آپ آف لائن ہیں
پیر7؍ ربیع الثانی1442ھ 23؍ نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

توجہ مرکوز نہ کر پانے کا مرض (ADHD)

کچھ والدین اکثر پریشان نظر آتے ہیں کہ ان کا بچہ گھر ہو یا اسکول، کسی بات پر بھی توجہ مرکوز نہیں کرپاتا۔ دراصل اس کی ایک وجہ توجہ مرکوز نہ کرپانے کا مرض (Attention-Deficit/Hyperactivity Disorder) ہوسکتا ہے۔ اے ڈی ایچ ڈی ایک عام ذہنی خرابی ہے جو بچپن میں شروع ہوتی ہے اور نوجوانی تک جاری رہ سکتی ہے۔ اپنی عمر کے دیگر بچوں کی نسبت اس مرض میں مبتلا بچے بہت زیادہ متحرک اور دھیان نہ دینے والے ہوتے ہیں، ان میں ایک اضطراری کیفیت پائی جاتی ہے۔ 

اسی وجہ سے ایسے بچوں کو بالخصوص اسکول میں کافی مشکلات پیش آتی ہیں جبکہ گھر اور معاشرے میں بھی انھیں کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسکول جانے والی عمر کے 3 تا 5 فیصد بچوں میں یہ مرض ہوسکتا ہے۔ اے ڈی ایچ ڈی کا شکار بچہ خود بھی چاہتا ہے کہ وہ دوسرے طلبا کی طرح ایک اچھا طالب علم بن جائے مگر توجہ مرکوز نہ کرپانا اور طبیعت کا یکدم تبدیل ہوجانا اس کےلئے مسائل پیدا کرتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے اندازے کے مطابق دنیا میں کم سےکم ایک کروڑ افراد توجہ میں کمی کے مرض میں مبتلا ہیں۔ ADHD کے حامل بچے ہائپرایکٹیو ہوسکتے ہیں اور وہ اس کے اثرات کو کنٹرول نہیں کرسکتے یا انہیں توجہ مرکوز کرنے میں پریشانی ہوسکتی ہے۔ لڑکوں کے مقابلے میں یہ مرض لڑکیوں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔اے ڈی ایچ ڈی عموماً اسکول کے ابتدائی برسوں میں سامنے آتا ہے کیونکہ اس مرض کا شکار بچے کو اس عرصے میں تعلیم پر توجہ مرکوز کرنے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔

امریکا میں تقریباً ہر میڈیکل، نفسیاتی اور تعلیمی تنظیم نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ توجہ میں کمی یا ہائپرایکٹیوٹی ڈس آرڈر ایک حقیقی دماغی خرابی کی بیماری ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق اس مرض سے نجات پانے کے لیے ادویات سے زیادہ نفسیاتی طریقہ علاج زیادہ مؤثر ثابت ہو تا ہے۔

اس مرض سے متاثرہ بالغ افراد کو منظم ہونے، وقت پر کام کرنے، اہداف کا تعین کرنے اور ملازمت کے حصول میںپریشانی کا سامنا ہوسکتاہے۔ اگر آپ کام پر ہمیشہ دیر سے پہنچتے ہیں یا کسی بھی خرابی کی صورت میں خود کو بھلا برا کہتے رہتے ہیں، ایک جگہ ٹک کر ملازمت نہیں کرتے یا کوئی بھی کام مقررہ وقت میں نمٹانے میں دقت پیش آتی ہے تو ہوسکتاہے کہ آپ بھی ADHDکے مرض میں مبتلا ہوں۔

وجوہات

اے ڈی ایچ ڈی ہونے کی وجہ موروثی، ماحولیاتی یا جینیاتی عوامل میں سے کوئی ایک یا سب کا مجموعہ ہو سکتی ہے۔ تقریباً 25 فیصد والدین میں بھی اس مرض کی علامات ہوتی ہیں۔ تاہم کچھ خطرنا ک عوامل جیسے مادرشکم میں زہریلے اثرات پھیلنے یا وقت سے پہلے بچہ کی پیدائش یا زچگی کے دوران استعمال ہونے والی ادویات کے مضر اثرات بھی اس کا سبب بن سکتے ہیں۔

علامات

توجہ میں کمی یا ہائپرایکٹیوٹی ڈس آرڈر کا شکار بچوں میں عموماً جو علامات موجود ہوتی ہیں وہ کچھ یوں ہیں، توجہ برقرار رکھنے میں دشواری؛ بہت زیادہ متحرک ہونا؛ تفصیل اور مکمل بات سمجھنے میں دشواری اور ایسی غلطی کرنا جو بے احتیا طی کا نتیجہ ہو سکتی ہے؛ آسانی سے بے توجہی کا شکار ہوجانا؛ اکثر گھر کا کام بھول جانا؛ اسکول اور گھر کاکام کرنے میں مشکلات؛ بڑوں کا کہنا اور بیک وقت کئی باتوں کو ماننے میں دشواری؛ لاپروائی برتنا، بے صبری کا مظاہرہ کرنا، بے چین رہنا، ایک ہی بات بار بار کرنا؛ بہت زیادہ بھاگنا اور دیواروں پر چڑھنا؛ ہمیشہ کچھ نہ کچھ کرتا ہوا نظر آنا؛ بغیر سوچے سمجھے بولنا؛ بہت زیادہ بات کرنا اور خا موش بیٹھنے میں مشکل پیش آنا؛ دوسروں کی بات کاٹنا اور انھیں پریشان کرنا۔

یہ علامات عموماً سات سال کی عمر سے پہلے سامنے آجاتی ہیں، جو کہ لڑکیوں اور لڑکوں میں مختلف ہو سکتی ہیں۔ مرض کی شدت یا کمی بیشی بلوغت میں بھی جاری رہ سکتی ہے ، لیکن اگر اس کے سدباب کیلئے بچپن سے ہی توجہ دی جائے تو بچے ایک اچھی زندگی گزارنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔

علاج و سدباب

اے ڈی ایچ ڈی میں مبتلا بچوں کو انفرادی علاج کے پروگراموں کی ضرورت ہوتی ہے، جو اس مرض کی علامات کو کم کرنے اور کام کو بہتر بنانے پر مرکوز ہوں۔ اس میں انھیں ادویات، سائیکوتھراپی، طرز عمل اور رویوں کو بدلنے کا طریقہ اور زندگی کے دوسرے معاملات سے نمٹنے کی مشقیں اور ہدایات دی جاتی ہیں۔ ماہر نفسیات (نیورولوجسٹ)، بچے کی نفسیات اور روّیوں کے تجزیے کے مطابق مرض کی تشخیص کرسکتےہیں۔ علاج کے ضمن میں نفسیاتی طریقہ علاج کے ساتھ ساتھ کگنیٹیوبیہیوریل تھراپی(CBT)اور مشاورت کو اپنا یا جاسکتاہے۔ اس کے علاوہ ذہنی بالیدگی یا تندرستی کی ادویات بھی تجویز کی جاسکتی ہیں۔

علاج کے طور پر دماغ میں تحریک پیدا کرنے والی ادویات مفید ہو سکتی ہیں۔ یہ ادویات بچوں کو توجہ مرکوز کرنے، سیکھنے اور پر سکون رہنے میں مدد کرتی ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق دوائیں سب کچھ نہیں کرتیں، وہ بس علامات کو کم کرسکتی ہیں۔ تاہم لوگوں کو اپنی عادات پر قابو پانے کا طریقہ سکھانے کے لیے مختصر مدت کی سائیکو تھراپی یا نفسیاتی علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ 

طرز عمل یا رویے کے علاج سے بچوں کو اپنے رویہ کو قابو کرنا آتا ہے اور وہ اسکول اور گھر میں بہتر انداز اپنا سکتے ہیں۔ اے ڈی ایچ ڈی میں مبتلا بچوں کو سماجی مہارت کی تربیت، مسائل کو حل کرنے کی مہارت اور مشق کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ تدریس کی حکمت عملی میں تبدیلی اور ہوم ورک کرانے کے طرزعمل میں تبدیلی بھی اس مرض میں مبتلا بچوں کو اسکول میں موثر طریقے سے سیکھنے میں مدد کر سکتی ہے۔