آپ آف لائن ہیں
ہفتہ6؍ربیع الاوّل 1442ھ 24؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اساتذہ اور طلبا کے مابین مثبت تعلق

اساتذہ اور طالب علموں کے مابین مثبت تعلق استوار کرنا معیاری تعلیم کا ایک بنیادی پہلو ہے۔ کامیاب اساتذہ وہ ہوتے ہیں جو اپنی جماعت کے تمام طلبا کی سیکھنے کی صلاحیت کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنانے کا ہنر جانتے ہوں۔ اساتذہ اور طالب علموں کے مثبت تعلق کے باعث ان کا تعلیمی ادارے سے ایک رشتہ قائم ہوجاتا ہے اور باہمی تعاون سے بہتر کارکردگی کو فروغ ملتا ہے۔ 

اساتذہ حوصلہ افزائی اور اہداف کی ترتیب کے ذریعے طلبا کی مدد کرسکتے ہیں جبکہ طلبا مشورے اور رہنمائی کے لئے ان کی طرف رجوع کرسکتے ہیں۔ اساتذہ کی جانب سے طلبا کو تجربات کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان میں کامیاب ہونے کا اعتماد پیدا ہوتا ہے اور ناکامی کا خوف ان کی صلاحیتوں پر اثر انداز نہیں ہوتا۔

اساتذہ اور طلبا کے تعلق کے اثرات پر وسیع پیمانے پر تحقیق کی گئی، جس سے یہ بات سامنے آئی کہ دونوں کے درمیان مثبت تعلق اچھے معاشرتی اور علمی نتائج کا باعث بنتا ہے۔2015ء میں جان ہیٹی کے نام سے ایک محقق نے مؤثر طریقے سے سیکھنے اور کامیابیوں سے متعلق متعدد اثرات کی نشاندہی کی۔ ان میں سے کچھ اثرات میں تدریسی حکمت عملی، کلاس روم میں علمی بحث، ہم آہنگی، اساتذہ کی توقعات، جلدبازی، ساکھ اور طبقاتی طرزِ عمل شامل تھے۔ تحقیق سے یہ اخذ کیا گیا کہ اساتذہ اور ان کے طلبا کے مابین نتیجہ خیز تعلق کے باعث ایک مثبت اور معاون کلاس روم ماحول سامنے آتا ہے، یہ ایسا پلیٹ فارم ہے جس میں طلبا کو تعلیمی اور ذاتی سطح پر ترقی حاصل کرنے کی ترغیب دی ملتی ہے۔

جان ہیٹی نے اپنی تحقیق میں بتایا کہ ہم آہنگی والا کلاس روم تخلیقی صلاحیتوں کی نشوونما کرنے کے ساتھ ساتھ طلبا میں اضطراب کی سطح کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ اساتذہ اور طلبا کے تعلق کے تناظر میں کسی بھی طالب علم کی تعلیمی صلاحیت پر پڑنے والے اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہئے۔ اساتذہ اس پوزیشن میں ہوتے ہیں کہ وہ طلبا کی مدد اور حوصلہ افزائی کے ذریعے انہیں سیکھنے اور آگے بڑھنے کا عمدہ ماحول فراہم کرسکیں۔

ایک اور مطالعہ میں، گیلسپی (2002ء) نے تسلیم کیا کہ اساتذہ اور طلبا کے رشتے کی فطری خصوصیات (خیال رکھنا ، جاننا ، اعتماد اور باہمی احترام) اور ان کے درمیان مثبت تعلق کے نتیجے میں کلاس روم میں ایسا ماحول پیدا ہوتاہے جہاں طلبا کی کامیابی یقینی ہو جاتی ہے۔ بریجٹ ہامرے اور رابرٹ پیانٹا کی2001ء میں کی گئی تحقیق بھی ان پہلوئوں کو سامنے لاتی ہے کہ کس طرح کلاس روم باہمی تعاون کا ایک عمدہ مقام بن سکتاہے اور طلبا علمی و معاشرتی طور پر زیادہ فائدے مندثابت ہوسکتے ہیں۔ محققین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ جن طلبا کا اپنے اساتذہ کے ساتھ مثبت تعلق ہے وہ تعلیمی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے اور اپنی سماجی و جذباتی نشوونما پر کام کرنے کے لئے زیادہ جذبہ سے کام کرتے ہیں۔

اساتذہ اور طلبا کے مابین مثبت تعلق استوار کرنے کے بہت سے مختلف طریقے ہیں۔ کچھ وقت نکالیں اور غور کریں کہ آیا آپ کے بچے کے تعلیمی ادارے میں ایسا ماحول فراہم کیا جارہا ہے یا نہیں۔

بہترین استاد کی چند خصوصیات

طلبا کی اکثریت ایک منظم ماحول کے بارے میں مثبت ردعمل کا اظہار کرتی ہے۔ اساتذہ کو طلبا سے وابستہ توقعات کی وضاحت کرنی چاہئے۔ قواعد و ضوابط کوقابل فہم اور مستحکم ہونا چاہیے۔ ایسے ماحول میں طلبا کا اپنے استاد پر اعتماد بڑھے گا اور وہ سمجھیں گے کہ ان کے استاد کے دل میں ا ن کے لیے بہترین جذبات ہیں۔

جوش و جذبہ سے تعلیم دینا: اساتذہ اپنی تھکن یا ذاتی مسائل کو پسِ پشت ڈال کر بچوں کو تعلیم دیتے ہیں، ان کی بات سنتے ہیں اور ان کےمسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مثبت رویہ ظاہر کرنا: اساتذہ کوشش کرتے ہیں کہ مثبت اور عمدہ رویے کا مظاہرہ کریں اور طلبا کو بہتر رویہ اپنانے کی جانب راغب کریں۔

سیکھنے کے عمل میں تفریح: حصولِ تعلیم کے عمل کو لطف انگیز بنانے سے اساتذہ بچوں کو نت نئی چیزیں سکھانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔

کلاس روم سے باہر طلبا کی مدد: اساتذہ اپنے طلبا کی فلاح و بہبود میں حقیقی دلچسپی لیتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ کلاس روم سے باہر بھی طلبا کو درکار مدد فراہم کی جائے اور ان کے مسائل حل کیے جائیں۔

طلبا کے ساتھ عزت سے پیش آنا: ایک ایسا استاد جو اپنے طلبا کا احترام کرتا ہے، وہ اپنے طلبا سے بھی بھرپور عزت و احترام سمیٹتاہے۔

محفوظ ماحول تخلیق کرنا: اساتذہ کو ایسا ماحول ترتیب دینے کی ضرورت ہوتی ہے جہاں طلبا ایک دوسرے کو تنقید، دھونس اور دھمکیاں نہ دیں۔

اساتذہ اور طلبا کے مابین مثبت تعلق میں پیش رفت اہمیت رکھتی ہے، جس سے دونوں ہی استفادہ کرتے اور معاشرے کے لیے مفید اور کارآمد شہری وجود میں آتے ہیں۔