آپ آف لائن ہیں
جمعرات10؍ربیع الثانی 1442ھ26؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

الیکٹورل کالج کا اہم کردار، جو بائیڈن کو سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے


امریکا میں اگلے ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات میں الیکٹورل کالج کے اہم کردارکی وجہ سے ڈیموکریٹک امیداوار جو بائیڈن کو زبردست مقابلے کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

2016 میں ری پبلکن امیدوار صدر ٹرمپ نے ہیلری کلنٹن کے مقابلے میں 30 لاکھ سے کم ووٹ لینے کے باوجود کامیابی حاصل کی تھی، جس کی وجہ یہی   الیکٹورل کالج تھا۔ یہ الیکٹورل کالج کیسے کام کرتا ہے آئیے جانتے ہیں۔

امریکا میں صدر کا انتخاب براہِ راست عام ووٹر نہیں کرتے بلکہ یہ کام الیکٹورل کالج کا ہے، الیکٹورل کالج کے ارکان کو الیکٹر کہا جاتا ہے۔ یہ الیکٹر عوام کے ووٹوں سے جیتتے ہیں جو بعد میں ملک کے صدر اور نائب صدر کو منتخب کرتے ہیں۔


امریکا کی ہر ریاست میں الیکٹورل کالج کے ارکان کی تعداد اس کی آبادی کے تناسب سے طے ہوتی ہے، ہر ریاست کی کانگریس میں جتنی سیٹیں ہوتی ہیں اور اس کے جتنے سینیٹر سینیٹ میں ہوتے ہیں اتنی ہی اس کے الیکٹورل کالج میں الیکٹرز ہوتے ہیں۔ الیکٹرز کی کل تعداد 538 ہے۔

امریکہ میں ریاست کیلیفورنیا کے سب سے زیادہ 55 الیکٹرز ہیں جبکہ کم آبادی والی ریاستوں جیسے الاسکا یا شمالی ڈکوٹا میں ان کی یہ تعداد تین ہے۔

امریکہ کا صدر بننے کے لیے کسی بھی امیدوار کو 538 میں سے 270 یا اس سے زیادہ الیکٹرز کی حمایت درکار ہوتی ہے۔

2016 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ہلیری کلنٹن سے 30 لاکھ ووٹ کم حاصل کیے تھے لیکن وہ صدر بنے کیونکہ انھوں نے الیکٹورل کالج میں اکثریت حاصل کی تھی۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید