آپ آف لائن ہیں
جمعرات4؍ ربیع الاوّل 1442ھ 22اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سرجن جنرل آف پاکستان آرمی لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر نے اتوار کے روز ورلڈ ہارٹ ڈے کے حوالے سے منعقدہ قومی سیمینار سے اپنے خطاب میں انکشاف کیا ہے کہ وطن عزیز میں اوسطاً ہر ڈیڑھ منٹ بعد دل کی بیماری کے ہاتھوں ایک انسانی جان چلی جاتی ہے، یہ انتہائی تشویشناک صورت حال قوم کے ہر فرد کے لئے لمحۂ فکریہ ہے۔ اس گھمبیر مسئلے کو مزید نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے۔ ڈاکٹروں کی ایک تحقیق کے مطابق امراضِ قلب کا رجحان پہلے عموماً پچاس سال کی عمر کے بعد ہوا کرتا تھا لیکن اب تیس سال کے نوجوانوں تک عام ہو چکا ہے جس کی بنیادی وجہ سہل پسندی، ورزش سے دوری اور مرغن غذائوں کا بےمحابا استعمال ہے۔ ایک توجہ طلب پہلو یہ ہے کہ تمباکو نوشی کی مضرت جانتے ہوئے بھی لوگ سگریٹ سے نہ صرف اپنی بلکہ ارد گرد موجود افراد کی زندگی بھی خطرے میں ڈالتے ہیں۔ ماہرین بجا طور پر ذہنی دبائو کو بھی امراض قلب کی ایک بڑی وجہ بتاتے ہیں۔ ورلڈ ہارٹ فیڈریشن کے مطابق پاکستان اس وقت امراضِ قلب کے حوالے سے دنیا کے انتہائی ہائی رسک ممالک میں سے ایک ہے جہاں کل امراض میں تیس سے چالیس فیصد کارڈیو ویسکیولر ہیں جبکہ عموماً ہائی بلڈ پریشر، ہائی ایل ڈی ایل کولیسٹرول خاموش قاتل کے طور پر اس وقت سامنے آتے ہیں جب انسان پر دل کا دورہ حملہ آور ہو چکا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر

فیملی ہسٹری کے حامل افراد کو باقاعدگی کے ساتھ تمام تر ضروری ٹیسٹ کروانے اور طرز زندگی میں اعتدال رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ شہریوں کے ساتھ ساتھ صحت کے قومی اداروں کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے امراض قلب کے عالمی دن کو موثر بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ اس سے پہلے کہ کھیل کے ویران پڑے میدان اسپتالوں میں تبدیل ہو جائیں انہیں پھر سے کھیل کود کے لئے آباد کرنا وقت کی ناگزیر ضرورت ہے۔