آپ آف لائن ہیں
منگل15ربیع الثانی 1442ھ یکم دسمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

لاپتہ بچوں کی تلاش کیلئے موبائل ایپ ’بچہ فائنڈر‘ متعارف


بچوں کے عالمی دن کے موقع پر روشنی ہیلپ لائن نے لاپتہ بچوں کی تلاش کے لیے موبائل ایپلیکشن ’بچہ فائنڈر‘ متعارف کروادی ہے۔

اس حوالے سے ایک تقریب منعقد کی گئی جس کے مہمان خصوصی ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضیٰ وہاب تھے۔

انہوں نے اس ایپلیکیشن کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ موبائل ایپلیکشن بچہ فائنڈر پر والدین لاپتہ بچوں کے حوالے سے شکایات درج کرسکیں گے اور بچہ فائنڈر موبائل ایپلیکیشن لاپتہ بچوں کی تلاش میں مددگار ثابت ہوگی۔

ایپلیکیشن بچہ فائنڈر جدید نظام پر مبنی ہے اس موبائل ایپلیکیشن کو گوگل پلے اسٹور سے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکے گا۔

موبائل ایپلیکیشن کی افتتاحی تقریب میں شہید زینب کے والد امین انصاری بھی شریک تھے۔

روشنی ہیلپ لائن کے محمد علی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں سب سے زیادہ گمشدگی کے کیسز لانڈھی, سرجانی, بلدیہ ٹاون میں رپورٹ ہوتے ہیں۔ پورے ملک کے مقابلے میں کراچی و سندھ میں حالات بہتر ہیں۔

ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ تھانوں کا کلچر بھی کافی بہتر ہوا ہے، اب بچوں کے لاپتہ ہونے کی رپورٹ فوری درج کی جاتی ہے۔ حاجی امین نے اپنی بیٹی زینب کو کھو کر ملک کی بیٹیاں محفوظ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ہم ان کے اس عزم و حوصلہ پر ان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ روشنی ہیلپ لائن نے لاپتہ بچوں کے حوالہ سے بہترین اقدامات کیے ہیں۔


انہوں نے کہا کہ چائلڈ پراٹیکشن اتھارٹی کے حوالہ سے آئین میں ترمیم کی گئی ہے۔ ترمیم میں زینب الرٹ بل کو خصوصاً ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے۔ گزشتہ دو ماہ میں 65 لاپتہ بچوں میں سے 55 بچوں کو بازیاب کروایا ہے۔ پولیس کی بہترین کاوش پر اسے لازمی سراہنا چاہیے۔ خوشی اس وقت ہوگی جب ایسا کوئی واقعہ ہی نہ ہو۔

ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ یہ وہ جدوجہد ہے جو ہمیں زینب کے نام پر کرنی چاہیے۔ معاشرے کا ہر فرد اپنی انفرادی کوشش کرے تا کہ یہ اس معاملے میں کمی آسکے۔ عیسیٰ نگری میں مروہ کے زیادتی کے بعد قتل کا دردناک واقعہ ہوا۔ اس کیس کو رپورٹ کرنے میں 11 گھنٹے کا وقفہ آیا تھا۔ اگر مروہ کے اہل خانہ وقت پر اطلاع دیتے تو بچی کو بچایا جاسکتا تھا۔ ملک میں جہاں بھی بچہ اغوا ہو فوراً والدین 15 پر اطلا ع دیں۔

اس موقع پر حاجی امین انصاری نے کہا کہ ایسے واقعات میں ملزم کو سزا کے لیے سی سی ٹی فوٹیج کو بھی گواہی کے طور پر مانا جائے ورنہ ملزم ضمانت پر رہا ہوجاتے ہیں۔

قومی خبریں سے مزید