آپ آف لائن ہیں
اتوار7؍ ربیع الاوّل1442ھ 25؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

تمام جماعتوں کی کانفرنس، مولانا فضل الرحمٰن کی تقریر کا بائیکاٹ، زرداری صاحب کی دس منٹ اور نواز شریف کی ایک گھنٹہ کی تقریر، خود کی کارکردگی کے خراب نتائج پر سخت تنقید، مردم شناسی کے فقدان کی سزا اور تکلیف پھر حکومت کی پلاٹون کی دن بھر ٹی وی پر یلغار اور بےتکی باتیں۔ عرض یہ کہ بجائے کوئی اچھے کاموں پر وقت لگانے کے ہر پارٹی ایک دوسرے پر بہتان بازی میں لگی ہوئی ہے۔ ہمارے تو یہ باتیں سن سن کر کان پک گئے لیکن سیاسی لیڈر خوش ہیں خواہ حکومت میں ہوں خواہ باہر ہوں سب کا یہ ہی وطیرہ ہے اس پر وقت ضائع کرنے کے بجائے اچھی، معلومات سے پُر کتابوں پر تبصرہ پیش کررہا ہوں۔

(1)پہلی نہایت اعلیٰ، قیمتی معلومات سے بھرپور کتاب عشقِ مصطفیؐ ہے، اِس کے مصنف جناب مقصود احمد اصلاحی ہیں۔ اِس پر نظر ثانی محترم جناب علامہ مفتی محمد منشا تابش قصوری نے کی ہے، جو لاہور سے شائع ہوئی ہے۔

کتاب کو آپ دیکھیں گے تو فوراً احساس ہو جائے گا کہ واقعی مقصود احمد اصلاحی صاحب عشقِ رسولؐ کے شیدائی، پرستار ہیں۔ ایسی دینی کتاب لکھنے کے لئے آپ کو دل و دماغ سے اس موضوع کا عاشق ہونا ضروری ہے۔ یہ کتاب ماشاء اللہ 843صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کے بارے میں جناب محمد نصیر الحق ہاشمی نے توجہ دلائی ہے کہ مقصود احمد اصلاحی سلطانی کتاب عشق مصطفیؐ میں تمنائے مقصود کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ میری کئی برسوں کی خواہش تھی کہ میں ایک ایسی کتاب لکھوں جس کو عاشقانِ رسولؐ پڑھ کر ناصرف اپنے دل کا سکون حاصل کریں بلکہ اپنی روح کی تسکین بھی پائیں۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ اس کتاب کو لکھنے کے دوران ان کے والدین کتاب کی کامیابی کیلئے دعائیں دیتے ہوئے رحلت فرما گئے اور ان کی آنکھوں کا سفید موتیا اور والدین کی جدائی کا غم بھی اس کتاب کیساتھ ساتھ چلتا رہا۔

دیکھئے جب آپ اس کتاب کا مطالعہ کرینگے تو آپ کو فوراً احساس ہو جائے گا کہ وہ جذبہ جو ہر سچے مسلمان کو ہمارے پیارے رسولﷺ سے ہے، اصلاحی صاحب کی تحریر کا ایک ایک لفظ اُسی جذبہ سے سرشار ہے۔ پوری کتاب کے ہر پہلو پر تبصرہ کرنا مشکل ہے کہ کالم میں اتنی جگہ نہیں ہوتی اسی لئے میں فہرست مضامین لکھ رہا ہوں جن کو پڑھ کر آپ کو اس کتاب کی اہمیت اور اصلاحی صاحب کی کوششوں کا اندازہ ہو جائے گا۔

1۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں عشقِ مصطفیﷺ کیا ہے؟ 2۔ عشقِ مصطفیٰﷺ کے تقاضے 3۔ عشقِ مصطفیٰﷺ کیسے پیدا ہوتا ہے؟ 4۔ جس عظیم ہستیﷺ سے عشق کیا جا رہاہے 5۔ آداب و تعظیم آقائے دو عالمﷺ 6۔ مقام عاشقِ رسولﷺ 7۔ اللہ تبارک و تعالیٰ، انبیاء کرام کی محبتِ رسولﷺ 8۔ ملائکہ، جنات کا عشقِ مصطفیٰﷺ 9۔ حضرت عبدالمطلب، حضرت ابوطالب، امہات المومنین کی محبتِ رسولﷺ 10۔ صحابہ کرام، امتِ محمدی، غیرمسلموں کا عشقِ مصطفیٰﷺ 11۔ جمادات، نباتات، فلکیات، حیوانات کا عشقِ مصطفیٰﷺ 12۔ ہجرتِ مدینہ، عشقِ مصطفیٰ ﷺکے آئینے میں 13۔ عاشقانِ مصطفیٰﷺ عشق کی امتحان گاہ میں 14۔ عشقِ مصطفیٰﷺ اور ہمارا کردار 15۔ عشقِ مصطفیٰﷺ ہی میں ملتِ اسلامیہ کی کامیابی کا راز ہے 16۔ عشقِ مصطفیٰﷺ اور والدین و اولاد 17۔ حیاتِ طیبہ ماہ و تاریخ کے آئینے میں 18۔ اصلوۃ و السلام۔

(2)دوسری اہم کتاب ’’تاریخ ابنِ کرم ہے۔ تذکرہ مشائخ قادریہ قطبیہ‘‘ ہے، اسکی تصنیف اور تالیف محترم جناب پیر محمد طاہر حسین قادری نے کی ہے اور یہ پہلی جلد ہے اور اس کو نہایت اعلیٰ پیرایہ میں اسلام آباد سے شائع کیا گیا ہے۔ دونوں کتب کو ہر مسلم گھرانہ اور خاندان کو گھر کی زینت بنانا چاہئے۔ ان کتب میں جومعلومات ہیں وہ روز آپ کے کام آسکتی ہیں۔


حمد و نعت سے شروع ہونیوالی ’’تاریخ ابن کرم‘‘ بہت بڑی روحانی تحقیق ہے جسے علامہ پیر محمد طاہر حسین قادری صاحب نے تحریر فرمایا ہے، جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے حضرت سائیں پیر محمد کرم حسین تک 43واسطوں کی ہی تاریخ نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے روحانی سلسلے کی تفسیر ہے‘ جو بہت بڑا کام ہے، بقول علامہ پیر محمد طاہر حسین قادری کہ

اے راہ محبت ترے سو بار تصدق

کانٹوں میں مگر اشک پرونا بڑا مشکل

علامہ پیر محمدطاہر حسین قادری صاحب نے 36کے قریب کتب تحریر و تالیف فرمائی ہیں تدوین بھی کیں، 2درجن کتب ابھی طباعت کے مرحلے میں ہیں، ان کی شاعری کی ’’کلیات‘‘ اور تاریخ پاکستان کے حوالے سے ’’خانوادہ قطبیہ‘‘ کی خدمات بھی پڑھیں، آپ پنجاب کے ممتاز روحانی آستانے، خانقاہ منگانی شریف کے دانشور صوفی، بے بدل محقق، زیرک مورخ، جہاندیدہ مولف، شاعر، سفرنامہ نگار اور خوبصورت انشاء پرداز ہیں۔ زیر نظر ’’تاریخ ابن کرم‘‘ 2جلدوں اور 1300صفحات پرمشتمل ہے، گنبد خضریٰ روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت سائیں پیر مکرم حسین قادری منگانوی تک مزارات کے عکس، مصورانہ شاہکار اور بعض روحانی پیشوائوں کی شبیہ ’’تاریخ ابن کرم‘‘ کے بصری حسن میں اضافے کا باعث ہیں، ابن کرم نے ’’تاریخ ابن کرم‘‘ تصنیف فرما کر بہت بڑا، قلمی، علمی، نسبی اور نسبتی ہمالہ سر کیا ہے، یہ اس قدر لائق تحسین اور باعث افتخار کام ہے کہ ہماری جامعات کو اس ایمان افروز مقالے پر علامہ پیر محمد طاہر حسین قادری صاحب کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری پیش کرنی چاہئے!

جناب اصلاحی صاحب اور عبدالوحید قادری کو اللہ پاک جزائے خیر دے ان کو لمبی عمر عطا کرے اور ہر بیماری، پریشانی اور تکلیف سے محفوظ رکھے۔ آمین!