آپ آف لائن ہیں
ہفتہ12؍ربیع الثانی 1442ھ 28؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

دنیا پر قہر بن کر نازل ہونے اور لاکھوں افراد کو لقمۂ اجل بنانے والی وبا کورونا ایک مرتبہ پھر پاکستان میں سر اُٹھا رہی ہے۔ بدھ کے روز 24گھنٹوں کے دوران اِس وبا سے متاثرہ 19افراد کے جاں بحق ہونے سے ہلاکتوں کی تعداد 6692ہو گئی جبکہ 660نئے کیسز بھی سامنے آئے۔ وزیراعظم نے اِس صورتحال کا نوٹس لیا اور معاونِ خصوصی صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے اُنہیں بریفنگ دی۔ ڈاکٹر فیصل سلطان نے خبردار کیا کہ اگر سخت اقدامات نہ کئے گئے تو خدشہ ہے کہ اعدادوشمار کہیں وہاں تک نہ پہنچ جائیں کہ انڈسٹری سمیت دیگر معمولاتِ زندگی پر پھر سے پابندیاں عائد کرنے کی نوبت آ جائے۔ دوسری جانب وفاقی وزیر اسد عمر کی زیر صدارت نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے اجلاس میں مذکورہ حالات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا گیا کہ اگر ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد نہ ہوا تو لاک ڈائون بھی ہو سکتا ہے، خاص طور پر ریسٹورنٹس، شادی ہال اور عوامی اجتماعات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کورونا متاثرین اور جاں بحق ہونے والوں کے اعدادوشمار بلاشبہ تشویشناک ہیں، یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ دنیا ابھی تک اِس وبا سے متاثر ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کچھ عرصہ قبل اِس وبا کی دوسری لہر اور اِس لہر کی ہلاکت خیزی کے بارے میں بھی آگاہ کر چکا ہے، تشویش اِس لئے بھی زیادہ ہے کہ پاکستان میں یکدم

کورونا کیسز کی تعداد میں اضافہ کہیں کورونا کی دوسری لہر تو نہیں؟ خدا نہ کرے کہ ایسا ہو تاہم پھر بھی کورونا کیسز کی بڑھتی تعداد اِس امر کی متقاضی ہے کہ عوام اپنی اور اپنوں کی صحت و زندگی کی حفاظت کے لئے ہر ممکنہ اقدام کرتے ہوئے ایس او پیز پر عملدرآمد کو گویا انسانی و قومی فریضہ خیال کریں۔ اِس افواہ پر کان نہ دھریں کہ لاک ڈائون کے مقاصد کچھ اور ہیں، یاد رکھیں کہ کورونا سے نبردآزمائی حکومت کیلئے کسی بھی دوسرے چیلنج سے بڑھ کر ہے۔ حکومت اور عوام کو اپنے قومی فرائض ادا کرنے میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کرنا ہوگی۔

تازہ ترین