آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ربیع الثانی 1442ھ 4؍دسمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

امریکا کی پابندیوں سے چین کے بڑے چپ ساز متاثر

بیجنگ: یوآن یانگ

تائی پے: کیتھرین ہیلے

امریکی حکومت نے چین کی سب سے بڑٰ چپ بنانے والی کمپنی پر پابندی عائد کردی ہے جس سے ہوواے کو اس کے چپ سپلائرز سے الگ کرنے کے بعد چین کی سیمی کنڈکٹر صنعت کو مزید نقصان پہنچا ہے۔

فنانشل ٹائمز کو حاصل شدہ خط کی ایک نقل کے مطابق امریکی محکمہ تجارت نے کمپنیوں کو بتایا کہ سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ انٹرنیشنل کارپوریشن(ایس ایم آئی سی) کو برآمدات کا رخ فوجی استعمال کیجانب موڑنے کا ناقابل قبول خطرہ لاحق ہے۔

اس اقدام سے چین کی سب سے بڑی چپ ساز کمپنی کو امریکا کے اہم سافٹ وئیر اور چپ سازی کے سازوسامان سے الگ کرنے کا خطرہ ہے۔ کمپنیوں کو اب ایس ایم آئی سی کو ایسی مصنوعات برآمد کرنے کے لئے لائسنس کی ضرورت ہوتی ہیں۔

کنسلٹنسی یوریشیا گروپ میں ٹیک پالیسی تجزیہ کے سربراہ پال ٹریولو نے کہا کہ اس کا انحصار اس پر ہے کہ امریکا اس کو کس طرح نافذ کرتا ہے۔انتہائی خراب منظر نامے میں ایس ایم آئی سی مکمل طور پر الگ ہوچکا ہے، جس سے چین کی چپ ساز کمپنیوں کی چپ بنانے کی اہلیت میں ترقی میں شدید رکاوٹ بن جائے گا۔یہ امریکا اور چین کے تعلقات پر کاری ضرب ہوگی۔

امریکا میںسوشل میڈیا ایپس ٹک ٹاک اور وی چیٹ کو بند کرنے اور چین کی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ایک وسیع رینج پر جرمانے عائد کرنے کے بعد ایس ایم آئی سی پر تازہ پابندیاں سامنے آئی ہیں۔

حکومت کی جانب سے چپ سازی میں خودکفالت کے لئے اہم ایس ایم آئی سی قومی چیمپیئن ہے جس نے رواں برس کے آغاز میں شنگھائی میں 7.6 ارب ڈالر کمائے تو یہ ایک عشرے میں امریکا کی سب سے بڑی ابتدائی عوامی پیشکش بن گیا۔

ہوواے پر امریکی پابندیاں سخت کرنے سے ایس ایم آئی سی سے پہلے ہی متاثر ہوچکی ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ایس ایم آئی سی اب اپنے سب سے بڑے صارف کو خدمات فراہم نہیں کرسکتا، جو اس کی آمدنی کی پیداوار کا پانچواں حصہ ہے۔چپ ساز کمپنی نے اپنے اائی پی او پراسپیکٹس میں امریکی پابندیوں کے بڑھتے ہوئے خطرے سے متعلق خبردار کیا تھا۔

پابندیوں کا اثر امریکا کی چپ ڈیزائنر کمپنی کوالکوم پر بھی پڑے گا جو ایس ایم آئی سی کو اپنی چند چپس تیار کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے۔تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ہوواے کے بعد کوالکوم ایس ایم آئی سی کا دوسرا سب سے بڑا صارف ہے۔

ایس ایم آئی سی نے کہا ہے کہ امریکی محکمہ تجارت کے ساتھ اس کی بات چیت جاری ہے۔ کمپنی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اس کا چین کی فوج کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ اور وہ کسی فوجی صارف یا خاص استعمال کیلئے مینوفیکچر نہیں کرتا۔

ایس ایم آئی سی نے مزید کہا کہ اسے پابندیوں کی کوئی باضابطہ اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

ایس ایم آئی سی کے ایک انجینئر جو اپنی چپ پروڈکشن لائن پر کام کرتے ہیں نے کہا کہ امریکی اقدام قابل قیاس تھا،تاہم یقینی طور پر ہماری صورتحال کو خراب کردے گا ”اور ساتھ ہی دیگر ملکی صنعت کے لئے خوفزدہ کردینے والا عمل ہے۔

امریکی پابندیوں کے اثر کو کم کرنے کے لئے کمپنی اپنی اصل مصنوعہ 40 نینو میٹر چپس کے لئے ایک خود کفیل پروڈکشن لائن تیار کررہی ہے۔تاہم انجینئر نے کہا کہ صنعت کے اندر موجود افراد تجزیہ کاروں کے مقابلے میں خود کفیل ہونے کے امکان کے بارے میں بہت زیادہ مایوسی کا شکار ہیں ، انہوں نے مزید کہا کہ ہم بہت بے بس محسوس کررہے ہیں۔

چین کی وزارت خارجہ اس سے قبل چینی کمپنیوں پر امریکی پابندیوں کے خلاف اپنی مخالفت کا اعلان کرچکی ہے۔ گزشتہ ہفتے چین کی وزارت تجارت نے ناقابل اعتماد سمجھی جانے والی غیر ملکی کمپنیوں جیسا کہ کمپنیاں جو چینی کمپنیوں کا بائیکاٹ یا انہیں سپلائی بند کردیتی ہیں، کے آپریشنز کو روکنے کے لئے وسیع اختیارات کا اعلان کیا۔

وکلاء کو تشویش ہے کہ چین کی "ناقابل اعتماد اداروں کی فہرست" کا استعمال غیر ملکی کمپنیوں کو سزا دینے کے لئے کیا جاسکتا ہے جو چینی کمپنیوں کے خلاف امریکی پابندیوں کا اطلاق کرتی ہیں اور ایسی کمپنیوں کو امریکا اور چینی قانون کے مابین پابند رکھیں گے۔

امریکی سرکاری ذرائع کے مطابق ، ایس ایم آئی سی کو بلیک لسٹ کرنے کی تجویز پینٹاگون نے دی تھی،کیونکہ اس کو تشویش لاحق تھی کہ کمپنی چین کی فوج کی تکنیکی ترقی کے قابل بنا رہی ہے۔

امریکی دباؤ نے ایس ایم آئی سی کو جدید چپس بنانے کے لئے درکار سامان خریدنے سے روک دیا ہے ،ہوواے کو جس قسم کی چپ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اب وہ اپنے اسمارٹ فون کے لئے نہیں خرید سکتا ہے۔

جدید ترین مشینیں بنانے والی واحد ہالینڈ کی کمپنی اے ایس ایم ایل جسے اعلیٰ درجے کی منطقی چپس بنانے کی ضرورت تھی،گزشتہ سال سے ایس ایم آئی سی کو برآمد کرنے کا لائسنس حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

نئے قواعد جن کا مقصد امریکی ٹیکنالوجیزکی برآمدات کو روکنا ہے،جو ان ممالک میں فوجی نظام کی ترقی میں مدد کرسکتی ہیں،جن کے بارے میںاپریل میں محکمہ تجارت نے اعلان کیا تھا کہ امریکا انہیں حریف سمجھتا ہے۔ انہوں نے موجودہ برآمدی قواعد و ضوابط میں فوجی صارف کیلئے پابندیوں کو بڑی حد تک وسیع کیا ، اور خصوصی طور پر چین کی سویلین کمپنیوں کے ساتھ اس کی "ملٹری - سویلین فیوژن" حکمت عملی کے ذریعے ہتھیاروں کی ترقی میں مدد کرنے کی کوششوں کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی۔

نئے قواعد نے فوجی صارف کی لائسنسنگ سے مشروط مصونعات کے دائرہ کار میں تیزی سے توسیع کی، اور فوجی استعمال کی تعریف کو وسیع کرتے ہوئے ایسی اشیاء کو شامل کیا جاسکتا ہے جو حتمی مصنوع کے اجزاء نہیں ہوسکتیں، ایسے آئٹمز جو ترقی یا پیداوار کی مدد کے لئے استعمال ہوتی ہیں۔

امریکی محکمہ تجارت نے کہا کہ عمومی طور پر ، محکمہ تجارت میں بیورو آف انڈسٹری اینڈ سیکیورٹی امریکی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مفادات کو درپیش کسی بھی ممکنہ خطرات کی مستقل نگرانی اور جائزہ لے رہی ہے۔

فنانشل ٹائمز سے مزید