• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیر اعظم عمران خان نے جمعہ کو انصاف لائرز فورم سے خطاب کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے سارے آرمی چیفس کےساتھ مسائل اور آئی ایس آئی کے ساتھ تعلقات میں کھچاؤ کیوں رہا انہوں نے یہ تقریر 12 اکتوبر سے چند دن پہلے کییہ دن ہمیں اکیس سال پہلے کے فوجی ٹیک اوور کی یاد دلاتا ہے۔

جس کا دوسروں کے علاوہ عمران خاں نے بھی دفاع کیا تھا. عمران خاں نے اپنی تقریر میں اس مبینہ واقعے کا بھی ذکر کیا کہ آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل( ر) ظہیر الاسلام نے وزیر اعظم نواز شریف سے استعفیٰ دینے کیلئے کہا تھا. عمران خان نے کہا آپ (نواز شریف) کیوں خاموشی سے ان کی بات سنتے رہے، اس لئے کہ آپ کو پتہ تھا کہ آپ کتنی رقم چرا چکےہیں۔

لیکن 12 اکتوبر کو جب نواز شریف نے وزیراعظم کی حیثیت سے آرمی چیف جنرل مشرف کو برطرف کرکے سابق آیی ایس آئی چیف جنرل ضیاءالدین بٹ کو نیا آرمی چیف مقرر کیا تو تب ان سے استعفیٰ نہیں مانگا گیا، بلکہ فیصلہ نہ ماننے والے جرنیلوں نے انہیں ہٹا دیا. چند گھنٹے کے اندر منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا. سوال یہ ہے کہ خواہ وزیراعظم کا فیصلہ متنازعہ تھا، انہیں ہٹانے کی کارروائی کا کوئی جواز تھا؟ کیا نواز شریف کو آئینی اور قانونی اختیار حاصل تھا یا نہیں۔

ٹیک اوور کا دفاع کرنے والوں کا کہنا تھا کہ نواز شریف، مشرف کو ہٹانے کا فیصلہ کر بھی چکے تھے تو انہیں ان کی کولمبو سے واپسی کا انتظار کرنا چاہیے تھا. عمران اس وقت سیاست میں نووارد تھے، وہ 1995 میں ہی اس میدان میں آئے تھے.انہوں نے ٹیک اوور کا خیر مقدم کیا اور 2002 تک جنرل مشرف کی حمایت کی. اس کے بعد الیکشن اور حکومت کی تشکیل پر اختلافات پیدا ہوگئے۔

کئی سال بعد عمران نے مشرف کی حمایت کے فیصلے پر افسوس ظاہر کیا اور ان کے بڑے ناقد بن گئے. وزیراعظم عمران خان کی یہ بات درست ہے کہ نواز شریف کے طاقتور اسٹیبلشمنٹ اور سابق آرمی چیفس جنرل اسلم بیگ، جنرل جہانگیر کرامت اور جنرل مشرف سے تعلقات اچھے نہیں رہے. لیکن کیا ہمیشہ سابق وزیراعظم ہی اس کے ذمہ دار ہوتے تھے یا دوسری طرف بھی کچھ ذمہ دار تھی؟ مثلاً جنرل جہانگیر کرامت کے معاملے میں نواز شریف غلطی پر تھے۔

اگر جنرل نے نیشنل سیکورٹی کونسل یا کمیٹی کی تجویز دی تھی تو یہ معاملہ طے ہوسکتا تھا. یہ بھی درست ہے کہ 1997 کے الیکشن کے بعد نواز شریف نے بھی سویلین ڈکٹیٹر بننے کی کوشش کی ۔

انہوں نے صدر فاروق لغاری، سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ اور پھر جنرل کرامت کے ساتھ جو کچھ کیا، وہ نامناسب تھا. یہ بھی حقیقت ہے کہ جنرل جہانگیر کرامت خود ایسی کوئی تجویز نہیں دینا چاہتے تھے. جنرل علی قلی خاں سمیت بعض ساتھیوں نے ان سے اصرار کیا کہ یہ پیغام سیاسی قیادت تک پہنچنا چاہئیے. ایک باخبر ذریعے نے مجھے بتایا کہ یہ سب تونیشنل سیکورٹی اور تزویراتی پس منظر میں تھا. نواز شریف انہیں برطرف کرنا. چاہتے تھے لیکن انہوں نے خود ہی استعفیٰ دےدیا اور ان کی جگہ پرویز مشرف کو آرمی چیف بنایا گیا. جن کا نام شہباز شریف اور چودھری نثار نے تجویز کیا۔

ان سب واقعات اور معاملات کا دیانتداری سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ کیلئے ایک بہتر لائحہ عمل نکالا جاسکے اور ایک نئے پولیٹیکل آرڈر کیلئے بامعنی ڈائلاگ ہوسکے. خود سیاسی قیادت اور پارٹیوں کے اندر بہت سارے مسائل ہیں. مثلاً اعتبار اور جمہوری کلچر کا نہ ہونا. حقیقت یہ ہے کہ نواز شریف جیسے لیڈر خود ڈکٹیٹروں کی پیداوار ہیں. لیکن سوال یہ ہے کہ فوجی ڈکٹیٹروں نے ایسے ʼسیاست دانʼ کیوں چنے؟ جو نہ صرف ان کا کام ہی نہیں تھا بلکہ ان کے حلف کی خلاف ورزی تھا۔

مثال کے طور پر جنرل ضیاءالحق کو پیپلز پارٹی وغیرہ کے مقابلے کیلئے کسی کی کیوں ضرورت تھی. ان کا کام تو یہ تھا کہ 90 دن میں الیکشن کرواتے اور فوجوں کو کہتے کہ بیرکس میں واپس جائیں. اسی طرح مشرف کیوں نو سال رہ گئے. ان کا مسئلہ نواز شریف سے تھا، ان کے کمانڈروں نے انہیں ہٹاکر منتخب پارلیمنٹ بھی ختم کردی۔

انہیں بھی 90 دن یا چھ ماہ میں الیکشن کراکے اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کے حوالے کردینا چاہیے تھا. مسلم لیگ (ق) پیپلزپارٹی (پیٹریاٹ) جیسی پارٹیاں بنانا ان کا کام نہیں تھا. مشرف کے ایک ساتھی لیفٹنٹ جنرل(ر) امجد شعیب نے خود مجھے بتایا کہ انہوں نے تجویز دیا تھا کہ چھ ماہ میں الیکشن کرادئیے جائیں لیکن سینئیر کولیگز نہیں مانے، وہ کچھ اصلاحات لانا چاہتے تھے۔

اپنے غیرآئینی اقدامات کی قانونی توثیق حاصل کرنے کیلئے ڈکٹیٹر پی سی او ججز بھی لاتے رہے اور اس طرح اعلیٰ عدلیہ کو بھی نقصان پہنچایا. ضیا اور مشرف دونوں نے اپنی مقبولیت کا اندازہ کرنے کیلئے 1981 اور2001 میں ریفرنڈم کرائے. عوام نے انہیں مسترد کردیا لیکن انہوں نے خود کو 90 فیصد اکثریت کے ساتھ فاتح قرار دیا۔

نواز شریف جنرل ضیاءالحق اور جنرل جیلانی کی پیداوار تھے.. بعد میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل نے ان کی تربیت کی. کیا ان تینوں کے پاس اس کا کوئی جواز تھا؟ جنرل ضیا کی طیارے کے حادثے میں موت کے بعد جنرل مرزا اسلم بیگ نئے آرمی چیف کا عہدہ سنبھالا. مارشل لا لگانے کی بجائے غلام اسحاق خان نے صدر کا عہدہ سنبھالا اور انتخابات کا اعلان کیا گیا۔

اسلم بیگ کے فیصلے کو تمام سیاسی جماعتوں نے سراہا. حتیٰ کہ بینظیر بھٹو نے انہیں تمغہ جمہوریت دیا. لیکن الیکشن سے کچھ ہی پہلے جنرل حمید گل نے پیپلزپارٹی اور بینظیر بھٹو کی مقبولیت کے توڑ کیلئے اسلامی جمہوری اتحاد IJI بنا دیا. سوال یہ ہے کہ جنرل اسلم بیگ نے جنرل حمید گل کیخلاف کارروائی کیوں نہیں کی. حمید گل ہمیشہ اپنے فیصلے کا دفاع کرتے رہے لیکن یہ ہماری سیاسی تاریخ میں اچھا نہیں رہا. اسٹیبلشمنٹ نے پہلے وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کیلئے IJI کو استعمال کیا اور پھر 1990 کے الیکشن میں. جنہیں کئی سال بعد اصغر خاں کیس میں سپریم کورٹ نے دھاندلی زدہ قرار دیا۔

عدالت عظمیٰ ابھی تک سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی کے بیان حلفی کے مطابق رقم بانٹنے والوں اور رقم حاصل کرنے والوں کے خلاف ایف آئی اے کی کارروائی کی منتظر ہے. 1991 میں جنرل اسلم بیگ نے کویت پر عراق کے حملے کے بارے میں سویلین حکومت کے موقف کے برعکس ایک بیان جاری کیا تو نواز شریف کے ان سے اختلافات پیدا ہوگئے۔

نواز شریف وزیراعظم تھے تو کیا وہ غلط تھے؟ جنرل اسلم بیگ کی جگہ جنرل آصف نواز آرمی چیف بنے جو فوج میں ایک سخت گیر جنرل سمجھے جاتے تھے۔

اہم خبریں سے مزید