آپ آف لائن ہیں
منگل8ربیع الثانی 1442ھ 24؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ایک وقت تھا،جب والدین اپنے بچّوں کو بہلانے کے لیے اپنے بیگ سے اُس کا پسندیدہ کھلونا، جھنجھنا یا پھرکوئی تصویری کتاب وغیرہ نکال کر دیتے تھے، مگر اب ان کے پاس بچّوں کو مطمئن کرنے کا ایک ہی حل ہے، جو ’’موبائل فون‘‘ ہے۔اور یہ ایک ایسا حل ہے،جو بتدریج بچّوں کی نفسیات پر گہرے منفی اثرات مرتّب کرتا ہے۔ماہرینِ امراضِ اطفال والدین کو ہمیشہ یہی مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اسکرینز کو بچّوں کی آیا(Baby Sitter)کے طور پر استعمال کرنے سے باز رہیں،لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب اس کا متبادل کیاہو جائے، جو24گھنٹے کے لیے مہیا رہے؟ 

تو ایسی کئی مثبت سرگرمیاں ہیں، جو بچّوں کو مشغول رکھ کر ان کی جسمانی و ذہنی نشوونما میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔ لیکن چوں کہ موبائل فونزوالدین کے پاس ہمہ وقت موجودرہتے ہیں، اِس لیے یہ بچّوں کو خاموش اور مشغول رکھنےکا ایک آسان ذریعہ بن چُکے ہیں۔ تاہم، یاد رہے، موبائل فونز اُن الیکٹرانکگیجیٹس کی فہرست میں ایک نیا اضافہ ہیں، جو بچّوں کے’’ اسکرین ٹائم ‘‘میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ان میں ٹیلی ویژن، ایل سی ڈیز، کمپیوٹرز اور گیمنگ ڈیوائسز شامل ہیں۔اگر والدین اب بھی موبائل فونز کے مضر اثرات نہیں جان سکے، تو ہماری آنے والی نسلیں ذہنی صحت کے بڑھتے ہوئے مسائل سے دوچار ہوجائیں گی کہ تحقیق سے یہ ثابت ہوچُکا ہے کہ بچّوں کے اسکرین ٹائم میں اضافے سے ان میں نفسیاتی مسائل، بے توجہی اور غیر معمولی طورپر فعال ہونے یعنی ہائپر ایکٹیویٹی (Hyper Activity) جیسے منفی اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔

بچّوں میں موبائل فونز کے استعمال کا سب سے بڑا نقصان جو سامنے آرہا ہے ،وہ والدین کا اپنے بچّوں کے ساتھ معیاری وقت گزارنے میں کمی واقع ہونا ہے۔چوںکہ بچّے کئی کئی گھنٹے موبائل فون کی دُنیا میں گم رہتے ہیں،لہٰذا والدین کے ساتھ بات چیت میں کمی کے باعث ان میں مادری زبان درست انداز میں سیکھنے کی صلاحیت، جذباتی نظم و ضبط اور تعلیمی کارکردگی بھی متاثر ہوجاتی ہے۔ مزید برآں، الیکٹرانک گیجیٹس کے سبب ہم عُمر دوستوں کے ساتھ گزارے جانے والے وقت میں بھی خاصی کمی آگئی ہے،جو تخلیقی صلاحیتیں اُبھارنے، مسائل حل کرنے اور اپنےخیالات کے اظہار کا ایک بہترین ذریعہ تھا۔چوں کہ بچّوں میں یہ صلاحیتیں پروان نہیں چڑھتیں،لہٰذا روزمرّہ معمولات میں آنے والی مشکلات سے نکلنے اور ان پرقابو پانے کے لیے حکمتِ عملی تشکیل دینے کی صلاحیت بھی اُجاگر نہیں ہوپاتی۔ یوں بچّہ معاشرتی طور پرسب سے الگ تھلگ ہوجاتا ہے ۔

نیز،اس میں بنیادی معاشرتی اور سماجی قابلیت کا فقدان پیدا ہوجاتا ہے۔ اسکرین پر زیادہ وقت گزارنے سے بچّوں کی نیند بھی متاثر ہوسکتی ہے، نیند میں خلل پڑسکتا ہے۔کھیل کود اور دیگر سرگرمیوں میں حصّہ لینے کی بجائے زیادہ وقت اسکرین کے سامنے بیٹھے رہنا موٹاپے کا بھی باعث بنتاہے۔ پُرتشدد اور جارحانہ پروگرامز دیکھنے کے ردِّ عمل میں بچّوں میں بے حسی بڑھ جاتی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہر مسئلے کا حل تشدّد کے ذریعے ہی نکل سکتا ہے۔کم عُمربچّوں کے آن لائن ہونے کی وجہ سے یہ خطرہ بھی رہتا ہے کہ کہیں غیر اخلاقی مواد سے ایکسپوز نہ ہوجائیں۔ بعض اوقات آن لائن شکاری،کرمنلز بھی انہیں ڈھونڈ کراپنا شکار بنا لیتے ہیں، تو والدین کی ناکافی نگرانی بھی بچّوں کو غیر مناسب ویب سائٹس کی طرف لے جاسکتی ہے،جیسے پورنوگرافی وغیرہ۔

ہم سب یہ جانتے ہیںکہ موبائل فون سے ریڈیو فریکوئنسی اورتاب کاری کا اخراج ہوتا ہے، لیکن ہمیں یہ نہیںمعلوم کہ اس تاب کاری کے بچّے کے دماغ پر کیا اثرات مرتّب ہوسکتے ہیں، جو ابھی نشوونما کے مراحل طے کررہا ہوتاہے۔ تاہم، اس ضمن میں طبّی تحقیقات کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی جارہی ہے کہ آیا موبائل فونز کے ذریعے تاب کاری دماغ کے ٹیومر یا کینسر کی دوسری اقسام کا سبب بنتی ہے یا نہیں۔

بہرحال،دماغ کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کی نشوونما پر تاب کاری اثرات کےحوالے سےبھی خدشات پائے جاتے ہیں۔یاد رکھیے، انسانی دماغ میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کی نشوونما ذہانت، زبان، تاثر، استدلال اور یادداشت کی بہتری کے لیےبےحد ضروری ہے۔اگرچہ اس حوالے سے تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے، لیکن یقین کے ساتھ یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ اس سے بچّے کی ذہنی نشوونما خطرے کا شکار نہیں۔ 

ان تحقیقات اور مطالعات کو مکمل ہونے میں برس ہا برس لگیں گے اورہو سکتا ہے کہ اُس وقت تک پانی سَر سے گزر چُکا ہو۔اس ضمن میںامریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹریکس (American Academy Of Pediatrics) 18ماہ سے کم عُمر بچّوں کے لیے ویڈیو چیٹنگ کے مقصد کے علاوہ اسکرین کے استعمال کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔ اکیڈمی کا یہ بھی کہنا ہے کہ 18سے24 ماہ کی عُمر کے چھوٹے بچّوں کو خود سے سوشل میڈیا استعمال نہ کرنے دیں۔ اسکرین پر کسی بھی قسم کی ایکٹیویٹی مختصر اور والدین کی نگرانی میں ہونی چاہیے۔ دو سال سے زائد عُمر کے بچّوں کےلیے اسکرین کا وقت ایک دِن میں ایک گھنٹے سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ تمام بچّوں اور نو عمر افراد کو جسمانی و ذہنی صحت بحال رکھنے کے لیے جسمانی سرگرمیوں میں مشغول رہنے اور سوشل میڈیا سے دُور رہنے کے ساتھ آٹھ سے بارہ گھنٹے تک نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس کووڈ-19دَور میں، جب کلاسز آن لائن ہورہی ہیں اور ہم الیکٹرانک گیجیٹس پر زیادہ انحصار کررہے ہیں، تو اسکول جانے والے بچّوںکو ان سے دُور رکھنا ناممکن سی بات ہے، لہذا والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچّوں کی نگہداشت میں کچھ اور زیادہ محتاط ہوجائیں اور بچّوں کی ضروریات کے مطابق ہی اپنے روزمرّہ معوملات کا شیڈول ترتیب دیں۔

اکثر والدین ماہرِ امراضِ اطفال سے پوچھتے ہیں کہ ’’بچّے کو موبائل فون کس عُمر میں دیا جائے؟‘‘ تو یہ سوال آپ خود سے پوچھیں کہ کیا آپ کا بچّہ اتنا ذمّے دار ہے کہ موبائل فون اس کے حوالے کردیا جائے؟ مختلف مطالعات سے پتا چلتا ہے کہ آٹھویں، نویں جماعت کے طلبہ کو موبائل دینے کی عُمر مناسب ہے۔ہاں اگر ابتدائی کلاسز میں زیرِ تعلیم بچّوں کو موبائل فون دیا جائے، تو اس کا مقصد صرف طبّی یا ہنگامی وجوہ ہونا چاہیے۔

اس ضمن میں ماہرین نے والدین کے لیے جو عمومی ہدایات جاری کی ہیں، اُن کے مطابق سب سے پہلے تو والدین کو یہ جاننا چاہیے کہ اُن کا بچّہ کتنا وقت اسکرین کے سامنے گزارتا ہے۔پھر سونے سے ایک گھنٹہ قبل اسکرین کا وقت ختم کردیں۔نیز، کھانا کھانے اور گھر والوں کے ساتھ گپ شپ کے دوران موبائل فونز قطعاً بند ہونے چاہئیںاوریہ اصول والدین پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ جب بچّے آن لائن ہوں،تو والدین اسکرین ٹائم کنٹرول ایپ "Parental Control"کا استعمال کریں۔ بچّوں کے ساتھ خوش گوار ماحول میں بات چیت کو فروغ دیں ، تاکہ ان کی بات سمجھنے میں آسانی ہو۔ خود کو سوشل میڈیا کے نقصانات سے آگاہ رکھیں اوراپنے بچّوں کو موبائل فون خرید کر دینے سے قبل انہیں اس کے فوائدونقصانات کے بارے میں لازماً آگاہ کریں۔ (مضمون نگار، معروف ماِہر امراضِ اطفال ہیں اور آغا خان یونی ورسٹی اسپتال، کراچی سے وابستہ ہیں)