آپ آف لائن ہیں
ہفتہ2؍جمادی الثانی 1442ھ 16؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سوادو کروڑ بچے سکولوں سے باہر ، دیہی علاقوں میں انٹر نیٹ رسائی محدود

اسلام آباد(جنگ نیوز) ایجوکیشن چیمپئن نیٹ ورک کے تعاون سے ملالہ فنڈ نے"لڑکیوں کی تعلیم اور کوویڈ ۔ 19" کے عنوان سے تحقیقی رپورٹ جاری کی ہے جس کا مقصد ملک بھر میں اسکولوں کی بندش سے طلبا و طالبات بالخصوص لڑکیوں کی تعلیم پر پڑنے والے اثرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پاکستان میں اس وقت 2 کروڑ 28 لاکھ بچّے اسکولوں سے باہر ہیں جن میں 53 فیصد یعنی ایک کروڑ 34 لاکھ لڑکیاں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کو ویڈ19نے تعلیمی نظام میں پہلے سے موجود عدم مساوات کو مزید بڑھا دیا ہے جس سے دور افتادہ علاقوں میں غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیاں زیادہ متاثر ہوئی ہیں، بالخصوص اندرونی دیہی اضلاع میں لڑکیوں کے اسکولوں سے ڈراپ آوٹ ہونے کی شرح بڑھ سکتی ہے۔ لاک ڈاون کے دوران حکومت کی طرف سے ذریعہ تعلیم کا بنیادی دارومدار ٹی وی، ریڈیو اور انٹرنیٹ پر تھا لیکن طلبا کی بڑی تعداد کو ان سب وسائل تک رسائی نہیں تھی۔ رپورٹ کے مطابق 60 فیصد طلبا و طالبات کے پاس سمارٹ فونز تھے لیکن ان میں سے بھی تین چوتھائی نے بتایا کہ انہیں صرف وقتی طور پر انٹرنیٹ تک رسائی ممکن تھی۔ مدیحہ رحمان نے بتایا کہ اگرچہ پاکستان میں Edtech کے موثر پلیٹ فارم موجود ہیں مگر ابھی تک اکثر دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ کی فراہمی ایک مسئلہ ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ تمام متعلقہ سماجی اداروں کے

ساتھ مل کر ملک بھر میں ہائی سپیڈ انٹرنیٹ کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ حکومت کی طرف سے اقدامات کے باوجود ہم اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتے جب تک ہمارے والدین اور ہماری کمیونٹی لڑکیوں کی تعلیم کی اہمیت کا ادراک نہیں کرتے اور جدید ٹیکنالوجی تک لڑکیوں کی رسائی کو یقینی نہیں بناتے۔ قمر نسیم کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں یہ بات تشویشناک ہے کہ خاص طور پر پسماندہ دیہی علاقوں میں غریب گھروں کی لڑکیاں دوبارہ اسکول جانے سے متعلق بہت کم امید رکھتی ہیں۔ اسکولوں کی بندش کے دوران لڑکیوں میں سے 40 فیصد نے گھریلو کام کاج میں وقت گزارا جبکہ لڑکوں میں یہ شرح صرف 11فیصد رہی۔ رپورٹ کے مطابق ہمارا تعلیمی نظام پہلے ہی محدود مالی وسائل سے متاثر ہے اور تعلیم کے مد میں مختص ہونے والا بجٹ ہماری سالانہ قومی آمدنی کا صرف 2 فیصد ہے۔ اس پس منظر میں کوویڈ19 کے بحران کے بعد تعلیمی نظام پر پڑنے والا اضافی بوجھ ہمارے وسائل پر شدید ضرب لگا سکتا ہے۔ یوتھ ایکسچینج ایڈووکیٹس پاکستان کی ڈائریکٹر اریبہ شاہد نے کہا کہ حکومت کو تعلیم کے ترقیاتی بجٹ میں فوری طور پراضافہ کرنا ہوگا ۔ترقیاتی بجٹ سے نئے اسکول بنائے جائیں، موجودہ اسکولوں کو اپ گریڈ کیا جائے، اساتذہ کے لیے ٹریننگ کا بندوبست کیا جائے، اساتذہ کو پڑھانے میں مدد دین والے آلات فراہم کیے جائیں، اسکولوں سے باہر لڑکیوں کو اسکولوں میں لانے کے لیے ضروری مالی امداد کی صورت میں ترغیب دی جائے اور داخلہ مہموں کا انتظام کیا جائے۔

اسلام آباد سے مزید