آپ آف لائن ہیں
ہفتہ6؍ربیع الاوّل 1442ھ 24؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بچوں کی پرورش والدین کیلئے ایک چیلنج

آج کے دور میں بچوں کی پرورش آسان کام نہیں۔ ایک طرف جہاں معاشی دباؤ کے باعث والدین کے پاس اپنے بچوں کے لیے وقت نکالنا مشکل ہوتا ہے تو دوسری طرف ٹیکنالوجی تک آسان رسائی کے باعث بچے بھی اپنی ایک الگ دنیا آباد کرلیتے ہیں اور وہ اپنا زیادہ تر وقت اسکرین کے سامنے گزارتے ہیں۔ ایسے میں والدین، اپنے بچوں کی تعمیری اور مثبت انداز میں پرورش کس طرح کرسکتے ہیں اور وہ کس طرح اچھے والدین بن سکتے ہیں؟ یہ سوال انتہائی اہمیت اختیار کرجاتا ہے۔

اس حوالے سے کئی ماہرین نفسیات مختلف امور کا احاطہ کرتی کتابیں بھی تحریر کرچکے ہیں، جن میں ان ماہرین نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ آپ اچھے والدین کیسے بن سکتے ہیں تاکہ آپ کے بچے زندگی کا بہتر آغاز کر سکیں۔ 

اگر آپ اپنے بچوں کی پرورش کے حوالے سے بے یقینی کا شکار ہیں اور آپ اچھے والدین بننا چاہتے ہیں تو ذیل میں دیے گئے مشورے آپ کے لیے کارگر ثابت ہوسکتے ہیں۔

بچے کیا کرسکتے ہیں اور کیانہیں

سبھی والدین اپنے بچوں سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور اس کے باعث یہ انتہائی مشکل ہوجاتا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو کسی کام سے منع کریں اور کہیں کہ، ’’نہیں، یہ تمہاری حد ہے اور تم اسے پار نہیں کرسکتے‘‘۔ اگر آپ پہلے ہی یہ سمجھتے ہیں کہ آپ اپنے بچوں کو کچھ زیادہ ہی آزاد رہنے دیتے ہیں اور آپ اس سے مطمئن ہیں، تب بھی آپ کو کچھ حدود کا تعین کر لینا چاہیے۔ مثلاً، آپ کا بچہ اپنے دوستوں کے ساتھ فلم کا ’لیٹ نائٹ‘ شو دیکھنا چاہتا ہے، تو آپ اسے پیار سے سمجھا سکتے ہیں، ’’مجھے معلوم ہے کہ آپ رات کواپنے دوستوں کے ساتھ فلم دیکھنا چاہتے ہیں لیکن میں ابھی اس کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں ہوں‘‘۔

والدین کو ایسے نہیں ٹوکنا چاہیے کہ، ’’نہیں آپ تو ابھی صرف 13سال کے ہو، آپ ابھی بہت کم عمر ہو‘‘۔ چاہے آپ کا بچہ ہی کیوں نہ ہو، کسی کو یہ پسند نہیں ہوتا کہ کوئی اور ان کے بارے میں ایسی بات کرے۔

بچے ہر وقت خوش نہیں رہ سکتے

ہم اپنے بچوں سے اتنا پیار کرتے ہیں کہ بس انھیں ہر وقت اور ہر حال میں خوش اور ہنستا مسکراتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم انھیں کبھی مایوس نہیں دیکھ سکتے۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ ہم انھیں ہر قسم کا مزاج (موڈ) رکھنے کی اجازت دیں اور اس دوران ہمیشہ ان کے ساتھ رہیں۔ ہمیں بچوں کے تمام جذبات کو قبول کرنا چاہیے تاکہ بچے اداس ہونے یا غصہ کرنے پر مزید مایوس نہ ہوں۔ بچوں کو بچہ رہنے دیں، ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ہر وقت خوش رہیں گے، ان کے ساتھ بڑی زیادتی ہوگی۔

جیسے آپ ویسے آپ کے بچے

ماں کی گود بچے کی اولین درسگاہ اور گھر سب سے مؤثر ماحول ہوتا ہے۔ گھر میں بچے کو آپ جیسا ماحول فراہم کریں گے، آپ اس سے جس طرح کا برتاؤ کریں گے، جو چیزیں سکھائیں گے، وہی اس کی شخصیت کا حصہ بن جائیں گی۔ یوں سمجھ لیں کہ آپ اپنے بچے کا حقیقی عکس ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ آپ ان کا انسانی عکس ہیں تو یہ غلط نہ ہوگا۔ اپنے بچے سے آپ سے زیادہ کوئی اور مماثلت نہیں رکھ سکتا۔ بچوں کے ساتھ ہمارا برتاؤ ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔

اگر ہم انھیں ہمیشہ یہی کہتے رہیں گے کہ ’’دیکھو آپ نے موزےگندے کر لیے ہیں‘‘، ’’دیکھو تم نے فلاں چیز توڑ دی ہے‘‘، تو وہ ہمیشہ آپ کی غصے والی شکل ہی دیکھ پائیں گے۔ یہ ضروری ہے کہ آپ پہلے ان کے ساتھ ہنسی مذاق کریں اور اس کے بعد ان کی اصلاح کے انداز میں ان کی غلطیوں اور غلط رویوں کی نشاندہی کریں۔ آپ کو ہمیشہ کوشش کرنی چاہیے کہ ان سے ملتے ہوئے خوشی کا اظہار کریں۔ سختی کرکے آپ اپنے بچوں کی اصلاح نہیں کرسکتے۔

بچے کے غلط رویہ کی وجوہات تلاش کرنا

بچے حساس ہوتے ہیں، ہمارے رویوں اور عمل سے جلدی اثر لیتے ہیں اور پھر اسی قسم کا ردعمل دیتے ہیں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے بچے کے رویے میں کوئی خرابی ہے تو یہ بات یاد رکھیں:ہر قسم کا رویہ بات کرنے کا ایک طریقہ ہوتا ہے۔ بچے اس طرح کے رویے سے آپ کو کچھ بتانا چاہتے ہیں اور ان کے پاس کہنے کا یہی بہترین طریقہ ہوتا ہے۔ آپ کو ایسے رویے کا اصل مطلب تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اس کے بعد ان کی مدد کرنی چاہیے تاکہ وہ جو محسوس کر رہے ہوں، اسے صاف الفاظ میں بلا ہچکچاہٹ کہہ سکیں۔ ہمیں ان کے تمام جذبات کو مثبت انداز میں لینا چاہیے، چاہے ہمیں وہ ٹھیک نہ لگتے ہوں۔

ہمیں بچوں کو ان کے جذبات کا اظہار سکھانا چاہیے اور اس بات کی فکر نہیں کرنی چاہیے کہ ہم ان کی جگہ ہوتے تو کیا کرتے۔ ہر شخص دوسرے سے مختلف ہوتا ہے، اپنے بچوں سے یہ توقع نہ رکھیں کہ وہ بالکل آپ کی طرح بن جائیں۔بچوں کی اپنی شخصیت کو مثبت انداز میں پروان چڑھانے میں ان کا بھرپور ساتھ دیں۔

بچے کو بچہ رہنا دیں

بچے کی شخصیت غلطیاں کرتےکرتے اور ان سے سیکھتے سیکھتے پروان چڑھتی ہے۔ ماہر ین کہتے ہیں، ’’آپ کا بچہ ایک مشق نہیں جسے آپ جلدی جلدی نمٹا دیں۔ نہ ہی یہ کوئی پراجیکٹ ہے جسے آپ بہترین انداز میں جلد از جلد مکمل کرلیں۔ آپ کا بچہ ایک انسان ہے جو اپنی انفرادیت رکھتا ہے‘‘۔ آپ کا بچہ ایک عمل سے اپنے وقت اور رفتار کے مطابق گزرتے ہوئے ہی بڑا ہوگا۔