آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ربیع الثانی 1441ھ 10؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
پاکستان میں11مئی کے عام انتخابات اس ہفتے مکمل ہوجائیں گے جبکہ اس کے بعد پارلیمنٹ میں جانے والی پارٹیوں کی اعلانیہ سے زیادہ غیر اعلانیہ ہارس ٹریڈنگ کا سلسلہ شروع ہوگا تاکہ دو تین ہفتے کی آئینی مدت کے ا ندر ایک سے زیادہ پارٹیاں”اسلام آباد“ حکومت بنانے میں کامیاب ہوسکیں۔ اس وقت تو ایسے لگ رہا ہے کہ کوئی بھی پارٹی انفرادی طور پر حکومت بنانے کی پوزیشن میں نظر نہیں آرہی، البتہ ہر پارٹی اس حوالے سے بڑے بڑے دعوے کررہی ہے کہ اب اقتدار انہیں ملنے والا ہے جبکہ انہیں یہ معلوم ہی نہیں ہے کہ پاکستان جیسے ممالک میں اقتدار ملا نہیں کرتا دلایا جاتا ہے، جس کے بعد وہ حکومت ا قتدار دلانے والوں کے رحم و کرم پر ہوتی ہے۔
اس حوالے سے ہر طرف سے یہی آواز آرہی ہے کہ امریکہ ،برطانیہ اور ایک برادر ملک کی مشاورت سے پاکستان میں اقتدار منتقل ہوگا۔ ایسی صورت میں اگر مسلم لیگ (ن) یہ سمجھتی ہے کہ وہ موجودہ حالات میں عوام سے مقبول ترین اور ان دونوں طاقتوں کے قریب ترین ہے تو پھر انہیں اس کے بدلے میں پاکستان اور افغانستان کے معاملات کے حوالے سے کیا کچھ ماننا پڑیگا اور پھر بھارت کے ساتھ معاملات امریکہ اور برطانیہ کی مرضی سے طے ہوں گے۔ مجموعی طور پر امریکہ ، برطانیہ کو یہی خواہش ہے کہ افغانستان اور طالبان کا معاملہ ان کی مرضی سے حل کیا

جائے۔ اس لئے مسلم لیگ (ن) کی مخالف سیاسی جماعتوں نے سیاسی بیان بازی کے ذریعے یہ تاثر دینا شروع کردیا ہے کہ پاکستان میں انتخابات طالبان اور اینٹی طالبان گروپ کے درمیان ہورہے ہیں ،انہی حالات کے پس منظر میں مسلم لیگ (ن) توانائی کے بحران کے فوری حل کے لئے سعودی عرب سے دو یا تین سال کیلئے ادھار پر (Defferd payment)تیل لینے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ انہیں سعودی عرب سے یہ سپورٹ مل بھی جائے گی ۔
دوسری طرف تحریک انصاف سمجھ رہی ہے کہ اگلا الیکشن ان کا ہے۔ شاید فوری طور پر ایسا نہ ہو مگر یہ بات تو نظر آرہی ہے کہ دو تین سال کے بعد اگر مڈ ٹرم الیکشن کے حالات پیدا ہوجاتے ہیں تو پھر انہیں باقاعدہ طور پر اقتدار مل سکتا ہے۔ وہ ان کے لئے بہتر ہوگا لیکن ان سب باتوں سے ز یادہ اہم بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کس داؤ پر بیٹھی ہے؟ کیا الیکشن کے بعد وہ کوئی سرپرائز دے گی؟ اس حوالے سے عوام اور خاص کر بزنس کمیونٹی خاصی متفکر ہے۔ ان کے نزدیک اب تو کوئی نئی قیادت آنی چاہئے۔ اس لئے مسلم لیگ ن ادارے مانیں یا نہ مانیں ،بزنس کمیونٹی کا ایک بڑا حصہ اب عمران خان کی طرف دیکھ رہا ہے۔ اس طرح پڑھے لکھے گھرانوں میں خواتین اور بچے بھی یہی راستہ لے رہے ہیں۔
شاید انہی حقائق کے بعد مسلم لیگ(ن) کے سربرا ہ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف8 مئی کو الیکشن مہم کے آخری روز مقامی ہوٹل میں پاکستان بھر کے چیدہ چیدہ بزنس مینوں اور سرمایہ کاروں سے مل رہے ہیں۔ اس ملاقات کا اہتمام ان کے پرانے افتخار علی ملک کے توسط سے فیڈریشن آف پاکستان چیمبر ز آف کامرس ا ینڈ انڈسٹری کے صدر زبیر ملک اور دیگر سرکردہ عہدیدار کررہے ہیں۔ خیال ہے کہ اس ملاقات میں شریف برادران اپنے پرانے بزنس قلعہ کو دوبارہ مضبوط بنانے کے لئے لاتعداد وعدے کریں گے۔ اس وقت تو انتخابات اپنے آخری مرحلہ میں داخل ہوچکے ہیں لیکن ہمارے عوام کو یہ سوچ لینا چاہئے کہ کوئی بھی حکمران آئے انہیں اپنے مسائل اور خاص کر معاشی مسائل کے حوالے سے ز یادہ پرامید نہیں ہونا چاہئے۔ پہلے تو نئے حکمران کچھ عرصہ ماضی کی خرابیوں اور سابق حکومت کی کرپشن اور قومی اداروں کی تباہی کا نام لے کر گزار دیں گے اور پھر یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی الہٰ دین کا چراغ نہیں ہے خزانہ خالی ملا ہے ،ادارے تباہ حال ہیں، ملک میں نہ بجلی ہے گیس، مہنگائی اور غربت نے تو تباہ کردیا ہے ایسے حالات اور واقعات کو دہرا کر وہ قوم سے کچھ صبر کرنے کی درخواست کریں گے۔
دوسری طرف انتخابات میں اپنی توقعات سے کم کامیابی حاصل کرنے والی جماعتیں روایتی طور پر انتخابات میں بدامنی سے زیادہ دھاندلی وغیرہ کی باتیں کریں گی۔ اس دوران سیاسی جوڑ توڑ سے معاشی سرگرمیاں تیز ہونے کی بجائے منفی سطح پر جاسکتی ہیں البتہ بین الاقوامی اداروں کے اپنے مفادات کے تحت سٹاک مارکیٹ اور پراپرٹی سیکٹر میں تیزی دکھائی جائے گی۔ یہ وہ حقائق ہیں جن کو سننے کے لئے قوم کو تیار رہنا چاہئے۔ اب قوم کا بنیادی فرض بنتا ہے کہ وہ گیارہ مئی کو اپنے ووٹ کا استعمال سوچ سمجھ کرکریں اس کے لئے جذبات سے نہیں ہوش اور سمجھداری سے کام لینے سے صحیح افراد ان کے ووٹ سے پارلیمنٹ میں جاسکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں ملک میں رول ا ٓف لاء کو یقینی بنانے کے لئے نئی پارلیمنٹ کو ایسی اصلاحات کرنا ہونگی جس میں عوام کو جمہوری حکومت کے آنے سے کوئی تکلیف نہیں، ریلیف ملے۔ ہمارے ملک کے معاشی مسائل ذرا سی گورننس بہتر بنا کر حل کئے جاسکتے ہیں۔ صرف اس کے لئے مختلف شعبوں کے ماہرین کی خدمات حاصل کرکے ان پر انہیں اعتماد کرنا ہوگا۔