آپ آف لائن ہیں
جمعہ5؍ربیع الاوّل 1442ھ 23؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

لندن: اسکول اور کیئر ہومزکورونا وائرس کے دوتہائی کیسز کے ذمہ دار قرار

لندن(پی اے) پبلک ہیلتھ انگلینڈ کی جانب سے سرکاری طورپر جاری کردہ اعدادوشمار میں اسکولوں اور کیئر ہومزکورونا وائرس کے دوتہائی کیس کا ذمہ دار قرار دیاگیاہے جبکہ یہ انکشاف کیاگیاہے کہ 10بجے پبس اور ریسٹورنٹس بند کرنے کے احکامات سے قبل رواں ہفتے پبس اور ریسٹورنٹس کے ذریعے کورونا پھیلنے کے صرف 3فیصد واقعات ریکارڈ کئے گئے۔اعدادوشمار کے مطابقگزشتہ ہفتے سخت لاک ڈائون کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ہوٹل انڈسٹری کے ذریعے کورونا وائرس سے صرف 22 افراد کے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 20 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران 772 مریض سامنے آئے تھے ،تصاویر سے ظاہرہوتاہے کہ اختتام ہفتہ پورے برطانیہ میں پبس کے سامنے لوگوں کا ہجوم لگاہواتھا سماجی فاصلے کے احکامات ہوا میں اڑادئے گئے تھے اور رات کو10بجے لوگوں کوزبردستی سے پب سے نکالاجارہاتھا اور پولیس ہجوم پر قابو پانے کی کوشش کررہی تھی۔ گریٹر مانچسٹر کے رات کے اوقات کے مشیر ساچا لارڈ کا کہناہے کہ رات کو 10بجے کے بعد پبس بند کرانا یا کرفیو کے

نفاذ کی تجویز بیمار ذہن کی پیداوار ہے اگر ہم سے مشورہ کیاجاتا تو ہم اس سے گریز کاکوئی راستہ نکالنے کی کوشش کرتے ،انھوں نے کہا کہ رات کو 10 بجے کے بعد کرفیو کے اعلان کی وجہ سے بسوں ،ٹرینوں اورگھروں کی پارٹیوں میں بھی ہجوم جمع ہوجاتاہے ،انھوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت اپنے اس فیصلے کو تبدیل کرنے پر غور کرے گی۔انھوں نے کہا کہ یہ پولیس کیلئے بھی ایک بڑا مسئلہ ہے ،جمعہ کی رات کو آکسفورڈ سرکس کی فوٹیج میں نظر آرہاتھا کہ پبس اور بارز کے اچانک بند کردئے جانے کے سبب سڑکوں پر لوگوں کا ہجوم تھا، لوگ سماجی فاصلے کے قانون کو نظر انداز کرتے ہوئے پیتے جارہے تھےاور چیخ رہے تھے ایک دوسری تصویر میں لوگ نئے قانون کے تحت جلد از جلد گھر پہنچنے کیلئے لفٹ میں بری طرح گھسے ہوئے تھےاور ٹیوب میں بھی ایک دوسرے کے کندھے ٹکرارہے تھے، میئر لندن صادق خان نے کہا کہ کورونا کے کیسز میں اضافے کے بعد اب شہر نازک موڑ پر ہے، انھوں نے کہا کہ اپریل سے جون کے دوران برطانیہ کورونا سے بری طرح متاثر تھا اور اس کی وجہ سے اس کی معیشت پر بھی زبردست ضرب لگی۔ برطانیہ کی معیشت زبردست تنزلی کا شکار اور لاک ڈائون نے ملک کو کساد بازاری کی جانب دھکیل دیا۔

یورپ سے سے مزید