• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’ سعودی معیشت کورونا بحران سے نمٹنے اور اس کے اثرات سے نکلنے میں کامیاب رہی ہے‘‘۔ ان خیالات کا اظہار سعودی وزیر صنعت و معدنیات بندر الخریف نےانٹرنیشنل اکنامک فورم کے وڈیو اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔انہوں نے مزید کہا کورونا بحران ہمارا حقیقی امتحان تھا ۔سرکاری اداروں نے اس سے بہت کچھ سیکھا ہے، وزارت صنعت و معدنیات نے بحران کے دوران اپنی اسکیموں کا نیا ڈھانچہ ترتیب دیا ہے۔ کوشش کی گئی کہ قومی معیشت اور شہریوں کی خوشحالی کے لیے بحران کے زمانے میںبہتر اقدامات کیےجائیں۔ غیرمعمولی تبدیلیوں سے خود کو ہم آہنگ کرنا بڑا چیلنج تھا۔ 

سعودی معیشت اس چیلنج پر پوری اتری ہے۔ سعودی عرب کے سرکاری اداروں نے کورونا سے ہونے والے نقصانات سے نمٹنے کے سلسلے میں بہترین کارکردگی اور استعداد کا مظاہرہ کیا لی آن لائن اجلاس میں سعودی عرب اور دنیا کے مختلف ملکوں کے سرکاری و نجی اداروں کے اعلی عہدیدار شریک ہوئے۔وزیر صنعت نے مزید کہا کہ بحران کے آغاز ہی سے سعودی حکومت نے مقامی شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کی صحت و سلامتی کو اولیں ترجیح کے طورپر لیا پھر معیشت کے تحفظ اور گزشتہ برسوں کے دوران حاصل کامیابیوں کو بچانے اور بڑھانے پر توجہ دی گئی۔

بندر الخریف کا کہنا تھا کہ سعودی حکومت کی بڑی کوشش یہ تھی کہ نجی اداروں کو کیش مسائل نہ پیش آئیں۔ صنعتی ادارے نے کھانے پینے کی اشیا اور ادویہ کی فراہمی میں اعلی کارکردگی دکھائی۔ سعودی وژن 2030 کے رجحانات کو نئے بحران نے تقویت پہنچائی۔ مواصلات کے شعبے میں بنیادی ڈھانچے نے بڑا فائدہ پہنچایا۔ اس کی بدولت تعلیم، صحت، روزگار، سرکاری اور معاشی ادارے موثر شکل میں کام کرتے رہے۔ 

دوسری جانب عالمی مالیاتی ادارے کے مطابق رواں سال کے دوران مشرق وسطیٰ میں تیل برآمد کرنے والے ممالک کی معیشت 6.6 فیصد سکڑنے کا امکان ہے۔انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی شائع ہونے والی اک رپورٹ میں تخمینہ لگایا گیا ہے کورونا کی وبا کے باعث اس سال دنیا بھر کی معیشتیں 4.4 فیصد سکڑیں گی۔آئی ایم ایف کے مطابق 1930 کی دہائی کے معاشی بحران کے بعد اس سال دنیا کو بدترین مندی کا سامنا ہوگا، مشرق وسطیٰ کے ممالک میں سے لبنان کو سب سے زیادہ معاشی بحران کا سامنا رہے گا جس کی معیشت 25 فیصد سکڑے گی۔مشرق وسطیٰ کے خطے میں ایران کو سب سے زیادہ کورونا وائرس کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے جہاں سب سے زیادہ اموات واقع ہوئی ہیں۔

گزشتہ سال ایران کی معیشت 6.5 فیصد سکڑی تھی جبکہ اس سال 5 فیصد سکڑنے کا امکان ہے۔مشرق وسطیٰ کے تیل برآمد کرنے والے ممالک کے بارے میں عالمی مالیاتی فنڈ نے اندازہ لگایا ہے کہ رواں سال 2020 میں ان کی معیشت 6.6 فیصد سکڑے گی۔جبکہ آئندہ سال کے دوران خلیجی عرب ریاستوں کی معاشی ترقی کی شرح 2.3 فیصد متوقع ہے۔عالمی مالیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں کی بنیاد پر معاشی ترقی کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق رواں سال میں تیل کی اوسطاً قیمت 41.69 ڈالر فی بیلر رہی ہے جبکہ آئندہ سال 46.70 ڈالر فی بیرل تک بڑھنے کا امکان ہے۔تیل پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک سعودی عرب کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس کی معیشت 5.4 فیصد سکڑے گی۔

تیل برآمد کرنے والے ملک متحد عرب امارات کی معیشت بھی چھ فیصد سے زیادہ سکڑنے کا امکان ہے۔جبکہ اومان کی معیشت 10 فیصد سکڑنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ورلڈ بینک کے اندازے کے مطابق کورونا کی عالمی وبا نے 8 کروڑ سے11کروڑ کے درمیان افراد کو انتہائی غربت کی طرف دھکیلا ہے۔