے۔ صرف ایک پلانٹ کام کر رہا تھا ۔ اس کو ایک این جی او چلا رہی تھی۔ میں نے بھی اس کا پانی پیا اور صحت مند رہا۔ علاقے کے باقی آٹھ پلانٹ،میں نے خود دیکھا، بند پڑے تھے اور ان پر تالے پڑے ہوئے تھے اور ان میں خاک اڑ رہی تھی۔ ان کو چلانے والے عملے کی تنخواہیں باقاعدگی سے ادا کی جارہی تھیں لیکن وہ کس کی جیب میں جارہی تھیں، قیاس کرنا مشکل نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ایک تھرپارکر ہی کیا، پورے سندھ کا یہی عالم ہے۔ بڑی بڑی رقمیں مختص کی جارہی ہیں، بڑے بڑے منصوبوں کے خواب دیکھے(یا دکھائے )جارہے تھے مگر میدان عمل میں بد دیانتی اور خیانت کے بھوت پریت ڈیرا جمائے ہوئے تھے۔

میں اس نو عمر لڑکے کی تصویر ذہن سے محو نہیں کرسکتا جو اپنے مرغے کی میت گود میں اٹھائے گھٹنوں گھٹنوں غلیظ پانی میں کھڑا کہہ رہا تھا کہ یہ پانی پی کر میرا کُکڑ مر گیا ہے اور میں بھی یہی پانی پیتا ہوں، میں بھی مرجاؤں گا۔اس کا یہ اندیشہ کسی واہمے کا نتیجہ نہیں تھا، اس سے پہلے آس پاس کے کتنے ہی لوگ اسی جوہڑ کے کنارے موت کے گھاٹ اتر چکے ہوں گے۔

اگلی بات جو میں کہنے جارہا ہوں،سچی بات ہے۔یہ معاملہ ایک سندھ ہی کا نہیں، پاکستان میں کتنے ہی علاقے ہیں جہاں لوگوں کو پینے کا پانی نصیب نہیں۔ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں جہاں اعلیٰ حکام جانے کی زحمت بھی نہیں کرتے،پینے کا پانی گدھوں پر لاد کر لایا جاتا ہے تو لوگوں کا حلق تر ہوتا ہے۔ بعض علاقوں میں کمسن بچے میلوں پیدل چل کر کسی جوہڑ سے پانی بھرتے ہیں اور پھر اسے اٹھا کر ہانپتے کانپتے اپنے ٹھکانے پر واپس آتے ہیں۔

چلئے حکومت سے زیادہ امیدیں رکھنا فضول ہے۔ اس کی نگاہ مشاہدے کے لئے اپنی مرضی کے علاقے چن لیتی ہے۔ اس کی رسائی ایسے علاقوں تک کیوں نہیں جہاں کا پانی پی کر پرند تک مر جاتے ہیں۔ میں ان خیراتی اور امدادی اداروں پر حیران ہوں جو ٹی وی پر اشتہار دیتے ہیں اور غریبوں کو پانی فراہم کرنے کے لئے عطیات مانگتے ہیں۔ کیا ان کے کام محدود ہیں یا کام اتنا زیادہ ، اتنا وسیع ہے کہ وہ ہر علاقے کی ضرورت پوری نہیں کرسکتے۔ہر محرومی سے کوئی نہ کوئی مجبوری کیوں جڑی ہے۔ جن لوگوں کی آنکھوں کے سامنے لوگ زندگی کی سہولتوں کو ترس رہے ہیں، ان لوگوں پر اثر کیوں نہیں ہوتا۔ ابھی حال ہی میں بارشوں نے جو تباہی مچائی اس نے ان بے آسرا ، بے سہارا لوگوں پر بڑا ہی غضب ڈھایا۔ میں نے دیکھا کہ امریکہ کے شہر لاس اینجلز میں آباد دردمند لوگوں نے اپنا اپنا حصہ ڈال کر وافر امدادی سامان عمر کوٹ کے علاقے میں پہنچایا جہاں سیلاب میں گھرے ہوئے لوگوں کو دو وقت کی روٹی بھی نصیب نہ تھی۔ امریکہ سے مدد آئی تو کتنے ہی گھروں میں چولہا جلا اور کتنے ہی بچے بھوکے نہیں سوئے۔ مگر یہ امداد امریکہ سے کیوں آئی، لاڑکانہ سے کیوں نہیں آئی؟اس کا آسان جواب یہ ہے کہ لوگوں کو اپنے پیٹ بھرنے سے فرصت ملے تو وہ بے سہارا لاچاروں کو دو لقمے فراہم کریں مگر وہ فرصت کہاں سے لائیں۔اس کے لئے تو انہیں اسی جوہڑ تک جانا پڑے گا جس کا پانی پی کر ایک بچے کا مرغا مرگیا تھا۔ اب آپ پوچھیں گے کہ وہ جوہڑ تک کیو ں جائیں جب کہ چلّو بھر پانی تو ان کے شہروں میں بھی مل جائے گا۔

بات تو معقول ہے۔