آپ آف لائن ہیں
پیر14؍ ربیع الثانی1442ھ 30؍ نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آئل آف وائٹ پر گم ہونے والی شادی کی انگوٹھی مالک کو مل گئی

لندن ( پی اے ) آئل آف وائٹ پر گم ہونے والی شادی کی انگوٹھی اونر کو واپس مل گئی۔ ایک شخص کی شادی کی انگوٹھی سمندر میں کھو گئی تھی جو اسے اس وقت دوبارہ مل گئی جب ماں اور بیٹی نے ڈیٹیکٹیو بن کر اس کا پتہ لگایا ۔ 6 اگست کو آئل آف وائٹ کے وینٹنور بیچ پر میٹ ایسٹیلی کی شادی کا گوولں ویڈنگ بینڈ کھو گیا تھا تاہم ایک دن بعد 11 سالہ پریا ساہو کہ یہ ریت سے مل گیا ۔پریا اور اس کی والدہ ااستویتا نے اسے واپس کرنے کیلئے سائوتھمپٹن کے ایک پارک میں مسٹر میٹ ایسٹیلی سے ملاقات کی۔ ایسٹیلی نے اس انگوٹھی کا موازنہ سنڈریلا میں گلاس سلیپر سے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ میری انگلی سے سے پھسل گئی اس کا احساس مجھے بعد میں ہوا کہ سمندر میں کوئی چیز گرو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے روانگی سے قبل وہاں ایک کیفے کے مالک سے کہا تھا کہ وہ اس پر نظر رکھے کیونکہ اسے توقعات سے زیادہ اس کے ملنے کی امید تھی ۔ اگلے ہی دن پریا کو ریت سے یہ انگوٹھی مل گئی ۔ جس نے اس کو دھویا اور پھر ماں اور بیٹی نے اس انگوٹھی کے اونر کو تلاش کرنے کی کوشش کی ۔ سائوتھمپٹن سے تعلق رکھنے والی مس ساہو نے کہا کہ ہمارا خیال تھا کہ اپنی شادی کی انگوٹھی کھونا کسی کیلئے بھی تباہ کن اور افسوسناک ہو سکتا ہے ۔ پریا نے کہا کہ اگر ہم واقعی میں اس کے اونر کو تلاش کرنے میں کامیاب ہو

گئے تو یہ ایک معجزہ ہو گا ۔ دوستوں اور دوستوں کے دوستوں سے پتہ کرنے کے بعد کیفے کے مالک سے رابطہ کیا گیا جس نے ان کا مسٹر ایسٹیلی سے رابطہ کروایا جس نے 15 سال قبل لیزا کے ساتھ شادی کی تھی۔ پریا اور ساہو نے اتوار کے روز واٹس پارک میں مسٹر ایسٹیلی کو تلاش کیا اور انہیں ان کی شادی کی انگوٹھی واپس کی ۔ کینٹ کے پیڈاک ووڈ سے تعلق رکھنے والے مسٹر ایسٹیلی نے کہا کہ انگوٹھی کھونا ان کیلئے تباہ کن تھا اور یہ ناقابل تلافی نقصان ہے -میں اس کے بارے میں صرف یہی الفاظ سوچ سکتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ انگوٹھی کا دوبارہ مل جانا حیرت انگیز اور خوش کن ہے۔ اور اس ساری صورت حال کا انجام واقعی خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ انگوٹھی کی واپس ملنا 2020 کی بڑی بات ہے اور اس سے میرے چہرے پر مسکراہٹ واپس آگئی ہے۔

یورپ سے سے مزید